پاکستان میں طالبان اور داعش کے مضبوط ہونے کی تصدیق


ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود پاکستان کی پریشانیوں میں ایک عالمی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ نے مزید اضافہ کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنے تمام تر دعوؤں کے بر عکس پاکستانی حکام جنگجو تنظیموں کے پھیلاؤ اور ان کی کارروائیاں روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ یورپی ایجنسی یورپین اسائلم سپورٹ آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد جنگجو گروہ اب بھی پاکستان میں نہ صرف پوری طرح موجود ہیں بلکہ وہ اپنے دہشت گرد حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ریاستی ادارے انہیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ڈیڑھ سو صفحات کی یہ رپورٹ بنیادی طور پر پناہ کے متلاشی افراد کے لیےایک گائیڈ لائن ہے۔
یاد رہے کہ اس رپورٹ سے قبل 29 اپریل 2021 کو یورپین پارلیمینٹ نے تقریباً اسی طرح کے الزامات کی روشنی میں پاکستان کے خلاف 683 ووٹوں کی بھاری ترین اکثریت سے قرارداد پاس کی تھی اور یورپین کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو 2014میں دی جانی والی رعایتی تجارتی اسکیم جی ایس پی پلس کو معطل کیا جائے، کیونکہ پاکستان میں اقلیتیوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، شہری آزادیاں سلب کی جا رہی ہیں اور آزادی اظہار کی آزادی پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔
یورپین اسائلم سپورٹ آفس نے پاکستان سے یورپ آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان سے متعلق کنٹری آف اوریجن انفارمیشن رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف القاعدہ، طالبان اور داعش جیسے شدت پسند گروہ موجود ہے بلکہ ان کی کارروائیوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ پاکستان سکیورٹی سچوئیشن رپورٹ (2021) کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ملک کی پریشان کن صورتحال کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ 2020 اور 2021 کے کے دوران تحریک طالبان، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت متعدد مسلح عسکریت پسند گروہ نہ صرف پاکستان میں اپنے قدم جما رہی ہیں بلکہ انکے حملوں میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فعال یہ جنگجو گروہ اپنی کارروائیوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ، مختلف اقسام کے آئی ای ڈیز، خودکش حملے، اغوا، دستی بم حملے، راکٹ حملے اور تخریب کاری کے دیگر طریقے اختیار کرتے ہیں۔ مذید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 2020 میں عسکریت پسندوں کے خلاف 47 آپریشن کیے لیکن ان کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اسی عرصے کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں 146 افراد مارے گئے۔ جبکہ 2021 کی پہلی ششماہی کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 344 شہری ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے مسلح گروہ ملک میں مذہبی اقلیتوں پر بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں ،شیعہ، ہندوؤں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، توہین مذہب کے واقعات، جبری تبدیلی مذہب کے کیسوں اور نفرت انگیز تقاریر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کی سمری میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے کئی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جولائی 2021 میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے دوران پاکستان نے صورتحال کو محفوظ بنانے اور افغان مہاجرین کی نئی آمد سے بچنے کے لیے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کی جگہ فوجی دستے بھیجے ہیں۔
رپورٹ کہتی ہے کہ 15 اگست 2021 کو دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستانی حکام نے احتیاط سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں پر امن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ اسی دوران ستمبر 2021 کے آغاز میں آئی ایس آئی چیف کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے کابل کا دورہ کیا اور طالبان سے ملاقات کی۔ رپورٹ اس حوالے سے تشنہ لب ہے کہ اس میں جیو پولیٹیکل واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دیگر بین الاقوامی کرداروں کی واضح نشاندہی سے گریز کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ملک کے اندر لڑی جانے والی شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مین اسٹریم پارٹیوں اور ملکی افواج کے باہم تال میل سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور پھر شدت پسندوں کے لیے محفوظ سمجھے جانے والے آزاد علاقوں کی پاکستان میں آئینی طریقے سے اشتراک کی تفصیلات سے بھی صرف نظر کیا گیا ہے۔

Back to top button