پاکستان میں روحانی علاج کرنے والا عراقی شخص کیا فراڈ ہے؟

اسوقت پاکستانی سوشل میڈیا پر روحانی علاج سے جن نکالنے، معذوروں کو صحت دینے اور کھوئی ہوئی آواز اور بینائی لوٹانے کا دعویٰ کرنے والا ایک عراقی مالا علی محمود کردستانی زیر بحث ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ کوئی جینوئن آدمی ہے یا رانگ نمبر ہے؟
بظاہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد بابا کردستانی سے ملنے اور اپنا ’روحانی علاج‘ کروانے کی خواہش رکھتی ہے ماضی میں ان کے بہت سارے دعوے غلط ثابت ہونے اور عجیب و غریب نظریات رکھنے کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں انہیں رانگ نمبر یا شعبدہ بازی بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مالا علی کردستانی کا تعلق عراقی کردستان کے ایک علاقے کلک سے ہے جو اربیل شہر سے باہر واقع ہے۔ ابتدا میں انھوں نے کلک میں اپنا ایک کلینک قائم کیا تھا جہاں لوگ بڑی تعداد میں معذور افراد کو ان سے ’علاج‘ کروانے کی غرض سے لے کر آتے تھے۔ تاہم بعد میں کردستانی حکام نے انھیں کردستان سے بیدخل کر دیا جس کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے۔ ابتدا میں مالا علی کردستانی انگریزی زبان کے استاد تھے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل اچانک انھوں نے عالم یا مذہبی شخص کا روپ دھار لیا اور مذہبی شخصیات کی طرح کا لباس پہننا بھی شروع کر دیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مالا علی کردستانی نے کبھی کسی دینی مدرسے سے شریعت کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ عراق اور خاص طور پر عراقی کردستان میں علماء اور مذہبی شخصیات ان کی شدید مخالف ہیں۔
مالا علی محمود کردی یا مالا علی کردستانی خود کو طبیب کہتے ہیں اور ان کا دعوٰی ہے کہ وہ قرآن اور سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد سے جسمانی طور پر معذور افراد کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے نام سے کئی اکاؤنٹس موجود ہیں جہاں چند ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں پر آئے جن نکال رہے ہیں یا قوت بینائی اور قوت سماعت سے محروم افراد کو ٹھیک کر رہے ہیں۔
چند روز قبل مالا علی نے پاکستان آنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وہ پہلے لاہور پہنچے اور اس کے بعد چند روز اسلام آباد میں گزارے۔ اسلام آباد میں انھوں نے پاکستان کی کئی سیاسی اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں۔ چند روز قبل سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی رہائش گاہ پر اُن کا استقبال کیا تھا جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔ سابق وزیر فردوس عاشق اعوان، سینیٹر طلحہ محمود اور دیگر کئی سیاستدانوں کے ساتھ ملاقات کی تصاویر بھی مالا علی کردستانی کے فیس بک پیچ پر موجود ہیں۔ پاکستان میں وہ جہاں بھی سفر کر رہے ہیں ان کی رہائش پوش علاقوں میں رہی ہے۔ ان کے یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں وہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے سینیٹر طلحہ محمود کے ہمراہ ان کے فارم ہاؤس میں موجود ہیں۔ وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان سے ملاقات کرنے کے لیے موجود ہے۔ یہ لوگ بظاہر ان سے ‘علاج’ کروانے کے خواہاں تھے۔ ان کے یوٹیوب چینل پر موجود ایک ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ وہ علاج کیےخواہاں لوگوں سے اکثر ملاقاتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک ویڈیو میں ویل چیئر پر بیٹھی ایک معمر خاتون کے قریب کھڑے ہیں اور عربی میں خاتون سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ڈرنا نہیں۔ بظاہر اس کے بعد وہ ان کی ٹانگ پکڑ کر جھٹکا دیتے ہیں جس سے خاتون کی سسکی نکلتی ہے۔ پھر یہی عمل وہ بظاہر دوسری ٹانگ پر کرتے ہیں اور اس کے بعد دکھایا گیا کہ وہ ان کی گردن کو بھی ایک خاص انداز سے بازوؤں میں دبا کر جھٹکتے ہیں جس پر ایک مرتبہ پھر معمر خاتوں کی سسکی سنائی دیتی ہے۔ ساتھ ہی وہ خاتون کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیتے ہیں اور تھوڑا چلاتے ہیں۔ خاتوں بمشکل چند قدم لیتی ہیں۔ اس کے بعد مالا علی کردستانی ان سے عربی میں کہتے ہیں کہ اب انھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، اب وہ ٹھیک ہو چکی ہیں۔ اس طرز کی کئی ویڈیو ان کے سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ مالا علی کردستانی کے یوٹیوب چینل پر موجود ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ وہ ان کے پاس ’علاج‘ کی غرض سے آنے والوں پر بظاہر کچھ پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ ان کی کئی ویڈیوز پر یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ ’خوفناک ویڈیو ہے، کونکہ اس میں جن نے مالا علی پر حملہ کر دیا۔‘ اس ویڈیو میں دکھایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص جذباتی انداز میں پیش آ رہا ہے اور وہ اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں وہ قوت گویائی سے محروم ایک بچے کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اس کی زبان کو نیچے کی طرف دباتے ہیں جس کے بعد وہ بچے سے کہتے ہیں کہ اللہ بولو اور وہ اللہ بول دیتا ہے۔ اپنی ویڈیوز میں وہ یہ بھی دعوٰی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کے علاج سے گونگے بہرے افراد بولنا اور سننا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ سعودی عرب کے شہر مدینہ میں وہ ایک بظاہر نابینا شخص کی آنکھوں پر لعاب لگا کر کچھ پڑھتے ہیں جس کے بعد وہ شخص کہتا ہے کہ اسے نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔
تاہم پاکستان میں بہت سے سوشل میڈیا پر صارف یہ سوال کرتے نظر آ رہے ہیں کیا ان کے پاس واقعی علاج کرنے کی بظاہر ’جادوئی‘ قابلیت موجود ہے۔ کئی صارفین نے چند ایسی خبروں کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق چند ماہ پہلے اگست میں مالا علی کردستانی کے دفتر کو ترکی میں پولیس نے بند کر کے سیل کر دیا تھا۔ خبروں کے مطابق گذشتہ برس انھیں ’دھوکہ دہی‘ کے الزام میں سعودی عرب کے شہر مدینہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق سعودی عرب میں مالا علی کردستانی کو گرفتار تو نہیں کیا گیا تھا تاہم انھیں وارننگ دی گئی تھی کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز رہیں۔سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ مالا علی کردستانی نے سعودی عرب میں جس شخص کی بینائی واپس لانے کا دعوٰی کیا تھا وہ کوئی سعودی شہری نہیں تھا بلکہ مالا علی کردستانی کے اپنے علاقے کا رہنے والا تھا اور یہ کہ وہ نابینا بھی نہیں تھا، اس کی صرف بینائی کمزور تھی۔ ایک موقع پر عراق کے شہر اربیل میں انھیں ایک لائیو ٹی وی شو میں مدعو کیا گیا اور انھیں پہلے سے بتائے بغیر وہاں ایک ایسے شخص کو بھی بلایا گیا تھا جو کہ جسمانی طور پر مفلوج تھے یعنی فالج کا شکار تھے۔ لائیو ٹی وی پروگرام میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فالج کا شکار اس شخص کو ٹھیک کریں لیکن مالا علی کردستانی ایسا نہیں کر پائے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کے لیے چند شرائط ہونا ضروری ہوتی ہیں جیسا کہ انھیں روزے کی حالت میں ہونا چاہیے اور کچھ خاص انتظامات کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن اس ٹی وی پروگرام کے بعد عراقی کردستان میں ان کی مقبولیت کو بہت دھچکا پہنچا تھا اور انہوں نے وہاں پر کام چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا۔
