پاکستانی طلبا آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں پیچھے کیوں ہیں؟

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عوام کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن اس کے کورسز میں جدت کی ضرورت ہے تاکہ کورسز سے مستفید ہونے والے طلبا عملی میدان میں آگے نکل سکیں، ہمارے ہاں آج بھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا برسوں پرانا کورس پڑھایا جا رہا ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ایکسپرٹ اسامہ احمد نے کہتے ہیں اگر میں آے آئی کی اہمیت کے حوالے سے بات کروں تو ایپل کی ایک ریسرچ کے مطابق اگلے 3 برس کے اندر دنیا کے 40 فی صد لیبر کو اپنی اسکلز بدلنا پڑیں گی، اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا میں اے آئی کی وجہ سے کتنی زیادہ تبدیلیاں آنے والی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یو بی ایل کی ویب سائٹ پر ان کا ایک اے آئی چیٹ باکس موجود ہے جو آپ کے سوالات کا مکمل طور پر جواب دیتا ہے۔ میں خود بھی پاکستان کی بڑی کمپنیوں کے لیے کسٹمر سپورٹ کے پراڈکٹ تیار کر رہا ہوں جو صارف کو ہر طرح کی سہولت کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔اسامہ احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں کے حوالے سے بات کریں تو پاکستان میں صرف 2 یونیورسٹیاں اے آئی میں پی ایچ ڈی کروا رہی ہیں اور جہاں تک گریجویشن لیول پر یونیورسٹیز میں اے آئی کا کورس پڑھایا جا رہا ہے۔حتیٰ کہ پاکستان کی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیز میں بھی 5 سال پرانا کورس پڑھایا جا رہا ہے اور وہ 3 سال میں صرف طلبہ کو بہت ہی بنیادی چیزیں پڑھا رہے ہوتے ہیں۔جو طلبا سمجھتے ہیں کہ وہ مارکیٹ میں جاتے ہی بہت بڑے اے آئی ڈیویلپر بن جائیں گے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ جتنے برس میں انہیں بد قسمتی سے اے آئی کی بنیاد پڑھائی جائے گی اتنے میں دنیا بدل چکی ہوگی اور ان بچوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوں گے۔اس وقت دبئی 216 سیلف ڈرائیونگ کارز منگوا چکا ہے، یہ تعداد بہت کم ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ مزید نہیں خرید سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیسلا اور سیلف ڈرائیونگ کارز بنانے والی کمپنیاں اتنی تیزی سے کارز بنا نہیں پا رہیں، ورنہ دبئی کے لیے کیا رکاوٹ ہوگی وہ تو 20 ہزار بھی منگوا لیں گے۔پاکستان میں اس وقت 10 سے زائد یونیورسٹیاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گرایجویشن کروا رہی ہیں، ان یونیورسٹیز میں عبدالولی خان یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی، کامسیٹس یونیورسٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلامیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز شامل ہیں۔اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی کے اے آئی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نے بتایا کہ ہماری یونیورسٹیز میں بھی جدید ڈیجیٹل لیبز موجود نہیں، ہم بچوں کو تھیوری زیادہ اور پریکٹیکل کم پڑھا رہے ہیں، بدقسمتی سے میں بھی اسی فیکیلٹی کا حصہ ہوں جو وہی کورس پڑھانے پر مجبور ہے جو طلبا کو صرف بنیادی اسکلز ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ایک استاد تو اپنے طلبا کو جدید چیزیں پڑھانا چاہتا ہے مگر اتنے وسائل موجود نہیں، صرف یہی نہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر فیکیلٹی ممبر خود بھی اس میں تجربہ کار نہیں ہیں تو بچوں کو کیسے مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کی جنگ کے لیے تیار کر سکیں گے۔محمد حمزہ اس وقت یورپ کی ایک یونیورسٹی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گرایجویشن کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں انہوں نے پہلے پاکستان کی ایک بڑی یونیورسٹی میں اے آئی کے کورس میں داخلہ لیا تھا اور انہوں نے پاکستان میں قریباً 3 سمسٹرز پڑھے تھے جس کے بعد انہوں نے یورپ کی جانب رخ کیا، حمزہ کہتے ہیں جب میں اس کی پڑھائی کے متعلق جانتا تو مجھے ڈپریشن شروع ہو جاتا تھا جس کے بعد میں نے یونیورسٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ جو چیز میں نے پہلے 3 سمسٹر میں پاکستان میں پڑھی تھی وہ یہاں آکر پہلے سمسٹر کے ایک کورس میں پڑھی، یہ میری زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ تھا، مگر مجھے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے افسوس ہوتا ہے کہ وہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے صرف پڑھائی اور ڈگری کے نام پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔

Back to top button