پاکستان کا آخری گاؤں ‘‘سکولے‘‘ کہاں واقع ہے؟

پاکستان کی بلندترین چوٹی ’’کے ٹو‘‘ کی جانب آخری انسانی آبادی ’’سکولے‘‘ یا ’’سکولی‘‘ کے نام سے پہچان رکھتی ہے جس کو پاکستان آخری گائوں بھی کہتے ہیں، کیونکہ اس کے آگے بلند وبالا پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جبکہ سردوں میں ہر طرف برف ہی برف ہوتی ہے، اس لئے انسانی وجود نہ ہونے کے باعث اسے ’’پاکستان کا آخری گاؤں‘‘ کہا جاتا ہے۔سکردو سے جب آپ کے ٹو اور کنکورڈیا کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں تو دنیا کی 8 ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے 5 صرف پاکستان کے اسی حصے میں نظر آتی ہیں، حسن اتفاق کہ ان پانچ بلند ترین چوٹیوں میں سے چار کے ٹو اور کنکورڈیا کے راستے میں واقع ہیں، اگرچہ 8848 میٹر بلندی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی کا اعزاز تھامے ہوئے ہے لیکن کے ٹو کے مقابلے میں اسے سر کرنا انتہائی آسان ہے۔کے ٹو کا ذکر چل نکلا ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ قدرت نے پاکستان کو حسیں وادیوں کے ساتھ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں سے بھی مالا مال کر رکھا ہے، کے ٹو جو 8611 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جبکہ نانگا پربت 8125 میٹر، گاشر برم ون 8068 میٹر، پراڈ پیک 8051 میٹر، گاشر برم ٹو 8035 میٹر، راکا پاشی 7788 میٹر اور ترچ میر 7708 میٹر بلندی کے ساتھ نمایاں چوٹیاں ہیں، یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کو صرف گلگت بلتستان میں سات ہزار میٹر سے زیادہ بلند 186 چوٹیوں کا اعزاز حاصل ہے۔’’قاتل پہاڑ‘‘ کے نام کی شہرت والا پہاڑ نانگا پربت جو کئی کوہ پیماؤں کی زندگیاں ہڑپ کر چکا ہے وہ بھی قراقرم سلسلے کا ایک عالمی شہرت یافتہ پہاڑ ہے جو جتنا خطرناک ہے، اس سے کہیں زیادہ کوہ پیماؤں کی کشش کا باعث بھی ہے۔جب آپ اس پہاڑی سلسلے کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں، اگرچہ یہ سلسلہ کوہ آگے کی طرف بڑھتا ہوا اپنا سفر جاری رکھتا ہے لیکن ایک حد کے بعد آپ کو تین ہزار فٹ کی بلندی پر ایک محدود آبادی کا جو گاؤں نظر آئے گا وہ ’’سکولے‘‘ یا ’’سکولی‘‘ کے نام کی شناخت تو رکھتا ہی ہے لیکن اس کی وجہ شہرت پاکستان کے آخری گاؤں کی حیثیت سے بھی ہے یہاں کے لوگوں کا پیشہ باربرداری ہے، یہاں کی 70 فیصد آبادی کا پیشہ دور دراز سے آنے والے کوہ پیماؤں کا سامان اٹھا کر کے ٹو اور دیگر بلند و بالا چوٹیوں تک لے جانا ہے، یہاں سب سے منفرد بات یہ ہے کہ ان چار مہینوں میں یہ لوگ صحن میں بنے تہہ خانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں یہ چار ماہ تک ایک چھوٹے سے تہہ خانے میں بمع پالتو جانور (یاک) گزارتے ہیں، بعض اوقات انہیں کئی کئی ہفتے گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے۔یہاں کے باسی گرمیوں میں ہی کپڑے دھو کر اناج اور لکڑیاں اکٹھی کر کے سردیوں کی تیاری شروع کر دیتے ہیں، کھانے پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کے ہفتے میں کم ازکم ایک دفعہ جیپوں کے ذریعے سکردو شہر کا رخ کرتے ہیں۔پہلی دفعہ سکولے جاتے لوگ جب یہاں کے بیشتر مقامی افراد کو غیرملکی برانڈڈ کپڑے پہنے انگریزی بولتے دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ بیشتر مقامی افراد کے ملبوسات اور جوتے اس قدر بیش قیمت ہوتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔دراصل یہاں کا رواج ہے کہ یہاں آئے غیر ملکی مہم جوؤں اور کوہ پیماؤں کی اکثریت جو قیمتی سامان سے لیس ہوتی ہے واپس جاتے وقت اپنا تمام سامان یہاں کے مقامی افراد کو دے جاتے ہیں، مقامی لوگ یہ قیمتی سامان خود استعمال کرتے ہیں یا کچھ عرصہ بعد یہ سامان سکردو کے بازاروں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں پاکستان بھر سے آئے سیاح اور مقامی افراد یہ قیمتی سامان جن میں خیمے، کپڑے، جوگر، جیکٹس اور دیگر متفرق سامان انتہائی سستے داموں خرید لیتے ہیں یہاں کے باسی اردو سے زیادہ انگریزی سے اس لئے واقف ہیں کیونکہ کنکورڈیا اور بالتورو جانے والے کوہ پیما چونکہ انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں تو بطور گائیڈ یا پورٹر مقامی لوگ کئی کئی دن ان کے ساتھ رہ کر ان کی زبان سیکھ جاتے ہیں، اس گاؤں کے باسیوں کا ذریعہ معاش کوہ پیمائی سے منسلک ہے اور یہ وطن عزیز پاکستان کا واحد علاقہ ہے جسے ’’کوہ پیماؤں کی سرزمین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

Back to top button