پاکستان کو ناکام ریاست بننے سے روکنے کا طریقہ کیا ہے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو ریاست پاکستان کو یرغمال اور مفلوج بنانے والے ادارے کی اصلاح کرنا اور اس سے ملک کا قبضہ واپس لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم ”قومی سلامتی” کے موجودہ تصور کو ”قومی طاقت” کے تصور میں تبدیل کر کے ملک کو ایک نارمل ریاست بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے معاشی طاقت اور سیاسی نمائندگی کو فوجی طاقت اور ہائبرڈ حکومت سازی پر فوقیت دینا ہوگی۔ لہذا ووٹ کو عزت دینا ہو گی اور آزاد اور منصفانہ انتخابات میں عوامی حمایت سے جیتنے والوں کو اقتدار سونپنا ہو گا۔ لیکن ضروری ہے کہ یہ اقتدار حقیقی ہو، محض علامتی نہ ہو۔
ہفت روزہ فرائیڈے میں اپنے ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ کوئی راز نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین شدید تناؤ پیدا ہوچکا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے تعلقات میں دراڑ بھی نمودار ہوچکی ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کیا یہ صورت حال حکومت کی تبدیلی کا باعث بنے گی؟ اسکے بعد کس قسم کی حکومت آئے گی؟ کیا موجودہ حکومت 2023 تک چلتی رہے گی یا یہ فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا حکم دے دے گی؟ نیزتازہ انتخابات کب کرائے جائیں گے؟ لیکن سب سے اہم سوال تو ابھی پوچھا جانا باقی ہے اور وہ یہ یے کہ کیا اگلی منتخب حکومت ماضی کی طرح غلط طرزِ حکمرانی اور غلط موقع پرست معاشی پالیسیاں جاری رکھے گی؟ یا وہ پاکستان کے معاملات درست کرنے کے لیے انقلابی سیاسی اور معاشی اصلاحات کا راستہ اختیار کرے گی؟
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے پاکستان کو ایک عسکری ”قومی سلامتی کی ریاست” کے طور پر تشکیل دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ غیر منقسم ہندوستان سے وراثت میں ملی سول ملٹری بیوروکریسی ناتجربہ کار سیاسی جماعتوں اور طبقوں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم تھی۔ بانی پاکستان، محمد علی جناح کی تدبیر اور تدبر سے وجود میں آنے والا پاکستان ان گروہوں کے ہاتھ آگیا۔ اس سول ملٹری بیوروکریسی نے ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کو فروغ دیا اور پروان چڑھایا جس نے سیاسی نمائندگی اور عوامی بہبود پر ”قومی سلامتی” کے دوٹوک تصورات کو فوقیت دی۔ بھارت کے ساتھ چار جنگیں چھیڑ کر ریاست اور معاشرے پر اپنی گرفت قائم کرلی۔ تین بار براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا جب کہ جمہوری حکومتوں کو غیر مستحکم اور کمزور کرنے کا عمل جاری رکھا۔ جب خود مختاری حاصل کرنے کی دھمکی دی تواس نے اپنی لائی ہوئی کٹھ پتلی حکومتوں کو بھی چلتا کردیا۔ اس نے لائسنس، تحفظ اور سبسڈی کے ذریعے منافع خور کاروباری طبقے اور اس سے جڑی زمیندار اشرافیہ کے ساتھ اتحاد کرکے معاشی اٹھان پر اپنی گرفت جمالی۔ بجٹ کو اپنے بس میں کرلیا۔ اپنے مفادات کو کم کرنے کی ہر عوامی کوشش کو بزوربازو ناکام بنایا۔ واشنگٹن کے ”قومی سلامتی کے مفاد” کے نظریے کو اپنا کر اربوں ڈالر کی امداد اور قرضے حاصل کرکے خود کو امریکہ کو کرائے پر دے دیا۔ ریاست کے اس ڈھانچے اور غیر ملکی قرضوں اور امداد پر گزارہ کرنے کی عادت نے معیشت کو بگاڑ کر معاشرے کو تباہ کر ڈالا۔
