پاکستان میں کرونا کی چھٹی لہر کا خطرہ کیوں منڈلانے لگا؟


پاکستان میں کرونا وائرس کی چھٹی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، ایک روز میں مہلک وائرس سے 7 اموات سامنے آنے کے بعد رش والے مقامات پر ماسک کا استعمال بڑھ گیا ہے، اور حکومت نے عید پر عوام کو تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیدیا ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس اب دوبارہ تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج 165 افراد کی حالت تشویش ناک ہے، اس سے قبل ایک ہی روز میں ایک درجن افراد سے زائد کی اموات آخری بار 4 مارچ کو رپورٹ ہوئی تھیں۔ کرونا وائرس کی گزشتہ لہروں کے برعکس ملک بھر کے شہروں میں اب تک ایسے کوئی حفاظتی اقدامات ہوتے نظر نہیں آ رہے، حالانکہ عید سر پر ہے اور ہر جگہ لوگوں کے اجتماع ہونے جا رہے ہیں۔ عید پر اپنے شہروں کو جانے والے لوگوں کی بڑی تعداد ٹرین اور بس اسٹیشنز پر نظر آ رہی ہے لیکن ماسک کا استعمال کہیں نظر نہیں آ رہا، لہٰذا یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ ملک ایک بار پھر تیزی سے پھیلنے والے مہلک وائرس کی زد پر آ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی گزشتہ لہروں کے دوران اس کا مقابلہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور عوامی مقامات پر ایس او پیز پر سختی سے عمل در آمد کرا کر کیا گیا تھا، مائیکرو بیالوجی کے پروفیسر جاوید عثمان کے مطابق اگرچہ این سی او سی نے وبائی مرض کی چھٹی لہر کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور پوری دنیا میں وائرس کے مثبت کیسز بڑھ رہے ہیں۔
پروفیسر جاوید کے مطابق وائرس پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سفر پر پابندی ہٹا دی گئی ہے، فی الحال کرونا وائرس کی ذیلی قسم ’’اومی کرون بی اے 5‘‘ عالمی سطح پر پھیل رہی ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ صرف پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے اور نمونیا میں تبدیل نہیں ہو رہا جبکہ ہسپتال میں مریضوں کے داخل ہونے کی تعداد کم ہے اور اموات صرف وائرس کی وجہ سے ہونے کی بجائے دیگر مختلف امراض یا طبی پیچیدگیوں کے باعث ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا سے مجموعی طور پر 30 ہزار 413 افراد کی اموات ہو چکی ہے۔ پنجاب میں 13 ہزار 579، سندھ میں 8 ہزار 122، خیبرپختونخوا میں 6 ہزار 324 اور اسلام آباد میں 1 ہزار 26 افراد کی اموات ہوئی تھیں جن میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

Back to top button