پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی صورتحال تشویشناک قرار

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اپنی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی میڈیا حکومتی عدم برداشت کی پالیسی کے باعث شدید دبائو میں ہے اور اس کی آواز کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور ورکرز کے خلاف کریک ڈائون کر رہی ہے۔ سالانہ رپورٹ 2020 میں ہیومن رائٹس واچ نے 100 سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کا جائزہ لیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کے آزادی اظہار رائے جیسے بنیادی جمہوری حق کے تحفظ میں حکومت بظاہر مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں چاہئے کہ وہ میڈیا کی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ جیسے مسائل پر بھی توجہ دیں جو کافی عرصے سے حل طلب ہیں ۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافت کو درپیش مشکلات کی طویل تاریخ موجود ہے کئی عشروں قبل اخبارات سے خبریں نکال دینے کا عمل اب اخبارات کی رسائی اور چینلز کو بند کرنے کی جانب منتقل ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان بھر میں گزشتہ 6 برس میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران 33 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ گزشتہ برس نومبر سے رواں سال اکتوبر کے دوران 7 صحافی قتل ہوئے۔2013 سے 2019 کے درمیان 33 صحافیوں میں سے 32 کے قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی جس میں پولیس صرف 20 کیسز یا 60 فیصد کیسز میں چارج شیٹ جمع کراسکی۔ رپورٹ کے مطابق 33 مقدمات میں سے عدالتوں نے صرف 20 کیسز کو ٹرائل کے لیے موضوع قرار دیا جبکہ ان میں سے صرف 6 مقدمات یعنی 18 فیصد میں پروسیکیوشن اور ٹرائل مکمل ہوا۔ جن 6 مقدمات کا ٹرائل مکمل ہوا ان میں سے صرف ایک میں قاتل کو سزا ہوئی لیکن وہ بھی اپیل دائر کرنے کے بعد سزا سے بچنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد مقتول صحافی کے اہلِ خانہ وسائل کی کمی کے باعث انصاف کے حصول سے پیچھے ہٹ گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وکلا اور انسانی حقوق کے مختلف گروپس کی جانب سے متعدد بار تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار اپوزیشن لیڈرز کی گرفتاری کے بعد ان کو ٹرائل کا وقت نہیں دیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ایک جانب تو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے نے انصاف کے حصو ل میں درپیش مشکلات کو اجاگر کیا تو دوسری جانب حکام کچھ اہم اصلاحات کو نافذ کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔اسی حوالے سے سندھ کابینہ نے اگست میں ایک نئے قانون کی منظوری بھی دی ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان میں وہ عورتیں جو زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button