پاکستان میں بچے کی پیدائش پر کتنا خرچ آتا ہے؟

راولپنڈی کے ایک بڑے نجی اسپتال میں نورین کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی۔ سب ٹھیک تھا، لیکن جنوری کی شدید ٹھنڈ میں بچے کو آپریشن تھیٹر سے بچوں کی نرسری میں منتقل کرنے کے دوران اسے جس ٹرالی میں رکھا گیا تھا اسے عجلت میں ڈھانپا نہیں گیا اور وہ شدید نمونیہ میں مبتلا ہوگیا۔ نتیجتاً اسے آٹھ روز تک نرسری میں رہنا پڑا۔
اسپتال کا بِل جو یوں تو ایک لاکھ چند ہزار تھا مگر اضافی روز بچے کو اسپتال میں رکھنے کی وجہ سے چار لاکھ سے بھی اوپر پہنچ گیا۔ یہ رقم ادا کرنا اتنا آسان نہیں تھا کیوں کہ والدین کا بجٹ اس سے نصف تھا۔ تنسیلہ بھی ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر ہیں جن کے تین بچے ہیں۔ ان کے پہلے بچے کی پیدائش سرکاری اسپتال میں ہوئی لیکن وہاں بچوں کی نرسری کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہوئی اور بڑے اسپتال پہنچتے پہنچتے بچہ جانبر نہ ہوسکا۔ ان کے بقول بہتر سہولت نہ ملنے پر انہوں نے دوسرے بچے کی پیدائش کے لیے ایک اور سرکاری اسپتال میں بطور پرائیوٹ مریض داخل ہونے کو ترجیح دی اور ایک لاکھ سے زیادہ فیس دے کر سی سیکشن کروایا لیکن ہر بار ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد وہ نسبتاً کم فیس لینے والے نجی اسپتال گئیں اور تیسرے اور پھر چوتھے بچے کی پیدائش ممکن ہوئی۔ مگر اسلام آباد کے نواح میں رہنے والی انیسہ کےلیے سرکاری اسپتال کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ وہ کہتی ہیں ابتدا میں کارڈ بنواتے ہوئے دھکے تو کھانے پڑتے ہیں لیکن پیسہ نہیں لگتا۔ ان کا پہلا انتخاب پمز اسپتال تھا لیکن وہاں انہیں سات ہزار روپے آپریشن کے سامان اور دوا اور کچھ ٹیسٹ کےلیے دینے پڑے تاہم اگلے بچے کی پیدائش پر انہوں نے پولی کلینک کا انتخاب کیا جہاں ان سے کوئی فیس نہیں لی گئی۔
یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بچہ پیدا کرنے پر کتنا خرچ آتا ہے، ماں اور بچے کی صحت کی صورت میں بھی یعنی اگر پیدائش کے دوران درست سہولیات نہ ملیں تو زچہ اور بچہ دونوں کو کن مشکلات سے گزرنا پڑ سکتا ہے؟
مجھے پولی کلینک اسپتال کے شعبہ ذچہ و بچہ کے حکام نے آن ریکارڈ معلومات دینے یا ریکارڈنگ کی اجازت دینے سے معذرت کرلی۔ تاہم یہ تصدیق کی گئی کہ روزانہ کی بنیاد پر حاملہ خواتین کی رجسٹریشن 200 اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں پرائیویٹ حاملہ خواتین کےلیے رجسٹریشن کا مخصوص دن ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے خواتین کو زچگی کے آٹھویں ماہ میں بھی رجسٹرڈ کر لیا جاتا ہے کیونکہ انہیں حمل کے پہلے یا تیسرے ماہ کے دوران آنے کو نہیں کہا جاتا۔ لیبر روم کے باہر موجود کچھ مریضوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات ہوئی کسی کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع تھی، تو کچھ عزیز و اقارب بچے کی ولادت کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ یہاں ایسی خواتین بھی موجود تھیں جو احتیاطاً کارڈ بنوانے آتی ہیں تاکہ اگر بچے کی پیدائش کے وقت کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اسپتال آ سکیں لیکن عام طور پر وہ گھر میں دائی کے ہاتھوں بچے کی پیدائش کو ترجیح دیتی ہیں۔ سرکاری اسپتال میں آپ دس روپے سے 50 روپے تک داخلے یا رجسٹریشن کی پرچی کی فیس ادا کرکے بچے کی پیدائش کرسکتے ہیں۔ میں نے اسلام آباد راولپنڈی اور کچھ دیگر شہروں میں نجی اسپتالوں میں نارمل اور آپریشن کے ذریعے زچگی کے خرچ کا پتہ لگانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ فیس کم سے کم پانچ سے 10 ہزار اور زیادہ سے زیادہ دو لاکھ اور اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ ان اسپتالوں کے استقبالیے پر جا کر آپ بچے کی پیدائش کےلیے باقاعدہ طور پر پیکج کی فہرست دیکھ سکتے ہیں، زچگی سے پہلے اس وقت اور بعد از زچگی تمام سہولیات کا ایک مجموعی بجٹ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مریم راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پنجاب کے چند شہروں میں پرائیوٹ اور سرکاری اسپتال میں کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ زچگی اور بچوں کی پیدائش کے بارے میں نجی اور سرکاری دونوں اسپتالوں میں آپ کا کیا تجربہ رہا ہے؟۔ ڈاکٹر مریم نے اپنی گفتگو کا آغاز بنیادی صحت کی سہولت دینے کےلیے یونین کونسل کی سطح پر موجود بنیادی مرکز صحت سے کیا جن کی ایک ضلعے کی سطح پر تعداد درجنوں میں ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر سرکاری سطح پر دور دراز علاقوں کی بات کی جائے تو بی ایچ یو یعنی بنیادی مرکز صحت میں ایسا بھی ہے کہ خاتون کے بجائے مرد ڈاکٹر ہوتا ہے اس کی وجہ سے مریضہ کو زچگی کی سہولت دینے کے بجائے بڑے اسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں خواتین زیادہ تر گائنی ڈاکٹر بنتی ہیں اور اگر میل ٹو فی میل تناسب کی بات کی جائے تو عموماً مرد ڈاکٹر زیادہ ہوتے ہیں جو دوران ٹریننگ گائنی کیس کی تربیت کا آپشن لیتے ہی نہیں۔ تاہم وہ بتاتی ہیں مرد ڈاکٹر تو حاملہ خاتون کو کسی اسپتال میں ریفر کر دیتے ہیں لیکن اب ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کیس پیچیدہ ہو جائے تو آکسیجن کی کمی سے ماں یا بچے میں سے کسی ایک کی موت ہو جائے۔ ایسے بچوں کی پیدائش ہو بھی جائے تو ان میں سیریبلر پیلسی یعنی وہ دماغی طور پر معذور پیدا ہو سکتے ہیں۔
وہ انیسہ کی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ سرکاری سطح پر مریض کو رجسٹریشن اور چیک اپ کےلیے جاتے ہوئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ پرائیویٹ سطح پر نہیں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مریم نے کہا کہ انتظار کی وجہ تو مریضوں کی بڑی تعداد ہے اب سرکاری سطح پر سہولیات میں اضافہ بھی ہو رہا ہے تاہم وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کا رویہ اکثر و بیشتر بہت تلخ بھی ہوتا ہے۔ تنسیلہ جن کے دو بچے پرائیویٹ اسپتال میں پیدا ہوئے انہیں لگتا ہے کہ سرکاری سطح پر ڈاکٹرز زیادہ تجربہ کار ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس زیادہ کیسز ہوتے ہیں۔ اس بارے میں ڈی جی خان کے ایک بنیادی مرکز صحت میں خدمات انجام دینے والی انچارج ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’واقعی ایسا ہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نجی اسپتال میں آپ کو اگر ایمرجنسی میں جانا ہے تو ضروری نہیں کہ 24 گھنٹے آپ کو ڈاکٹر میسر ہو لیکن سرکاری سطح پر جب ایک یونٹ کے ڈاکٹر نے آپ کی رجسٹریشن کرلی تو پھر وہ مریضہ جنہیں بکڈ پیشنٹ کہا جائے گا رات کے جس بھی پہر آئیں اس مخصوص یونٹ کی ایک نہ ایک ڈاکٹر ضرور موجود ہوگی جو ان کا کیس ہینڈل کرے گی۔ لیکن ڈاکٹر مریم کا تجربہ مختلف ہے وہ کہتی ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ہر ڈاکٹر پوسٹ گریجوئیشن کے پہلے یا دوسرے سال میں ہے تو وہ زچگی کے کیس سینئر ڈاکٹر کی زیر نگرانی ادا کرے گا تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ پی جی ون بھی اپنی مرضی سے سرجریز کر رہی ہوتی ہیں، کنسلٹنٹ ہوتا نہیں ہے اور جونیئر ڈاکٹر سمجھتی ہیں چلیں کام ہو جائے۔ لیکن اس میں گردوں کی نالیاں کٹ سکتی ہیں۔ آنتوں میں سوراخ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر مریم کے خیال میں ڈاکٹروں پر یہ الزام کہ وہ زیادہ سی سیکشن کرتے ہیں درست نہیں تاہم ان کی نظر میں دائیوں کے ہاتھوں خواتین کی صحت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آئی سی یو میں ڈیوٹی کے دوران تین ماہ میں روزانہ کی بنیاد پر سات سے دس ایسی خواتین آتی تھیں جو ڈلیوری کے بعد ہائی بلڈ پریشر جسے ایکلینشیا کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کہ بنیادی مرکز صحت میں کام کرنے والی ڈاکٹر نے بتایا کہ ایسی بہت سی مائیں آتی ہیں جو کمر درد کی شکایت کرتی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ یہ حمل کے بعد کا نارمل خون ہے تاہم صورت حال اس کے برعکس ہوتی ہے اور وہ ناتجربہ کار دائی کے ہاتھوں بچے کی پیدائش کے دوران انہیں کسی جگہ کٹ لگنے سے نکل رہا ہوتا ہے۔ تنسیلہ کہتی ہیں کہ زچگی کے وقت وہاں موجود صفائی کرنے والا عملہ کام کی زیادتی کے باعث دباؤ کا شکار ہوتا ہے، ابھی وہ پچھلی مریضہ کی ڈلیوری کے بعد صفائی کر رہے ہوتے ہیں کہ دوسری طرف ایک اور بچہ پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال سے نجی اسپتال میں منتقل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں مریضوں کا اتنا لوڈ ہوتا ہے کہ ایک بستر پر دو دو، تین تین مریض ہوں اور ایمرجنسی کیسز کی وجہ سے پلان کیس کو کئی گھنٹے تک انتظار کروایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مریم اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ لیبر روم میں ہمیں مجبوری میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو لیٹانا پڑتا ہے یہ نارمل بات ہے، چاہے اسپتال اسلام آباد کا ہو یا کسی دور دراز علاقے کا۔ ان کی نظر میں اس سے سب سے بڑا مسئلہ مریضہ کی صحت کو ہو سکتا ہے۔ عموماً خواتین کی سکریننگ نہیں کی جاتی کسی کو ٹی بی ہو سکتی ہے، ہیپیٹائٹس سی ہو سکتا ہے کوئی بھی ایسی اور بیماری ہو سکتی ہے جو سانس کے ذریعے قریب بیٹھنے سے منتقل ہو جائے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جاتی۔ بنیادی مرکز صحت کی سربراہ ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ بی ایچ یو میں الٹراساؤنڈ کی سہولت ہونی چاہیے کیوں کہ ہمارے پاس جب مریض آئیں تو ہم انہیں مکمل طور پر چیک کرسکیں کیوں کہ اکثر خواتین حمل کے 20ویں ہفتے سکریننگ نہیں کرواتی کیونکہ وہ دور کے اسپتال نہیں جانا چاہتی۔ نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ بچے کے حوالے سے کسی بیماری یا ابنارمیلٹی سے بے خبر رہتی ہیں۔ ڈاکٹر مریم کہتی ہیں کہ تحصیل سطح پر بڑے اسپتال میں بھی اکثر ڈاکٹر مریضوں کو باہر سے الٹراساؤنڈ کروانے کا کہتی ہیں کیوں کہ اسپتال کی مشینوں سے واضح نتائج نہیں آتے۔ یوں مریضہ سرکاری اسپتال کے فری علاج کا کارڈ تو رکھتی ہیں لیکن انہیں باہر سے ٹیسٹ کروا کر ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر مریم کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بنیادی مرکز صحت کی سربراہ نے کہا کہ توجہ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر مریضہ کو زچگی کے بعد 15 منٹ کی ضرورت ہو تو اس کے بجائے پانچ منٹ دیے جاتے ہیں۔ اگلے منتظر کیس کی وجہ سے ڈاکٹر مریضہ کی درست کاؤنسلنگ/ رہنمائی نہیں کرتی یہ نہیں بتاتی کہ آپ نے یہ کھانا ہے یہ نہیں کھانا ایسے بیٹھنا ہے۔ سر تلے تکیہ رکھیں یا نہ رکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button