پاکستان میں ایشیائی نسل کے واحد ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی کیوں؟

1985 سے قید و بند کی صعوبتوں کے شکارپاکستان میں ایشیائی نسل کے واحد کاون نامی ہاتھی کو ذہنی توازن بگڑنے اور مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر اسلام آباد کے چڑیا گھر سے کمبوڈیا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کاون کو تفریحی مقاصد کے استعمال سے سبکدوش کر کے کمبوڈیا میں واقع ہاتھیوں کے لیے مخصوص پناہ گاہ منتقلی کے فیصلے کو جہاں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے وہیں کاون کی چڑیا گھر سے منتقلی پر بچے اداس نظر آتے ہیں۔
کاون کو تفریحی مقاصد کے استعمال سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ مئی 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے جس میں عدالت نے کاون کو آزاد کرنے اور اس کے لیے مناسب پناہ گاہ کی تلاش کا حکم صادر کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ نے ہاتھیوں کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس نے کاون کی سبکدوشی اور منتقلی کے لیے کمبوڈیا میں واقع ہاتھیوں کے لیے مخصوص پناہ گاہ ایلیفنٹس وائلڈ لائف سینکچیوری کا انتخاب کیا۔ حکام کے مطابق جلد ہی کمبوڈیا سے ایک ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ رہی ہے جو کاون کا طبی معائنہ کرے گی۔ کاون کو کس طرح اور کب کمبوڈیا لے جایا جائے گا اس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ تاہم کاون کی سبکدوشی اور کمبوڈیا منتقلی کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ 1985 میں پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق سری لنکا کے سرکاری دورہ پر گئے، دورے میں سابق صدر کے اہل خانہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس دورے کے موقع پر سری لنکن حکومت نے جنرل ضیا الحق کی چھوٹی صاحبزادی زین ضیا الحق کو ایک نومولود ایشیائی ہاتھی تحفہ کے طور پر دیا۔ اس ہاتھی کا نام تھا کاون رکھا گیا۔ پاکستان آنے کے بعد کاون کا زیادہ وقت اسلام آباد چڑیا گھر میں ہی گزرا جہاں اسلام آباد کے شہری اور ملکی و غیر ملکی سیاح اسے دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے۔
چڑیا گھر انتظامیہ نے کاون کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے 1990 میں بنگلہ دیش سے سہیلی نامی ہتھنی منگوائی۔ سہیلی لمبے عرصہ تک کاون کی ساتھی کے طور پر اس کے ساتھ رہتی رہی۔ تاہم سہیلی کا 2012 میں انتقال ہوا۔ اس وقت کاون کی عمر چھتیس سال بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہاتھی عام طور پر چالیس سے پنتالیس سال تک زندہ رہتے ہیں۔ یوں کاون اپنی زندگی کے آخری نو سے دس سال کمبوڈیا کی پناہ گاہ میں آزادی سے گذارنے جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کا مرغزار چڑیا گھر پنجروں پر مشتمل چڑیا گھر ہے۔ یہاں حیوانات کو قدرتی ماحول کے بجائے پنجروں میں بند رکھا جاتا ہے جو ان کے لیے نہایت ہی نامناسب اور غیر قدرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہاتھی جو جسامت کے لحاظ سے ایک بڑا جانور ہے کو زیادہ بڑی جگہ درکار ہوتی ہے بلکہ ہاتھی قدرتی ماحول یعنی جنگل میں زیادہ خوش رہتے ہیں۔ عام طور پر ہاتھی دن میں پچیس سے دو سو کلومیٹر تک کا فاصلہ پیدل چل کر طے کرتا ہے جبکہ چڑیا گھر کے پنجرے میں ایسا قطعا ممکن نہیں ہوتا جبکہ اسلام آباد میں پڑنے والی گرمی بھی ایشیائی ہاتھی کاون کے لیے مناسب نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق کاون کئی بیماریوں میں مبتلا لگتا ہے اور اس کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کاون کی بعض غیر معمولی اور پرتشدد حرکتوں کے باعث 2012 میں اسے کچھ عرصے کے لیے زنجیروں سے بھی باندھ کر رکھا گیا تھا تاہم ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کے بعد زنجیریں ہٹا دی گئی تھیں۔
رواں سال مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کاون نامی نفسیاتی مسائل کے شکار ایشیائی ہاتھی کو اسلام آباد کے چڑیا گھر سے کمبوڈیا منتقل کرنے کے حکم کے مطابق کاون کو ستمبر سے پہلے کمبوڈیا کے ایک جائے امان میں منتقل کردیا جائے گا اور کورٹ نے بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ مرغزار چڑیا گھر کا انتظام سنبھالنے کے ساتھ ساتھ کاون کی محفوظ منتقلی کی نگرانی بھی کرے۔ جج نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود دیگر 878 جانوروں کو بھی عدالتی حکم کے بعد 60 دنوں کے اندر اندر منتقل کردیا جائے۔
خیال رہے کہ عدالت میں کاون کے ساتھ روا سلوک سے متعلق مسائل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ہاتھی اپنی ‘جسمانی، معاشرتی اور طرزِ عمل کی ضروریات’ سے متعلق ‘نامناسب’ حالات میں رہ رہا ہے۔ اسے 2012ء سے باقاعدگی کے ساتھ ایک چھوٹے سے احاطے میں زنجیروں سے جکڑ کر الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ اس کا کھانا ‘غیر معیاری’ اور ‘ناکافی’ ہے، اور اس کے مہاوتوں یا نگہبانوں کا اس کے ساتھ ‘تعلق منفی’ ہے۔
2015 میں ثمر خان نامی طالبہ نے ہاتھی کی حالتِ زار پر دنیا کی توجہ دلانے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا تھا۔ثمر خان کے مطابق کاون کی تکلیف بہت سے لوگوں نے محسوس کی، اور اس کے جذباتی مداحوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے علاوہ لوگوں نے پاکستانی سفارت خانوں کے باہر احتجاج بھی کیا’۔ بعد ازاں سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے اور چڑیا گھر کے عہدیداروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا موقع ملا اور بالاخر کاون کو اس قید سے نجات ملنے جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ یورپ میں قید رکھے جانے والے ایشیائی ہاتھیوں کی اوسط عمر 47.6 سال اور شمالی امریکا میں 41.9 سال ہے۔ وہ جنگل میں 60 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار قرار دیے گئے ایشیائی ہاتھی کو انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر نے سرخ فہرست میں شامل کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button