پاکستان میں کار پروڈکشن پلانٹس بند کیوں کیے جارہے ہیں؟

ملک میں امپورٹڈ آٹو پارٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان میں بیشتر آٹو مینو فیکچرنگ کمپنیوں کو اپنے پروڈکشن پلانٹس بند کرنا پڑ گئے ہیں۔  پاک سوزوکی موٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسکا پیداواری پلانٹ ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے، کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کے پارٹس کی درآمد پر عائد رکاوٹوں کے باعث کیا گیا۔ درآمد شدہ مال کی کلیئرنس میں تاخیر سے پارٹس کی قلت پیدا ہوئی جس کے بعد کمپنی کی انتظامیہ نے کاروں اور موٹر سائیکلوں کے پلانٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل ٹویوٹا انڈس پاکستان نے دس روز کے لیے اپنا پروڈکشن پلانٹ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ کمپنی اور اس کے وینڈرز کو خام مال اور پارٹس کی درآمدی کلیئرنس میں تاخیر کا سامنا ہے جس سے سپلائی اور پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، لہٰذا کمپنی کے لیے کارون کی پروڈکشن جاری رکھنا ممکن نہیں۔

 

خیال رہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے گِرتے ذخائر کے پیش نظر سٹیٹ بینک نے آٹو سیکٹر کو بھی درآمدات کے لیے قبل از وقت منظوری کا پابند بنایا تھا۔یعنی بندرگاہ پر کھڑے درآمدی کنٹینروں کی کلیئرنس نہ ہونے اور بینکوں کی طرف سے ان کی ایل سی نہ کھلنے سے ان صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے جن کا انحصار درآمدات پر ہے۔ ان پابندیوں کے بعد سے گاڑیوں کی کئی کمپنیوں نے رواں سال کے دوران کئی بار ’نان پروڈکشن ڈیز‘ بڑھائے ہیں، دوسری طرف اگر انہی کمپنیوں کی سیلز پر نظر دوڑائی جائے تو گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال اس میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔

 

آٹو سیکٹر ماہر سنیل منج کاکہنا ہے کہ پاکستان میں درآمدات پر منحصر گاڑیوں اور موبائل مینوفیکچررز کے ساتھ دیگر صنعتوں کے لیے بھی یہ ’الارمنگ‘ صورت حال ہے، انکے مطابق یہ صورتحال مئی 2022 سے جاری ہے۔ پہلے بھی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا نے پروڈکشن بند کر ے کا اعلان کیا تھا، مسئلہ یہ ہے کہ جب کارون کی طلب زیادہ ہو اور درآمد کردہ آٹو پارٹس کی آمد رواں ہو تو پلانٹ چلایا جا سکتا ہے مگر جب پارٹس آئیں گے ہی نہیں تو ورکرز پورا دن بیٹھ کر کیا کریں گے۔

Back to top button