لہذا نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو مفلوج بنائے رکھنے والے ادارے کی دوری اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انکے مطابق اس سلسلے میں بارش کا پہلا قطرہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ ہے۔ ہمیں اس تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچتے دیکھنا چاہیے۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات میں عوامی حمایت سے جیتنے والوں کوا قتدار سونپ دیا جائے۔ لیکن اس کے ساتھ دو مزید شرائط کا پورا کیا جانا بھی ضروری ہے۔ پہلی شرط سول ملٹری بیوروکریسی کی ایسی ناکام سیاسی اور معاشی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ ہے جنہوں نے پاکستان کو ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن یہ صورت حال راتوں رات کسی حکم نامے سے تبدیل نہیں ہوجائے گی۔ اس کے لیے عوام کی حمایت سے منتخب اہل اور پرعزم سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ وہ قیادت جو کارکردگی رکھتی ہو۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نرمی سے مذاکرات کرتے ہوئے یہ مقصد حاصل کرے۔ اب تک ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ایسے سیاسی راہ نما موجود نہیں تھے یا وہ امور مملکت چلانے سے نابلد تھے، یا پھر سول ملٹری بیورو کریسی کیساتھ مناسب طریقے سے مذاکرات کرنے کے قابل نہیں تھے۔
سیٹھی کہتے ہیں لیکن اب امید کی کچھ گنجائش نکل رہی ہے۔ اس لیے کہ نت نئے تجربات کرنے اور قبضہ کرنے کے آپشن ختم ہو چکے۔ دونوں فریقوں کواپنے تصورات اور اختیارات شیئر کرنا چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ دونوں کو احساس ہونا چاہیے کہ صرف مراعات یافتہ طبقے کو مزید نواز کرملک بحران سے نہیں نکلے گا۔ انکا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات کا ایجنڈا وسیع سیاسی اور فلسفیانہ معاہدوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے، اگر کفایت شعاری سے کام لینا ہے تو امیر طبقے کو ایسا کرنا ہوگا۔ جو طبقے پہلے سے ہی بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کررہے ہیں، اُنہیں مزید کس کفایت شعاری کے لیے کہا جائے گا؟ لہذا فوجی بجٹ اور ترقیاتی بجٹ دونوں کم کر ک عملی طور پر ایک معقول حد کے اندر لائے جانے چاہئیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ کم کرنے پر یقینا ریاست پاکستان پر قبضہ جمائے والی سول ملٹری بیوروکریسی اور اشراف سے تعلق رکھنے والے اس کے اتحادیوں کی طرف سے سخت مزاحمت کی جائے گی۔ لیکن اس راستے پر چلنے کی سنجیدہ کوشش کے بغیر کوئی بھی حکومت ملک کو کینسر کی بیماری سے نکالنے کی امید نہیں کر سکتی۔
دریں اثنا مناسب سماجی ماحول کو شعوری طور پر تشکیل دیا جائے اور اسے فروغ دیا جائے تاکہ اس طرح کے انقلابی اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ ان میں سے سب سے اہم کا تعلق آبادی میں اضافے اور بنیاد پرستی کو کم کرنے سے ہے۔ پہلا معاشی ترقی کے منافع کو کھاتا ہے جبکہ دوسرا سیاسی عمل کو غیر مستحکم کرتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی غیر ملکی سرمایہ کاری کا راستہ روکتی ہے اور سیاحت اور مہمان نوازی جیسے عالمی معیشت کے سروس سیکٹر سے فائدہ اٹھانے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ دنیا میں یہ سروس سیکٹر سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حتیٰ کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات جیسے اسلام کے رکھوالے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرکے اس ضرورت کو سمجھ چکے ہیں۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔ لیکن اس کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ اگر پاکستان کو ناکام ہوتی ہوئی ریاست بننے، اور پھسلتی ڈھلوان سے نیچے گرنے سے بچانا ہے تو یہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔

Back to top button