پاکستان کو طالبان کے بجائے اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے

اس بات میں کوئی شک نہیں افغانستان میں دیرپا امن ہی پاکستان میں امن کا ضامن ہے لیکن حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خوامخواہ طالبان کے وکیل بننے کی بجائے بیک بینچز پر رہ کر ان کی جائز مدد کریں خصوصا ایسے حالات میں جب ہمارے وزرا کے بیانات ہمارے ہی خلاف استعمال کیے جانے کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
معروف صحافی اور اینکر پرسن عادل شاہزیب اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی سے یہ تاثر مضبوطی ہوا ہے کہ طالبان کے افغانستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد اب پاکستان دنیا کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں رہا۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈز کے تازہ موقف سے بھی یہی بات جھلک رہی ہے۔ عادل کا کہنا ہے کہ حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ عالمی منظرنامے پر گہری نظر رکھ کر معاملات کو ہر ممکن حد تک سنبھالنے کی کوشش کی جائے، لیکن ہم گذشتہ ایک ماہ سے عالمی طاقتوں کو یہ لیکچر دینے میں مصروف ہیں کہ کیوں نہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا جائے؟ ساتھ میں ہم کبھی طالبان کی حکومت کو کثیر النسلی بنانے کے وعدے کر رہے ہیں تو کبھی تاجک اور ازبک قیادت سے طالبان کی صلح کروانے کے۔ وزیر اعظم سمیت اہم حکومتی وزرا کے بیانات سے اس وقت یہی جھلک رہا ہے کہ ہمیں اس وقت اپنے گھر کی فکر کی بجائے افغانستان میں طالبان حکومت کے مستقبل کی زیادہ فکر ہے۔
عادل شاہزیب کہتے ہیں کہ افغان طالبان اپنی حکومت بنا چکے۔ ان کا اپنا فل ٹائم وزیر خارجہ موجود ہے۔ اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس بات کو ترجیح دیں کہ طالبان دنیا کے سامنے اپنا کیس خود لڑیں۔ وزیر اعظم عمران خان بھی جتنا جلدی یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ طالبان کی وکالت ہمیں اور خود طالبان کے لیے آگے جا کر نقصان دہ ثابت ہو گی اتنا ہی دونوں کا فائدہ ہوگا۔ خود افغان طالبان آف دی ریکارڈ ملاقاتوں میں اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ پاکستانی وزرا کے ان کے حق میں جاری ہونے والے بیانات سے انہیں الٹا نقصان پہنچ رہا ہے۔
عادل کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا خطرہ تیزی سے سر اٹھا رہا ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں پاکستان کے ناصرف سرحدی علاقوں بلکہ شہروں میں بھی تی تی پی حملے بڑھے ہیں جن میں سے اکثر کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے ہی قبول کی۔ رواں سال 2021 کے نو ماہ کے دوران اب تک کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان میں کم ازکم ڈیڑھ سو حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ دوسری جانب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور حکومت دونوں تحریک طالبان پاکستان کو عام معافی دینے کی تجویز آگے بڑھا رہے ہیں حالانکہ طالبان نے اس تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے جواب میں حکومت پاکستان کو معافی دینے کی مشروط پیشکش کی ہے۔
عادل شاہزیب کہتے ہیں کہ اگرچہ اس بات کے قوی شواہد ابھی سامنے آنے باقی ہیں لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ فی الحال کرکٹ کی آڑ میں ہی سہی لیکن پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دینے والے ممالک اپنے عمل کا آغاز کر چکے ہیں۔ افغانستان کے حالات مزید بگڑیں یا سدھریں اس سے زیادہ ہمیں اب اس سے سروکار رکھنا پڑے گا کہ کرکٹ کے میدان میں ہمیں تنہا کرنے کے بعد اگلا وار کہاں سے اور کس میدان میں کیا جائے گا۔ عمران خان حقانیہ مدرسے سے فارغ التحصیل حقانیوں کو پشتونوں کا قبیلہ تو بنا چکے لیکن جس کھیل کے چیمپئن بن کر وہ وزیراعظم بنے اس کھیل میں ہمیں میدان جنگ میں اترے بغیر ہی ہزیمت کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ہم بےشک نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے فیصلوں کی سو وجوہات تلاش کر سکتے ہیں لیکن اگر ان وجوہات کی تلاش کا آغاز گھر سے ہو تو نتائج زیادہ مثبت ہوں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں افغانستان میں دیرپا امن ہی پاکستان میں امن کا ضامن ہے لیکن حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بیک بینچز پر رہ کر ہی طالبان کی جتنی مدد کر سکتے ہیں وہی کریں خصوصا ایسے حالات میں جب ہمارے وزرا کے بیانات ہمارے ہی خلاف استعمال کرنے کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
