ٹرمپ کی وارننگ نظر انداز، اسرائیل کے ایران پر جوابی حملے

اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران پر جوابی حملے کر دئیے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے ایک روز بعد اسرائیلی فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
غیر ملکی اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران، تبریز اور اصفہان میں یکے بعد دیگرے متعدد دھماکے سنے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوتے دکھائی دیے جبکہ سکیورٹی اداروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ تہران نے ان حملوں کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دیا تھا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے امریکا کی جانب سے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی اپیلوں کے باوجود کیے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کر کے خطے میں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے پر زور دیا تھا اور ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔
اس کے باوجود اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں ایک نئے اور وسیع تر تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی حکام کی جانب سے حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق کئی شہروں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
