فواد چوہدری کو معافی اور اعظم سواتی کو سزا ملنے کا امکان

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تیور دیکھتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعظم سواتی کے برعکس معافی مانگ کر اپنا سیاسی کیریئر بچانے کا سیانا فیصلہ کیا ہے۔ 16 نومبر کے روز فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن میں پیشی کے دوران زبانی معافی تو مانگ رہے ہیں لیکن انہیں تحریری معافی نامہ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے پیشی کے بعد باہر نکلتے ہی گول مول مؤقف دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ میں نے معافی مانگی ہے؟ لہذا ان سے تحریری معافی نامہ مانگ لیا گیا ہے۔ فواد کی جانب سے الیکشن کمیشن کے سامنے سرنڈر کرنے کے بعد اب اس بات کا بھی امکان ہے کہ وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم خان سواتی بھی الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لیں گے۔ تاہم کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کو تو شاید معافی مل جائے لیکن اعظم خان سواتی کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کا قوی امکان موجود ہے کیونکہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور یہ کہا تھا کہ انہوں نے حکومتی مخالفین سے پیسے پکڑے ہیں۔ یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس ہائی کورٹ کے جج کے برابر توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہوتا ہے اور اگر وہ کسی رکن اسمبلی کو سزا سنا دے تو وہ نااہل ہو سکتا ہے۔
16 نومبر کر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے معذرت کرتے ہوئے استدعا کی کہ چونکہ وہ کاغذی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہتے اس لیے ای سی پی کی جانب سے انھیں جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ‘ترجمان’ اور ‘آلہ کار’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ‘چیف الیکشن کمشنر اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں۔’ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فواد چوہدری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان سے اس ضمن میں ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا تھا اور انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
منگل کے روز اس کیس کی ای سی پی میں ہونے والی سماعت کے موقع پر فواد چوہدری نے معذرت کر لی جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں اپنی معذرت تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دیا۔ تحریری معافی نامہ جمع کروانے کے حکم پر فواد نے یقین دہانی کروائی کہ وہ معافی نامہ جمع کروا دیں گے۔
الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا وہ خود بھی ایک وکیل ہیں اور حکومت کے ترجمان بھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کسی کو گالی نہیں دی۔الیکشن کمیشن کا دو رکنی بنچ نثار درانی کی سربراہی میں فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی کی جانب الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات کیس کی سماعت کررہا تھا۔ ادھر دوسری جانب وفاقی وزیر اعظم سواتی سماعت میں خود تو پیش نہیں ہوئے تاہم ان کے وکیل نے بینچ کو بتایا کہ اعظم سواتی سینیٹ میں مصروف ہیں اس لیے الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن نے سنگین الزامات کیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی ہے لیکن اگلی پیشی پر اعظم سواتی کے خلاف سخت کاروائی کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا معاملہ ہے۔ وفاقی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے حق میں آخری حد تک چلی گئی ہے اور اس کے لیے حکومت نے بجٹ میں رقم بھی مختص کر دی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں اس ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کے استعمال سے بھی الیکشن شفاف ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس مشین کے سافٹ وئیر میں کسی بھی وقت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں 37 اعتراضات پر مبنی نوٹ سینیٹ میں پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔
بعد ازاں قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الیکشن کمشنر پر پیسے لینے اور غیر شفاف انتخابات کروانے کے الزامات لگائے تھے۔ وفاقی وزیر نے یہاں تک کہا تھا کہ ایسے ادارے کو آگ لگا دینی چاہیے۔ ای سی پی ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر سواتی نے ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی الیکشن کمیشن کے سینئر حکام کی موجودگی میں ای سی پی پر سنگین الزامات لگائے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی سے اپنےالزامات کے حق میں ثبوت مانگ لیے تھے یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس ہائی کورٹ کے جج کے برابر توہین عدالت کی کارروائی کے اختیارات ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی شخص کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اعظم سواتی کو توہین عدالت کے الزام پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی سزا سنا دی جائے تو وہ بطور رکن پارلیمنٹ نااہل ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اراکین کی جانب سے اس اہم ترین آئینی ادارے پر جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ اس روش کو روکنے کے لیے لئے الزام لگانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
