پنجاب: ضمنی الیکشن پر انی انتخابی فہرستوں پر ہوں گے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے مسلسل دھاندلی کے الزامات پر پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر 17 جولائی کا ہونیوالے ضمنی الیکشن پرانی انتخابی فہرستوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ایک بیان میں کہا کہ ووٹوں کے اندراج سے متعلق میڈیا رپورٹس ‘بے بنیاد اور عوام کو گمراہ کرنے کے پروپیگنڈے پر مبنی’ ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنواری نے نشاندہی کی کہ انتخابی فہرستیں پولنگ شیڈول کے اعلان کے بعد منجمد کر دی گئیں اور قانون کے تحت ان میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

انکا کہنا تھا انتخابی عمل کے اختتام تک کوئی ووٹ شامل یا نکالا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ووٹرز کی تفصیلات میں کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

ہارون شنواری نے ووٹرز کی رجسٹریشن سے متعلق ‘پروپیگنڈے’ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن دیگر اداروں کے تعاون سے پنجاب کی 20 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی تیز رفتار مہم پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس سے منسلک دکھائی دیتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ فنڈنگ کیس میں کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد ای سی پی اور اس کے سربراہ کے خلاف تنقید ایک نئی سطح پر چلی گئی ہے۔

ہارون شنواری کا کہنا تھا کیس کا فیصلہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر میرٹ پر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں بشمول اس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دنوں میں آئندہ ضمنی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے میں مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

انکا کہنا تھا انہوں نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی اور حکمران جماعتوں کی حمایت سے 17 جولائی کے انتخابات میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے سابق قانون سازوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریاستی مشینری کے استعمال کا بھی الزام لگایا ہے۔

Back to top button