طیارہ حادثہ: پائلٹ اور ائیرٹریفک کنٹرولرکراچی ذمہ دار قرار

کراچی میں 22 مئی کو پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کی تباہی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی جس میں انسانی غلطی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کراچی میں پیش آنے والے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے جس میں پائلٹ اور ائیرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی عبوری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت طیارے کے کاک پٹ کریو نے ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا جبکہ ائیر ٹریفک کنٹرولر بھی ہدایات پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا۔رپورٹ میں حادثہ کی وجوہات میں طیارے میں فنی خرابی کو خارج ازامکان قرارنہیں دیا گیا اور حادثے میں پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ذرائع کا کہناہےکہ رپورٹ میں حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے طریقہ کار کو بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں طیارے کے پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے طیارے میں فنی خرابی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے۔رپورٹ میں طیارے کے ڈیٹا فلائٹ ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات، لاہور سے کراچی پرواز کا ائیرٹریفک کنٹرول سے حاصل ریکارڈ بھی میں شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ لینڈنگ کے وقت طیارے کےکاک پٹ کریو نے ائیرٹریفک کنٹرولرکی ہدایات کو نظر انداز کیا اور ائیرٹریفک کنٹرولربھی اپنی ہدایات پرعمل درآمد کرانےمیں ناکام رہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ عید سے دو روز قبل کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں پیش آنے والے اس واقعے میں عملے کے 8 اراکین سمیت 97 مسافر لقمہ اجل بنے تھے اور کریش کے باعث زمین پر موجود ایک 12 سالہ لڑکی بھی دم توڑ گئی تھی۔
مذکورہ حادثے کی تحقیقات کے لیے 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جبکہ فرانسیسی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم بھی تفتیشی معاونت کے لیے پاکستان آئی تھی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کو بریفنگ دی گئی جو وعدے کے مطابق رپورٹ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بلیک باکس ڈیٹا سے طیارے میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے۔ ابتدائی رپورٹ میں پائلٹس اور ائیر ٹریفک کنٹرول کے عم ہےکی متواتر غلطیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلی لینڈنگ کے وقت جہاز 9 ہزار میٹر طویل رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا جس کے بعد پائلٹ طیارے کو دوبارہ اڑا کر لے گیا۔ رپورٹ کے مطابق لینڈنگ کی پہلی کوشش کے بعد پائلٹ کو جہاز نہیں اڑانا چاہیئے تھا تاہم دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اس دوران انجن فیل ہو گئے۔
تفتیش کاروں نے رپورٹ میں واضح کیا کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی سے آرہا تھا جب کہ لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ بلندی سے زیادہ تھی۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق پہلی ناکام لینڈنگ کے 12 گھنٹے بعد تک جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے جنہیں ایئر سائٹ یونٹ نے اکھٹا نہیں کیا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ قانون کے مطابق حادثہ کے بعد ائیر ٹریفک کنٹرول کے عملے کو ریلیو کر دینا چاہیئے تھے لیکن ان سے شام 7 بجے تک مکمل ڈیوٹی کروائی گئی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ جہاز میں کسی قسم کی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے۔
جہاز کی مینٹی ننس کے حوالے س بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جہاز کا پہلا انجن 25 فروری 2019 اور دوسرا 27 مئی 2019 کو انسٹال کیا گیا تھا جب کہ تینوں لینڈنگ گیئرز 18 اکتوبر 2014 کو انسٹال ہوئے تھے۔
بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل آخری اڑان بھری تھی اور اس کا آخری چیک اپ21 مارچ میں ہوا تھا جبکہ آخری مرتبہ طیارے کا مکمل معائنہ 2018 میں کیا گیا تھا ۔ حکام نے بتایا کہ تباہ ہونے والےجہاز کی عمر 16 سال تھی اور وہ 2004 میں تیار کیا گیا جب کہ اکتوبر 2014 میں پی آئی اے فلیٹ کا حصہ بنا اور مجموعی طور پر 47 ہزار 124 گھنٹے محو پرواز رہا۔
یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ 2 مسافر حیران کن طور پر محفوظ رہے تھے۔
اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی نے کی جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے ماہرین کی خصوصی ٹیم بھی پاکستان آئی تھی جس نے ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے آئی آئی بی) کے حکام کے ساتھ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی۔ تباہ ہونے والے طیارے اے 320 کو تیار کرنے والے کمپنی ایئر بس نے 11 اے اے آئی بی کے تفتیش کاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ٹیم پاکستان بھجوائی تھی۔
حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل 3 روز جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں شواہد اکٹھے کیے جبکہ رن وے اور ایئر پورٹ کے احاطے کا بھی جائزہ لیا تھا۔ بعدازاں ٹیم اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی کے ہمراہ طیارے کے بلیک باکس کے 2 اجزا کاکپٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ٖڈیٹا ریکارڈر لے کر فرانس واپس چلی گئی تھی۔
ان دونوں ریکارڈ کو ڈی کوڈ کر کے ڈیٹا کا جائزہ لینے والے فرانسیسی بیورو آف انکوائری اینڈ انیلیسیس (بی ای اے) برائے سول ایوی ایشن سیفٹی نےکہا تھا کہ دونوں ریکارڈرز ایف ڈی آر اور سی وی آر نے تفتیش کے لیے اہم معلومات حاصل ہوئیں۔
