پاکستان کے وہ پراسرار مقامات جہاں جن بھوت بستے ہیں

بھوت پریت کی پراسرسر کہانیاں ہم سب ہی سنتے آئے ہیں۔ کچھ لوگ ان کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسی کہانیاں سن کے مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنات کے بارے میں عجیب وغریب کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جنات اور ان کا گھروں اور عمارتوں میں بسیرامحض من گھڑت کہانیاں ہیں،لیکن بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جنات حقیقت میں موجود ہیں۔ آج ہم آپ کو پاکستان کے چند ایسے ہی خوفناک مقامات کے بارے میں بتائیں گے ، جن کے بارے میں شاید ہی آپ کو پہلے کچھ معلوم ہو۔
کوئٹہ کے قریب پہاڑی سلسلہ چلتن میں واقع سب سے بلند چوٹی ہے، جس کی اونچائی 10 ھزار فٹ سے زائد ہے۔ یہ زرغون اور کوہِ تختو کے بعد کوئٹہ کی تیسری بڑی چوٹی اور بلوچستان کی پانچویں بڑی چوٹی شمار ہوتی ہے۔ کوئٹہ کے قریب واقع اس پہاڑی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ایک پراسرار جگہ ہے ۔یہاں ان 40 بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں جن کے والدین نے انہیں تنہا مرنے کے لئے وہاں چھوڑ دیا تھا۔مقامی افراد اس بارے میں ایک داستان سناتے ہیں۔
داستان کے مطابق صدیوں قبل ایک غریب بے اولاد جوڑا اولاد کے لیے کسی بزرگ کے پاس جارہا تھا۔ بزرگ کی دعا قبول ہوئی اور ان کے ہاں ایک دو نہیں بلکہ 40 بچوں کی ولادت ہوئی۔ یہ غریب جوڑا اتنے سارے بچوں کی کفالت نہیں کر سکتا تھا چنانچہ انہوں نے ایک بچے کو اپنے پاس رکھ کر 39 بچے پہاڑ پر چھوڑ دیے۔ کچھ عرصہ بعد عورت یہ سوچ کر پہاڑ پر گئی کہ شاید ان بچوں کی موت واقع ہوچکی ہوگی لیکن وہ سب وہاں زندہ تھے۔ بیوی خوشی سے شوہر کو یہ بتانے کے لیے واپس آگئی اور ایک بچہ جو ان کے پاس تھا وہ بھی پہاڑ پرہی چھوڑ گئی۔ کچھ دیر بعد جب دونوں میاں بیوی پہاڑ پر پہنچے تو سارے بچے غائب ہوچکےتھے۔
یہ داستان سچی ہو یاجھوٹی …. لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آج بھی انہی 40 بچوں کی روحوں کے چیخنے،چلانے اور رونے کی آوازیں اکثر و بیشتر سنائی دیتی ہیں۔

صوبہ سند ھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع مکلی کے نام سے مشہور یہ قبرستان اپنے اندر کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے۔یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جو تقریباً 8 کلومیٹر پرپھیلا ہوا ہے۔ یہاں بعض قبریں منزلوں میں بنائی گئی ہیں۔ 13 ویں صدی کے اس قبرستان میں 1 لاکھ سے زائد قبریں ہیں لیکن اب یہاں کسی کو دفن نہیں کیا جاتا۔ اس کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ اس قبرستان میں آتے ہیں۔اس قبرستان میں جنات اور پریوں سے متعلق بھی کئی پراسرار باتیں منسوب ہیں۔

سربفلک اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان سطح سمندر سے 3224 میٹر( 10578 فٹ ) کی بلندی پر ایک انتہائی خوبصورت جھیل سیف الملوک جسے دنیا بھر سے سیاح دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اس جھیل سے متعلق ایک افسانوی داستان مشہور ہے۔یہ قصہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔ کہاجاتا ہے کہ صدیوں قبل ایک فارسی شہزادہ سیف الملوک اور پریوں کی رانی بدیع الجمال ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے لیکن کچھ لوگوں کو یہ پیار ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے دونوں کو قتل کردیا اور تب سے اب تک ہررات کو پریاں اس جگہ آکر اپنی ساتھی کو یاد کرکے روتی ہیں۔ آج بھی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں اکثر رات کو پریاں اُترتی ہیں ۔ بعض لوگ اس جھیل کو طلسماتی جھیل بھی کہتے ہیں۔
حیدرآباد میں واقع شمشان گھاٹ، جہاں ہندو اپنے مر جانے والے لوگوں کی چتائیں جلاتے ہیں، اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو یہاں جلایا جاتا رہا ہے ان میں سے بعض کی روحیں اب بھی یہیں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ یہ شمشان گھاٹ تقریباً اڑھائی سو سال پرانا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غروب آفتاب کے بعد اکثر یہاں کئی بچے کھیلنے کے لیے آتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکالتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی کبھی گیٹ سے آتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، یہ بچے پتہ نہیں کون سی جگہ سے آتے ہیں اور کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اورصبح سورج نکلنے سے قبل اپنا کھیل ختم کرنے کےبعد غائب ہوجاتے ہیں۔رات بھر پراسرار آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں ۔

کوہِ سلیمان جنوب مشرقی افغانستان، جنوبی وزیرستان ،صوبہ بلوچستان کے شمالی علاقوں ، اور صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں، پر مشتمل ہندوکش پہاڑی سلسلہ کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس پہاڑ کے بارے میں کئی دلچسپ قصے اور کہانیاں ہیں ، جتنے قصے اور کہانیاں ہیں اُتنا ہی یہ پہاڑ پرُاسرار بھی ہے ، مقامی لوگ اسے “برقعہ پوش پہاڑ ” بھی کہتے ہیں ، برقعہ پوش اس لیے کیونکہ بعض اوقات یہ انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتا، البتہ بارش ہو جائے تو یہ میلوں دور سے نظر آتا ہے ، اس پہاڑ پر ایک تخت بھی ہے جسے مقامی لوگ “تختِ سلیمان” کہتے ہیں۔ اس تخت کے بارے میں روایت ہے کہ اس جگہ پر حضرت سلیمان کا تخت جو ہوا میں اُڑتا جا رہا تھا کچھ لمحوں کیلئے ٹھہر گیا، اس پہاڑ کی چوٹی کو بھی دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے یہ خاص طور پر بیٹھنے کی جگہ ہو۔ اس پہاڑ پر جنات کی موجودگی کے قصے آج بھی سننے کو ملتے ہیں۔
دوستو، یہ تھے پاکستان کے چند مشہور مقامات جو بھوت پریت، پریوں اور بلاؤں کی وجہ سے مشہورہیں۔ کچھ لوگ ان کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔ ان مقامات سے منسوب باتوں میں کتنی سچائی ہے اس کے لیے مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے۔
