کپتان حکومت کب تک صدارتی آرڈیننسز کے سہارے چلے گی؟

https://youtu.be/bzU8dlMebO8
وزیراعظم عمران خان کی ہائبرڈ حکومت نے قانون سازی کی بجائے صدارتی آرڈیننسز کے سہارے ملکی معاملات چلانے کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جسے کہ اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ اسے سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے اس نے ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ آرڈیننس جاری کیے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن حکومتی مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک جو بھی قوانین آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے ہیں وہ یا تو آمرانہ تھے اور یا ان میں حکومت کا اپنا مفاد تھا اس لیے اپوزیشن سے قانون سازی کے لئے مدد بھی نہیں مانگی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اب اگر حکومت نیب کے متنازع ترین چیئرمین کو توسیع دینے کے لیے کوئی قانون سازی کرنے کی کوشش کرے گی تو اپوزیشن اس میں مددگار کیوں ثابت ہوگی؟ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہاں اگر حکومت عوام کے فلاح کے لیے کوئی قانون سازی کرے تو اس میں اپوزیشن ہمیشہ اس کا ساتھ دیتی ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنے تین برس کے اقتدار کے دوران 77 صدارتی آرڈیننس جاری کیے جس میں 20 ایکٹ آف پارلیمنٹ 10 مختلف عدالتوں میں چیلنج ہوئے اور 50 سے زائد آرڈیننس لیپس ہوگئے۔ کپتان کی حکومت سے جاری کردہ تازہ ترین آرڈیننس چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے ہے جو کہ جسٹس جاوید اقبال کو توسیع دینے کے لیے لایا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ماضی میں کچھ آرڈی نینس سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیئے تھے۔
پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنے پہلے تین سال میں مجموعی طور پر اب تک 77 آرڈیننس جاری جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے پہلے تین برسوں میں 29 آرڈیننس جاری کیے تھے۔
ن لیگ کے پاس دونوں ایوانوں میں اکثریت ہونے کی وجہ سے ان کے تمام آرڈنینس بلوں کی صورت میں منظور ہوئے تاہم تحریک انصاف پیش کیے گئے 77 آرڈیننسوں میں سے صرف 20 کو ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ کا درجہ دلوا سکی۔ موجودہ حکومت نے جو اہم آرڈیننس جاری کیے ان میں ٹیکس قوانین میں ترمیم سے متعلق تین آرڈیننس، انتخابی اصلاحات سے متعلق تین آرڈیننس، سی پیک اتھارٹی کے قیام کا آرڈیننس، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی آرڈیننس ، خواتین کو وراثت کا حق دلوانے کا آرڈیننس، پاکستان میڈیکل کونسل کے قیام کا آرڈیننس، اور ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔ ان میں سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی تحلیل سے متعلق آرڈینیس، سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پر کرانے سے آرڈینیس، ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس اور 60 دن میں حلف اٹھانے کی شرط اٹھانے والے آرڈیننس سمیت ساتھ دیگر آرڈیننس مختلف عدالتوں میں چیلنج ہوئے۔
پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنے والے آرڈیننس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو بحال کر دیا تھا جس کے بعد حکومت نے قانون سازی کا راستہ اپناتے پاکستان میڈیکل کونسل قائم کی۔
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق آرڈیننس جاری کیا تو اس میں شرط رکھی گئی کہ صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے مانگی ہے تو اس آرڈیننس کا مستقبل اس رائے سے مشروط ہوگا۔ مختلف جماعتوں اور بار کونسلز نے اس آرڈیننس کو بھی چیلنج کیا لیکن سپریم کورٹ کی رائے سامنے آنے کے بعد یہ اپنی موت آپ مر گیا۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی آرڈیننس بیک وقت سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس میں جزوی حکم امتناعی دیتے ہوئے اس پر فیصلہ ہونے تک نیا چیئرمین ایچ ای سی تعینات نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ 30 اکتوبر 2020 کو وفاقی حکومت نے ایک ہی دن میں سات آرڈیننس جاری کیے جسے مسلم لیگ ن کے ایم این اے محسن نواز رانجھا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت صدر کے آرڈیننس جاری کرنے کے اختیار کی تشریح کرتے ہوئے اسے ہنگامی حالات جیسے جنگ، قحط یا طوفان وغیرہ تک محدود کرے۔ پارلیمان کی موجودگی میں آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے تاہم یہ تمام آرڈیننس اپنی مدت پوری کرنے پر تحلیل ہوچکے ہیں اور ان کو قانون کی شکل نہیں دی جا سکی۔
آرڈیننسز کے علاوہ موجودہ حکومت کی جانب سے تین پارلیمانی سالوں میں مجموعی طور پر 146 بل پیش کیے گئے جو سابق حکومت سے تعداد میں 40 فیصد زائد ہیں تاہم ان میں سے دونوں ایوانوں نے الگ الگ 135 بلوں کی منطوری دی۔ تاہم ان میں سے بھی صرف 58 کو ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ کا درجہ ملا یعنی دونوں ایوانوں نے اس کی منظوری دے کر صدر مملکت کو بھیجا اور انہوں نے دستخط کرنے کے بعد قانون کی شکل دی۔ خیال رہے کہ آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی صدر مملکت کا اختیار ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر حکومت آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کے اختیار میں توسیع کرتی ہے تو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے باوجود اپوزیشن کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ حکومت کو اس فیصلے سے روک سکیں۔ سابق وزیر قانون خالد رانجھا کے مطابق عدالت بارہا کہہ چکی ہے کہ صدر مملکت کا آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار عدالت ختم نہیں کر سکتی۔ اس صورت میں اپوزیشن کے پاس حکومت کی بد نیتی ثابت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تاہم عدالت میں حکومتی بد نیتی ثابت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔
