پاکستان میں زعفران کی کاشت کا منصوبہ شروع
پاکستان میں 500 روپے فی گرام اور پانچ لاکھ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہونے والے زعفران کا نام سنتے ہی ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے جس کی خوشبو اور ذائقہ کھانوں کا ذائقہ دوبالا کردیتا ہے۔ زعفران ایک نہایت قیمتی مصالحہ ہے جس کے بیش بہا فوائد ہیں، اس کا اصل خطہ جنوبی ایشیا ہے۔ اس کی کاشت سب سے پہلے ایران اور کشمیر میں شروع ہوئی اور پھر منگولوں نے اسے دنیا کے دوسرے خطوں تک پہنچایا۔
زعفران کو انگلش میں سیفران، لاطینی اور یونانی میں کردکس، بنگلہ میں جعفران اور ہندی میں کیسر کہا جاتا ہے۔ ایران، سپین، آکلینڈ، نیدر لینڈز، بھارت اور برازیل جیسے ممالک کا زعفران دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ہر سال تقریباً ڈھائی ٹن زعفران پیدا ہوتا ہے۔ تنہا ایران ایسا ملک ہے جو پوری دنیا میں زعفران کی 90 فیصد ضرورت پوری کر رہا ہے۔
پاکستان کے زرعی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر غلام محمد علی نے بتایا ہے کہ انکے ادارے نے ملک کے کئی حصوں میں زعفران کی کاشت اور اسکے فروغ کے لیے ایک میگا پروجیکٹ تیار کیا ہے۔ ابتدائی طور پر پہلے مرحلے کے دوران پاکستان میں زعفران کے بلب یعنی بیج کو بڑے پیمانے پر پھیلانے پر توجہ دی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس منصوبے کی سپورٹ کرے تو ملک میں زعفران کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے جیسے برآمد کر کے ٹھیک ٹھاک آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں محدود پیمانے پر زعفران کی کاشت 1971ء سے کی جا رہی ہے، پوٹھوہار کے علاقوں راولپنڈی، اسلام آباد، مری، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں کے اضلاع زعفران کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔ زرعی تحقیقاتی ادارے نے 1982 میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سپین سے درآمد کردہ زعفران بلب کو متعارف کرایا تھا جس کے بعد یہ پاکستان میں محدود پیمانے پر پھیل گیا۔ زرعی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر غلام محمد علی کا کہنا ہے کہ بلوچستان زرعی تحقیقاتی و ترقیاتی سینٹر نے ہسپانوی زعفران کی پیداوار اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے زعفران کی پیدوار کو ایک ایکٹر تک پھیلایا ہے۔
حال ہی میں ماؤنٹین ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر سکردو سب سٹیشن نے بھی اس کی کاشت پر ابتدائی ٹرائل شروع کیا ہے۔ پاکستان میں زعفران کی کاشت 15 اگست سے 25 اکتوبر تک کی جاتی ہے۔ اس دوران جن علاقوں میں درجہ حرارت 35 سے نیچے آنا شروع ہو جائے تب اس کو کاشت کیا جاتا ہے۔ یعنی بعض علاقوں میں اگست میں جب کہ بعض علاقوں میں ستمبر یا اکتوبر میں اسے کاشت کیا جاتا ہے۔
کچھ علاقوں میں اسے اکتوبر کے آخر اور نومبر کے اوائل میں بھی کاشت کیا جاتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس دوران علاقے کا درجہ حرارت 35 ڈگری سے کم ہو۔ اس کا پودا کم سے کم 13 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے۔
زعفران کا پودا پیاز سے ملتا جلتا ہے۔ اس کی لمبائی 45 سینٹی میٹر ہوتی ہے اور اس میں آٹھ سے بارہ ہفتوں کے درمیان پھول آ جاتے ہیں۔زعفران کے پھول کی عمر تین سے چار دن ہوتی ہے۔ 70 سے 80 ہزار پھولوں سے 250 گرام کے قریب زعفران حاصل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد علی نے پیداوار کے حوالے سے بتایا کہ ایک ہیکٹر کے لیے تقریباً 3 لاکھ سے 5 لاکھ بلب کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلب کا سائز اور وزن پہلے سال کے دوران پھولوں کی پیداوار کا تعین کرتا ہے، ایک کلو سٹگما کے لیے ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ پھولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
زعفران کاشت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک حصہ مٹی، ایک حصہ گوبر کھاد اور ایک حصہ ریت آپس میں برابر مقدار میں چھان کر گملے، باغیچے یا زمین میں ڈالا جائے۔ جس طرح لہسن کا بلب دو یا ڈیڑھ انچ مٹی کے اندر اس طرح لگایا جاتا ہے کہ اس کے اوپر کی سطح مٹی سے باہر نظر آ سکتی ہو، اسی طرح زعفران کا بلب بھی لگایا جاتا ہے۔ گملے کے ارد گرد اندر کی جانب تھوڑا سا پانی دیں تاکہ مٹی میں نمی آ سکے جس سے بلب کو سرسبز ہونے میں مدد ملتی ہے۔
زعفران کو زیادہ پانی کی ضروت نہیں ہوتی۔ ہر دوسرے یا تیسرے روز معائنہ کر لیں اگر پانی کی ضرورت محسوس ہو تھوڑا سا فوارہ یا شاور ہی کافی ہوتا ہے تاکہ مٹی نم رہے۔ کھیت میں زعفران کاشت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زمین اس طرح ہموار کی جائے کہ اس سے پانی کا اخراج آسانی سے ہو۔ بلب کھیت میں ہر چھ سے بارہ انچ قطاروں میں لگائیں۔ فاصلہ زیادہ رکھنے سے زمین کے اندر بلب بڑے اور زیادہ بنتے ہیں۔
8 تا 12 ہفتوں کے درمیان زعفران کا پودا پھول دیتا ہے اور ہر پھول کے درمیان تین لال رنگ کے ریشے نکلتے ہیں جس کو سٹگما کہتے ہیں اور یہی زعفران کہلاتے ہیں۔ لال رنگ کے ان تین ریشوں کو کاٹ کر دس بارہ گھنٹے تک چھاؤں میں سکھایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بزرگوں کا ویکسین لگوانا زیادہ ضروری ہے
سٹگما حاصل کر لینے کے بعد پودے کو اسی جگہ رہنے دیں کیونکہ ایک پودے سے مزید بلب زمین کے اندر بنتے ہیں بعض علاقوں میں بلب ایک سال میں میچور ہوجاتے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں دو سال تک، جولائی اور اگست کے مہینوں میں بلب کو اکھاڑ کر دوسری جگہوں پر لگایا جا سکتا ہے تاہم اگر انہیں وہیں رہنے دیا جائے تو سیزن کے دوران بھی ان سے مذید سٹگما حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
قریب سو سال قبل زعفران کی فی تولہ قیمت سونے کی فی تولہ قیمت سے زیادہ تھی۔ پاکستانی مارکیٹ میں زعفران پانچ یا چھ سو روپے کا فی گرام ملتا ہے جبکہ مختلف اقسام کا ایک کلو زعفران پانچ سے دس لاکھ روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
زعفران کے بلب کا وزن اور سائز اس کی قیمت کا تعین کرتا ہے۔ اس اعتبار سے فی بلب 50 سے 200 روپے کا ملتا ہے۔ زعفران کی اہمیت اور فوائد انسانی صحت کے لیے کلونجی کی مانند ہیں۔ زعفران کا استعمال مختلف ادویات میں بھی ہوتا ہے اور اسے کئی بیماریوں کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر اسے اپنے کھانوں میں استعمال کرنا شروع کیا جائے تو بہت ساری بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ زعفران کو وزن میں کمی، موسمی نزلہ و زکام سے بچاؤ، امراض قلب سے حفاظت ، جلد اور بصارت سے وابستہ امراض کے خلاف مفید سمجھا جاتا ہے۔
