پاکستان نے ملا برادر کو بلیک لسٹ کرنے کے بعد مہمان کیوں بنایا؟

حکومت پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کے تناظر میں ملا عبدالغنی برادر سمیت متعدد سنیئر طالبان رہنمائوں پر پابندیاں عائد کئے جانے کے دو روز بعد ہی ملا برادر کی سربراہی میں طالبان وفد کی اسلام آباد آمد پر سفارتی حلقے حیران و پریشان ہیں اور اسے کھلا تضاد قرار دے رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ متضاد قدم یقیناً امریکی آشیر باد کا نتیجہ ہے جو ہر صورت طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو کامیاب کرنا چاہتا ہے اور یقینی طور پر امریکی اثر ورسوخ کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کے کرتا دھرتا افراد کو بھی اسلام آباد کے اس ایکشن پر اعتراض نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر سے ایک اعلیٰ سطح کا وفد ملا عبد الغنی برادر کی سربراہی میں امن عمل کے حوالے سے مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے۔ یہ وفد ایک ایسے وقت میں پاکستان پہنچا ہے، جب حال ہی میں حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر سمیت افغان طالبان کے سینیئر رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان نے کہا تھا کہ ان کے سینیئر رہنماؤں پر مالی پابندیاں سخت کرنے کے اعلان سے بین الافغان مذاکرات ‘رکاوٹ’ کا شکار ہوجائیں گے، جس سے افغانستان میں امن عمل متاثر ہوگا۔ خیال رہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مالیاتی امور میں بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے افغان طالبان کے خلاف سخت مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔
اسلام آباد کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب افغان طالبان اور امریکہ کے مابین رواں برس فروری میں امن معاہدہ طے پانے کے بعدا ب طالبان افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی جانب گامزن ہیں جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف کی طرف سے بلیک لسٹ کی تلوار بھی اس کے سر پر لٹک رہی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جن درجنوں افراد پر مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں طالبان مذاکراتی ٹیم کے رکن ملا عبدالغنی برادر، طالبان کے نائب سربراہ سراج الدین اور حقانی خاندان کے متعدد افراد شامل ہیں۔ پابندی کی زد میں آنے والے گروپوں کی فہرست میں طالبان کے علاوہ دوسرے افراد بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ملا برادر افغانستان میں طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ہیں۔ جب 2001 میں افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ اس وقت روپوش ہوگئے تھے۔ پھر 2010 میں پاکستانی حکام نے انہیں کراچی سے گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 2013 میں جب طالبان سے مذاکرات کی بحث شروع ہوئی تو طالبان کی طرف سے مذاکرات کے آغاز کے لیے ملا برادر کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔ افغان حکومت کی جانب سے بھی ملا برادر کی رہائی کی باتیں کی گئیں اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ملا برادر کی رہائی کا عندیہ بھی دیا تھا مگر رہائی نہ ہو سکی، بالآخر اکتوبر 2018 میں پاکستان نے ملا برادر کو قید سے رہا کیا۔
وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا برادر کے خلاف پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے بلیک لسٹ سے بچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے بہت سے رہنما 1980 کی دہائی میں سوویت جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں کا حصہ تھے اور کافی عرصے تک پاکستان میں مقیم رہے۔2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ کے 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ اگرچہ پاکستان نے انہیں اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا تاہم واشنگٹن اور کابل دونوں ہی اسلام آباد پر انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کے لیے طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان ہی کوششوں کے نتیجے میں 29 فروری میں واشنگٹن اور طالبان کے مابین امن معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے کا مقصد امریکہ کی افغانستان میں لگ بھگ 20 سال کی فوجی مداخلت کو ختم کرنا اور چار دہائیوں سے جنگ کے شکار افغانستان میں امن بحال کرنا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس پیرس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا جب کہ اب تک صرف ایران اور شمالی کوریا کو ہی بلیک لسٹ میں رکھا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان پر پابندی کے حوالے سے کمیٹی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تھا، جس میں رکن ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ‘متعلقہ افراد پر سفری اور اسلحے کی پابندی عائد کریں یا ان کے فنڈز اور دیگر مالی وسائل کو منجمد کریں۔ اب حکومت پاکستان کی جانب سے ملا عبد الغنی برادر پر پابندیوں کے دو روز بعد اسلام آباد میں انہی کی قیادت میں وفد کے استقبال سے متضاد پالیسی پر چہار جانب سے حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر حکومت نے عملد رآمد کے اپنی سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے تاہم ملا عبد الغنی برادر کی اسلام آباد میں آمد یقیناً امریکی آشیر باد کا نتیجہ ہے کیونکہ واشنگٹن رواں برس قطر میں 29 فروری کو طے پانے والے تاریخ ساز معاہدے کو کامیاب کرنے کے لئے پاکستان پر انحصار کرر ہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کے اس متضاد اقدام سے اگر ایف اے ٹی ایف کو کوئی شکایت ہوئی تو امریکہ اپنا کردار اد اکرے گا بصورت دیگر یہ کھلا تضاد پاکستان کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔
