پاکستان ایک خونی انقلاب کے دہانے پر کیوں کھڑا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی جاوید چودھری نے کہا ہے کہ ملک ہاتھ سے نکل چکا ہے، اور اس وقت ہم حقیقتاً انقلاب کے اس دہانے پر کھڑے ہیں جہاں اب صرف ایک لاش گرنے کی دیر ہے، پھر یہ ملک کسی سے بھی نہیں سنبھالا جائے گا ہم بکھر جائیں گے، ہم ایک ملک نہیں رہ پائیں گے، نعوذ باللہ پاکستان خواب کی طرح ٹوٹ جائے گا۔ میں لوگوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا لیکن آپ بھی جلد ہی میرا موقف ماننے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں آپ ملک میں بے روزگاری دیکھ لیجیے۔ پاکستان تاریخی بے روزگاری کا شکار ہے، روزگار کی شرح ایک اور دس ہے، دس لوگوں میں سے ایک کماتا ہے اور نو کھاتے ہیں لیکن اب کمانے والوں کی ہمت بھی جواب دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک میں اتنی ذیادہ بے روزگاری کی وجہ کیا ہے؟ اسکا سادہ جواب ہے ہنر مندی اور غیرکاروباری ماحول۔ ہم نے اس ملک میں کام کرنے والوں، روزگار دینے والوں اور کام یاب ہونے والوں کو گالی بنا دیا ہے۔ آپ اگر دہی بھلے کی ریڑھی بھی لگا لیں تو خاندان سے لے کر حکومت تک ہر شخص آپ کا مخالف ہو جائے گا۔ کوئی آپ کو دلاسا تک نہیں دے گا، ہم نے آج تک اکنے لوگوں کو کوئی سکل یا ہنرمندی سکھانے پر توجہ نہیں دی۔ اس وقت ملک میں دس کروڑ لوگ بے روزگار ہیں لیکن ڈرائیور تلاش کرتے ہیں تو کئی سال تک ڈرائیور نہیں ملتا، اسی طرح کوئی اچھا خانسامہ، مستری، الیکٹریشن اور پلمبر بھی نہیں ملتا۔ ملک کی صورتحال یہ ہے کہ ایوان صدر تک کی ٹونٹیاں لیک کر رہی ہیں اور عمران خان بھی وزیراعظم ہاوس کا گندا کھانا کھا کر فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بقول جاوید چودھری، ملک میں مہنگائی کی حالت یہ ہے کہ کھانے پینے کے سامان کی قیمتیں بھی روزانہ اسٹاک ایکسچینج کی طرح اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ پیچھے رہ گئی ریاست تو یہاں تو کرونا امدادی فنڈ میں کرپشن کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ بھی آئی ایم ایف ڈنڈا دے کر جاری کرواتا ہے جس میں سو ارب سے زائد کے گھپلے نکلے ہیں۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ گورنر اسٹیٹ بینک ہو، سیکریٹری خزانہ ہو یا وزیر خزانہ، انکی تقریروں کے تمام فیصلے بھی اب آئی ایم ایف سے ہوتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ایسی نرالی حکومت آئی ہے جس نے ملک کے ہر طبقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آپ ملک کا کوئی سیکٹر دیکھ لیں، آپ کو ہر دیوار کے پیچھے سے سسکیاں سنائی دیں گی لیکن ان سنجیدہ حالات میں سنجیدگی کا عالم یہ ہے ملک میں آڈیو آڈیو اور ویڈیو ویڈیو کا کھیل ہو رہا ہے۔
بقول جاوید چودھری، ایک آڈیو آتی ہے تو جواب میں دوسری طرف سے بھی آڈیو آ جاتی ہے اور پورا ملک اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ اب اس دوران شنید ہے کہ لندن سے چند مزید ویڈیوز بھی آ رہی ہیں۔ یہ ویڈیوز نومبر 2018 میں تب بنائی گئی تھیں جب چیف جسٹس ثاقب نثار انیل مسرت کی دعوت پر ڈیم کے لیے فنڈ جمع کرنے کے لیے لندن گئے تھے۔ وہاں بابا رحمتے مختلف اوقات میں اداروں کے بارے میں جو کچھ بھی فرماتے رہے، لوگ ریکارڈ کرتے رہے۔ اب یہ ویڈیوز کسی بھی وقت مارکیٹ میں ہوں گی۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی تیار ہے جس میں شریف فیملی کے ایک اہم رکن کسی فارم ہاؤس میں تنظیم سازی کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ کہتے ہیں آپ ملک کے چیلنجز دیکھیں اور ریاست اور سیاست کے ایشوز ملاحظہ کریں، سوال یہ ہے کہ اس سب کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ وہی نکلے گا جو ایسے حالات میں نکلا کرتا ہے، لیکن مجھے افسوس اس نتیجے کا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فی تولہ سونا 200 روپے مہنگا
مجھے افسوس ملک کے طاقتور عہدیداروں کے رویوں پر ہے، یہ لوگ کھلی آنکھوں سے چھپکلی کھا رہے ہیں اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی‘ کیوں؟ اس کیوں کا فیصلہ بہرحال مورخ لکھے گا اور مورخ اب زیادہ دور نہیں ہے‘ اللہ اس ملک کی حفاظت کرے ملک تقریباً ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
