پاکستان کو افغان طالبان کی وکالت کتنی مہنگی پڑے گی؟

افغان طالبان کی کامیابی کے بعد وزیرا عظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی معید یوسف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو طعنے دے کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے علاوہ طالبان کی وکالت اور ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں جس کا عالمی سطح پر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سنیئر صحافی سلیم صافی اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں لکھتے ہیں کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی اور معید یوسف جیسی شخصیات کے منہ سے ادا ہونے والے ہر لفظ کو سفارتی حلقوں میں پرکھا اور تولا جاتا ہے اور پھر اسی حساب سے پاکستان کو جزا یا سزا دینے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ صافی کہتے ہیں کہ امریکہ کی شکست پر پاکستانی حکمرانوں کی خوشی تو عاارضی ہے لیکن میری خوشی حقیقی ہے کیونکہ عمران خان کی طرح نہ تو میرے بیٹے برطانیہ میں رہتے ہیں، نہ شاہ محمود کی طرح میرے بیٹے نے امریکی سفارت کاروں سے ٹریننگ لی ہے اور نہ ہی معید یوسف کی طرح میں نے کسی امریکی تھنک ٹینک کے ساتھ کام کیا ہے۔
صافی بتاتے ہیں کہ انکی زندگی امریکہ کے ہاتھوں ان تینوں حکومتی شخصیات سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اس خطے اور بالخصوص پختون پٹی میں امریکہ گزشتہ 40 سال سے جو گندا کھیل کھیل رہا ہے، اس سے ان تینوں کی نسبت میں زیادہ متاثر ہوا ہوں۔ اس کھیل کی وجہ سے میری تعلیم متاثر ہوئی۔ میں پانچ مرتبہ موت کے منہ میں جاتے ہوئے بچا۔ اس گندے کھیل کے باعث عشروں سے سیکورٹی ہی میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یوں ایک متاثر مسلمان، پختون اور پاکستانی ہونے کے ناطے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کی زیادہ خوشی مجھے ہی ہونی چاہئے، لیکن سلیم صافی کہتے ہیں میں نے پاکستانی حکمرانوں اور ترجمانوں کی طرح کوئی جشن نہیں منایا بلکہ الٹا کئی حوالوں سے تشویش کا اظہار کرتا رہا، بالخصوص وزیروں مشیروں سے التجائیں کررہا ہوں کہ وہ اپنی زبان کا استعمال کم سے کم اور محتاط طریقے سے کریں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومتی ایوانوں میں ایک مقابلہ جاری ہے۔ کبھی عمران خان خود کو افغان امور کا ماہر ثابت کرنے کے لئے امریکہ پر تبرا کرتے ہیں، کبھی شاہ محمود اپنی سیاست کی خاطر طالبان کی تعریفیں کر کے امریکہ کے قہر کو دعوت دیتے نظر آتے ہیں، کبھی معید یوسف امریکہ کو طعنے دے کر تاثر دیتے ہیں کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ کہ ہمارے پاس اور آپشنز بھی موجود ہیں۔
سیلم صافی کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تب تک پاکستان کے محتاج تھے، جب تک وہاں ان کے فوجی موجود تھے۔ وہ پہلے سے چین اور اس کی معیشت کے سائز کے تناظر میں ہندوستان کو اپنا چہیتا اور پاکستان کو مستقبل کا حریف ڈکلیئر کرچکے ہیں۔ اسلئے افغانستان کے بارے میں تو امریکی حکام روزانہ کی بنیاد پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وغیرہ سے رابطے میں رہے لیکن امریکی صدر ایک سال سے وزیراعظم سے فون پر بات نہیں کر رہے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ افغانستان کے علاوہ اب پاکستان میں امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی گزشتہ 20 سال سے پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگا کر اپنی شکست کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے رہے۔ قطر مذاکرات کے آغاز کے بعد وقتی محتاجی کی وجہ سے انہوں نے زبانیں بند کرلی تھیں لیکن یہ ہر سمجھدار انسان پر واضح ہے کہ افواج نکالنے کے بعد جب امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی شکست کے زخم چاٹ لیں گے تو سارا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کریں گے۔
صافی کے مطابق امریکی کانگریس میں حالیہ بحث اور سیکرٹری خارجہ بلنکن کے بیان سے واضح تھا کہ اب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں اپنی بدترین شکست کی ذمہ داری پاکستان پر تھوپنا چاہتے ہیں۔
سلیم صافی کے بقول اسی تناظر میں ضرورت اس بات کی تھی کہ طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان، افغانستان کو ایک الگ ریاست اور حکومت کے طور پر ڈیل کرتا۔ ان سے باہمی روابط رکھ کر انکے مطالبات اور اپنے مطالبات ہی پر توجہ مرکوز رکھتا۔ ان کی حکومت کو تسلیم کرنے یا پھر انہیں عالمی تقاضوں کے مطابق حکمرانی پر آمادہ کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کرتا لیکن المیہ یہ ہے کہ عمران خان، شاہ محمود اور معید یوسف میڈیا میں یا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو طعنے دے کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں یا پھر طالبان حکومت کی وکالت اور ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اب طالبان کا اپنا وزیراعظم بھی موجود ہے، اپنا وزیر خارجہ بھی اور اپنا وزیر داخلہ بھی۔ وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔
صافی کہتے ہیں کہ حالت تو یہ ہے کہ ملا عبدالغنی برادر سے امریکی صدر آدھ گھنٹہ گفتگو کرتے ہیں لیکن عمران خان سے کوئی بات کرنا گوارا نہیں کیا۔ سی آئی اے اور ایم آئی 6 کے سربراہ آ کر طالبان سے براہ راست بات کرتے ہیں۔ روس، ایران اور چین کے سفارتخانے کابل میں کام کررہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا وفد کابل میں سراج الدین حقانی سے ملا ہے۔ انکامکینا یے کہ افغان ترجمان ہماری حکومت کے ترجمانوں سے ہزاروں گنا زیادہ سمجھدار ہیں اور ان کا وزیر خارجہ ہمارے وزیر خارجہ سے ہزار گنا زیادہ سنجیدہ و زیرک ہے۔ ایسے میں ہمارے وزیراعظم، اور وزیر خارجہ کو ان کی ترجمانی کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ ان صاحبان کو یہ بھی علم نہیں کہ ان کی اس روش کا طالبان بھی برا مناتے ہیں۔ سفارتی آداب کی وجہ سے وہ ان کو منع نہیں کررہے لیکن اس وقت طالبان کو مسئلہ درپیش ہے کہ وہ دنیا اور اپنے عوام کے سامنے ثابت کریں کہ وہ خودمختار ہیں اور یہ کہ وہ پاکستان کے پراکسی نہیں ہیں۔
