پاکستان میں کسی نے عطیات سے اتنا پیسہ اکٹھا نہیں کیا جتنا میں نے کیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کسی نے آج تک پاکستان میں عطیات سے اتنے پیسے اکٹھے نہیں کیے جتنے 30 سال کے عرصے میں میں نے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عطیہ کرنے کا جو جذبہ پاکستانی قوم میں موجود ہے اسے کوئی بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح میں سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا شوکت خانم کے سلسلے میں نامی گرامی جگہوں پر عطیہ لینے کے لیے گیا لیکن زیادہ عطیہ عام عوام نے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری قوم میں عطیات دینے کا جذبہ اس لیے زیادہ ہے کہ ان کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے ہی کینسر اسپتال بنایا اور وہ ہی اسے چلا رہے ہیں اور 70 کروڑ روپے سے تعمیر ہونے والے اسپتال کو مفت علاج کی مد میں سالانہ 12 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ سے توقع کررہے تھے کہ میں نریندر مودی والا لاک ڈاؤن کروں لیکن میں نے مخالفت کی اور آج بھارت میں حالات دگردوں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لاک ڈاؤن ہم نے لگایا اس کے نتیجے میں خدمات کا شعبہ تباہ ہوگیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے ابتدا میں جن غریب علاقوں میں امدادی گاڑیاں جارہی تھی وہاں لوٹ مار مچ جاتی تھی تاہم ہم نے پرائم منسٹر ریلیف منسٹر پروگرام شروع کیا جس سے بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے شہروں میں کام کے لیے آنے والے افراد سخت سردی میں سڑکوں پر سوتے تھے جس کو دیکھتے ہوئے ہم نے پناہ گاہیں قائم کیں تا کہ وہ آرام اور عزت سے ایک جگہ رکیں اور وہاں انہیں نہانے اور کھانے کی سہولیات میسر ہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑے اسپتال وں کے باہر بیماروں کے ساتھ آنے والے تیمار دار کو ٹھہرانے کے لیے پناہ گاہیں بنائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں عطیہ کرنے کا جذبہ ہے صرف انہیں بھروسہ اور یقین دلانے کی ضرورت ہے اس لیے ہم احساس پروگرام میں استعمال ہونے والی رقم کی مکمل تفصیلات شائع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بیماروں، مریضوں اور بزرگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button