پاکستان کا ‘کورونا وائرس’ کی روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر کا آغاز

پی آئی اے نے چین کے بیجنگ ایئرپورٹ پر احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے مسافروں کی کورونا وائرس اسکریننگ کے عمل کا آغاز کردیا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق مسافروں کی اسکریننگ سے متعلق ضروری ہدایات چین میں قومی کیریئر کے اسٹیشن مینجمنٹ اور آپریٹنگ عملے کو بھیج دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن کے عہدیداروں نے بیجنگ سے پروازوں کی آمد پر اسکریننگ کےلیے ضروری اقدامات کےلیے پاکستان کی وزارت قومی صحت سے رابطہ کیا ہے۔ وزارت صحت کی مدد سے ملک کے 4 بڑے ایئر پورٹس پر کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے تھرمل اسکینرز نصب کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق تھرمل اسکینر کراچی ایئرپورٹ، لاہور ایئرپورٹ، اسلام آباد ایئر پورٹ اور باچاخان ایئرپورٹ نصب کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ کے یکساں اقدامات کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ٹوئٹ میں کہا کہ پورے ایشیا میں کورونا وائرس پھیل جانے کے بعد اتھارٹی کے چیئرمین احتیاطی تدابیر کےلیے الرٹ ہیں۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘این ڈی ایم اے نے آرمی میڈیکل کور، وزارت صحت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے پاکستان کو خطرے سے محفوظ رکھنے کےلیے احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا۔’
علاوہ ازیں دفتر خارجہ کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے وزارت صحت کو تمام ہوائی اڈوں اور چین کے ساتھ سرحد پر تمام اقدامات بروئے کار لانے کی ہدایت کردی گئی۔ تاہم عہدیدار نے فوری طور پر چین کے ساتھ سرحد بند کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سرحد سے ملحق تبت اور سنکیانگ میں وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ جس کے بعد وزارت صحت کو اسکینر لگا کر ہوائی اڈوں اور سرحدی مقامات پر نگرانی تیز کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس حوالے سے کہا کہ ‘میں تکنیکی اعتبار سے رائے نہیں دے سکتا تاہم وزارت صحت اور خارجہ امور کے متعلقہ محکمے اس پر کام کر رہے ہیں’۔
واضح رہے کہ چین میں نئے کورونا وائرس نمونیا بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 سو 71 تک جا پہنچی جس میں سے 95 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تمام افراد کی موت صوبے ‘ہوبے’ میں ہوئیں جو اس وبا کے پھیلاؤ کا مرکز بنا ہوا ہے، اس کے علاوہ ہانگ کانگ، مکاؤ اور تائیوان میں بھی ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔
اس سلسلے میں امریکا کے ایئرپورٹس اور ایشیا میں ٹرانسپورٹ کے مرکز پر مسافروں کی اسکریننگ کی جارہی ہے جبکہ برطانیہ اور اٹلی نے ووہاں سے آنے والے مسافروں کی نگرانی میں اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button