ایم کیو ایم کو توڑنے والی فوج اب اسے جوڑ کیوں رہی ہے؟

ضیا دور میں الطاف حسین کی زیر قیادت مہاجر قومی موومنٹ بنانے والی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسے چھ حصوں میں بکھیرنے کے بعد اب دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے کوششیں حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔

اس حوالے سے مرکزی کردار سندھ کے نئے گورنر کامران ٹیسوری ادا کر رہے ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کے کافی قریب تصور کیا جاتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے وہ گورنر بھی تعینات ہوئے ہیں۔ سینیٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت متحدہ قومی موومنٹ نے پارٹی سے علیحدہ ہونے والے تمام متحارب دھڑوں سے اتحاد کی خاطر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ اتحاد کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گورنر سندھ نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال اور پارٹی صدر انیس قائم خانی سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس سے پہلے مصطفی کمال نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم کے حریف دھڑوں کے اتحاد کے لیے مذاکرات کی بنیاد رکھی ہے لیکن وہ اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتی۔ذرائع نے بتایا کہ اتحاد کے حوالے سے تمام معاملات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، اور حالیہ ملاقاتیں اور میٹنگز بس رسمی کارروائی ہیں، اس حوالے سے آئندہ ہفتے تک مثبت اعلان متوقع ہے۔ ’جیو‘ سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے تصدیق کی کہ پی ایس پی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں موجود گروپوں نے اپنے دھڑوں کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کرنے اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں کام کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے تین درجن اراکین گورنر ہاؤس سندھ پہنچے جہاں کامران خان ٹیسوری اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے انہیں پاک سرزمین پارٹی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں موجود ٹوٹنے والے چھوٹے گروپوں کے ساتھ انضمام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں دیگر دھڑوں کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایم کیو ایم پاکستان میں خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کیا گیا اور گورنر سندھ کو ان دھڑوں سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا گیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے دروازے ان تمام لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو پارٹی آئین اور نظم و ضبط کی پابندی اور پاسداری کریں گے۔
سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایم کیو ایم کے دھڑے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق 1987 میں بلدیاتی انتخابات سے سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں اپنی حیثیت منوانےوالی متحدہ قومی موومنٹ میں تقسیم یوں تو کوئی نئی بات نہیں لیکن ایم کیو ایم اپنےبانی الطاف حسین سے لاتعلقی کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے۔ کئی عرصے سے ان دھڑوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مظہر عباس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ میں پہلی تقسیم 1992 میں ہوئی جب آفاق احمد نے موجودہ ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سمیت دیگر کے ساتھ مل کر مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ ’اس تنظیم کو کوئی خاص کامیابی تو نہیں ملی لیکن آج بھی آفاق احمد اپنی تنظیم سے ہی وابستہ ہیں۔ اس تقسیم کے تقریبا ًتین دہائیوں بعد ایم کیوایم میں سال 2013 میں تقسیم دیکھنے میں آئی جب سابق ناظم کراچی سید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کی۔‘

بعد ازاں 22 اگست 2016 میں الطاف حسین کی ملک مخالف تقریر کے بعد بانی ایم کیو ایم کو ہی ان کی تنظیم سے الگ کر دیا گیا۔ اس علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم دھڑے بندی کا شکار ہوئی۔ فاروق ستار پی آئی بی کالونی سے اپنی تنظیم چلاتے نظر آئے تو بہادر آباد سے ایم کیو ایم پاکستان اپنی سیاسی سرگرمیاں سر انجام دینے لگی۔لیکن ایم کیو ایم کی تقسیم کے بعد کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں متحدہ کو اپنے مضبوط علاقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سندھ کے شہری علاقوں سے پیپلز پارٹی نے ان نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جہاں تین دہائیوں سے ایم کیو ایم کامیابی حاصل کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ کراچی میں ہونے والے کئی ضمنی انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

سندھ کے شہری علاقوں میں کامیابی کے لیے ایم کیو ایم کے دھڑے ملنے کی جہاں باتیں ہورہی ہیں وہیں ایم کیوایم کے کئی رہنما ان تمام سرگرمیوں کے خلاف بھی نظر آتے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان گورنر سندھ کی تعیناتی سے ابتک کئی معاملات پر نالاں ہیں اور تنظیمی معاملات سے دوری اختیار کرتے ہوئے ملک سے جا چکے ہیں۔

Back to top button