پاکستان کے براڈشیٹ کو دیےگئےملینز ڈالرز کے کئی دعویدار 

برطانوی عدالت کے حکم پر پاکستان کی طرف سے براڈ شیٹ کو ادا کئے گئے ملینز ڈالرز کی خطیر رقم کےکئی دعویدار سامنے آگئے ہیں جنہوں نے براڈ شیٹ سے اپنا حصہ لینے کیلئے برطانیہ میں قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں آئیل آف مین کی عدالت نے ایک ہیج فنڈ کی جانب سے 29؍ ملین ڈالرز کی وہ پوری رقم حاصل کرنے کی کوشش کو روک دیا ہے جو پاکستان نے براڈشیٹ کو ادا کی تھی۔ خیال رہے کہ برطانوی ہائی کورٹ نے براڈشیٹ کو رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کے اثاثہ جات ضبط کرنے کی ہدایت کی تھی۔ دو سال قبل پاکستان کی جانب سے براڈشیٹ کو یہ رقم ادا کرنے کے بعد کیمن آئی لینڈ میں وی آر گلوبل پارٹنرز نامی ایک ہیج فنڈ نے اس بنیاد پر پوری رقم کے حصول کا دعویٰ کیا کہ اس نے براڈ شیٹ کے وکلاء کو پاکستان کیخلاف لندن ہائی کورٹ کے فنانس ڈویژن میں مالی نوعیت کے کیس میں ثالثی کیلئے فنڈز مہیا کیے تھے۔ تاہم اب آئیل آف مین کی عدالت نے براڈشیٹ کے لیکوئیڈیٹر کو درخواست پر فیصلہ آنے تک رقم تقسیم کرنے سے روک دیاہے۔

 

لندن سے سینئر صحافی مرتضٰی علی شاہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہیج فنڈ کی جانب سے درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے 2017ء میں براڈشیٹ کو ایک لیگل معاہدے کے تحت 6؍ ملین ڈالرز دیے تھے اور اس معاہدے میں اتفاق ہوا تھا کہ پاکستان کیخلاف ثالثی کے نتیجے میں مالی فوائد میں سے حصہ دیا جائے گا۔ وی آر کے دعوے کے مطابق، براڈشیٹ کو پاکستان سے ملنے والی پوری رقم پر اس کا حق ہے۔ وی آر نے معاہدے میں ایسکیلیٹر کلاز کا حوالہ دیا ہے۔ براڈشیٹ کے مطابق، یہ ایسکیلیٹر وی آر جی پی اور نیب کے کرپٹ افسران کے درمیان ایک سازش ہے۔ مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق فیصلے کی نقل کو دیکھ کر دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادا کردہ رقم پر کئی پارٹیوں نے دعویٰ ظاہر کیا ہے اور وی آر جی پی ہیج فنڈ چاہتا ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر یہ فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ وہ پوری رقم لے سکے۔ فیصلے کے مطابق، جو کمپنیاں براڈشیٹ کو پاکستان کی طرف سے ادا کردہ رقم کے دعویدار بنے ہوئے ہیں ان میں بلیک روب کروویل اینڈ مورنگ، وی آر جی پی اور براڈشیٹ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بلیک روب نے مڈٹرم فنڈنگ دی، کروم ویل اور مورنگ نے کنٹیجنسی فیس کی بنیاد پر کیس لیا، جبکہ وی آر جی بی نے بھی سرمایہ کاری کی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ دیوالیہ کے قوانین کے خلاف ہے تو وی آر جی پی کے معاہدے پر فریقین پابند نہیں۔ اس ضمن میں جمعہ 10؍ فروری کو اپیل کی ڈیڈلائن دی گئی تھی جو گزر چکی ہے اور وی آر جی پی نے اپیل دائر نہیں کی۔

 

یاد رہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دیگر سیاستدانوں اور کاروباری افراد کے اثاثہ جات کی تلاش کیلئے 20؍ سال قبل براڈشیٹ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ پاکستان نے اس ضمن میں معاہدے کی خلاف ورزی کی اور وہ اب تک لیگل فیس کی مد میں اور کاوے موسیٰ کو کی گئی ادائیگی کی مد میں 65؍ ملین ڈالرز ادا کر چکا ہے۔ براڈشیٹ کے بینیفیشل اونر کاوے موسیٰ ہیں اور وہ ہی ثالثی عدالت میں یہ کیس لیکر سر اینتھونی ایونس کے پاس گئے تھے۔ ثالث جج نے فیصلہ سنایا تھا کہ پاکستان نے براڈشیٹ آئیل آف مین کے ساتھ سازش اور فراڈ کیا ہے۔ براڈشیٹ ایل ایل سی کے وکلاء نے دسمبر 2020ء میں لندن ہائی کورٹ کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کے یو بی ایل میں موجود اثاثہ جات ضبط کیے جائیں۔ رابطہ کرنے پر کاوے موسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ زیر سماعت معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتے جبکہ وی آر جی پی کی طرف سے بھی اس نمائندے کے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔

Back to top button