پاکستانی حکام بھارتی کشمیر میں کیا ایجنڈا لے کر پہنچے ہیں؟

طویل عرصے بعد انڈس واٹر معاہدے کے تنازعات کے تصفیے کے لیےپاکستانی ماہرین پر مشتمل ایک وفد جموں و کشمیر پہنچ گیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی وفد کے جموں و کشمیر کے دورے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم بھارتی حکام کے مطابق  انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت جموں اور کشمیر میں دو ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس کا معائنہ کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہرین سمیت ایک پاکستانی وفد اتوار کی شام کو بھارت پہنچا تھا، جس نے پیر کے روز جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔

پاکستانی وفد نے انڈس واٹر معاہدے کے تحت جموں و کشمیر میں بجلی کے ان منصوبوں کا معائنہ کیا، جس پر اسے اعتراضات ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کو کشن گنگا یعنی دریائے نیلم پر تعمیر ہونے والے ایک بھارتی پروجیکٹ اور رتلے منصوبوں کے حوالے سے بعض تکنیکی اعتراضات ہیں،حکام نے بتایا کہ پاکستانی ماہرین سمیت وفد میں شامل دیگر غیر جانبدار ماہرین نے وادی چناب میں کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے منصوبوں کا معائنہ کیا۔

واضح رہے کہ سن 2016 میں پاکستان نے بھارت کے مذکورہ الیکٹرک پاور پراجیکٹس کے ڈیزائن کی خصوصیات پر اعتراضات کیے تھے اور ورلڈ بینک سے ‘غیر جانبدار ماہرین’ کے ذریعے اس کے تصفیے کی درخواست کی تھی۔تاہم بعد میں پاکستان نے اس درخواست کو واپس لے لیا تھا اور ثالث عدالت کے ذریعے فیصلہ کرانے کی کوشش کی تھی۔ دوسری جانب بھارت کا اصرار اس بات پر تھا کہ اس مسئلے کو مکمل طور پر ‘غیر جانبدار ماہرین’ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

بالآخر ناکام مذاکرات کے بعد عالمی بینک نے اکتوبر 2022 میں ایک غیر جانبدار ماہر اور ثالث عدالت کا چیئر مقرر کیا۔ تاہم بھارت نے اس پر بھی اعتراض کیا اور انڈس واٹر معاہدے میں ہی ترمیم کی تجاویز پیش کر دیں۔البتہ جولائی 2023 میں ثالث عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ ”پاکستان کی ثالثی کی درخواست کے ذریعہ پیش کردہ تنازعات پر غور کرنے اور ان کا تعین کرنے کی مجاز ہے۔”اس کے بعد پاکستان نے رواں برس مارچ میں اس عمل کے تحت اپنا پہلا میموریل دائر کیا، جس میں اس کے قانونی کیس کو دستاویزات کے ساتھ درج کیا گیا تھا۔

پھر ایک ماہ کے بعد ثالث عدالت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے معائنے کے لیے ایک ہفتے کا دورہ کیا اور عدالت کو دریائے سندھ کے نظام کے تحت پانی کے بہاؤ، ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے ڈیزائن اور آپریشن کے عمومی پہلوؤں سے واقف کرایا تھا۔

بعدازاں بھارت نے ثالث عدالت کی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا اور اس نے اس سلسلے میں اگست 2023 میں غیر جانبدار ماہرین کو ایک یاد داشت پیش کی تھی۔گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان نے ویانا میں غیر جانبدار ماہرین کی طرف سے منعقدہ فریقین کے دوسرے اجلاس میں شمولیت اختیار کی، جس میں متنازعہ سائٹ کے دورے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ انڈس واٹر معاہدے کی بعض دفعات کے تحت ایک تین رکنی پاکستانی وفد نے جنوری 2019 میں آخری بار ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس کا معائنہ کیا تھا۔ لیکن اس کے فوری بعد بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا اور تبھی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منجمد ہو کر رہ گئے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ”انڈس بیسن” کے چھ دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں کا پانی کون ملک اور کیسے استعمال کرے گا۔ ان چھ میں سے تین دریا پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ باقی تین بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ان دریاؤں کو مشرقی اور مغربی دریا بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ دریائے راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانیوں پر بھارت کا حق ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں کا پانی بھی استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے اس پر بعض سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ بھارت کو ان دریاؤں پر بجلی گھر بنانے کی بھی اجازت ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ ان کے پانی کا بہاؤ ایک مقررہ حد سے کم نہ ہونے پائے۔کشن کنگا جہلم کا ہی ایک معاون دریا ہے جو پاکستان میں دریائے نیلم کے نام سے معروف ہے۔ بھارت نے اسی دریا پر لائن آف کنٹرول کے بالکل قریب ایک بجلی گھر بنایا ہے، جسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کہتے ہیں اور اسی پر دونوں ملکوں کے مابین شدید تنازعات ہیں۔

Back to top button