پاکستان کے مالک خاندان 22 سے بڑھ کر 31 ہو گئے

ایک تازہ تحقیق کے مطابق اب پاکستانی معیشت پر 22 نہیں بلکہ31 دولتمند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ یعنی 50 برس پہلے معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق نے جن 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا انکشاف کیا تھا، وہ بڑھ کر اب 31 ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بیشتر دولت بھی انہی خاندانوں کے ہاتھوں میں محدود ہو چکی ہے۔ اسی لیے سٹاک مارکیٹ بھی اب اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ان چند بڑے سرمایہ کاروں کی گرفت میں آ چکی ہے اور اس میں نئے لوگوں کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔
پاکستانی میڈیا میں اکثر سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھے جانے یا۔پھر مارکیٹ گر جانے کی خبر چلتی ہے جس سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت بہتر یا گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ خود اکثر و بیشتر حکومتوں کی جانب سے بھی سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو اپنی بہتر معاشی پالیسیوں کا ثمر قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی سے نہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال بہتر ہوتی نظر آتی ہے اور نہ ہی عوام کی زندگیاں؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس یا پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک حیران کن نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ڈاکٹر ندیم نے ایک مقالہ تحریر کیا ہے جسکا عنوان ہے: ‘A Small Club: Distribution, Power and Networks in Financial Markets of Pakistan’
محقق نے اس مقالے میں سرکاری اداروں سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں سٹاک مارکیٹ کی سال 2018 کی ساخت کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ چند بااثر کاروباری ادارے اسے کس طرح کنٹرول کرتے ہیں۔ مقالے میں کہا گیا ہے: ‘کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پابند کرتا ہے کہ وہ ٹرسٹی کی حیثیت سے تمام سرمایہ کاروں کے مفادات کی حفاظت کریں خواہ وہ بڑے سرمایہ کار ہوں یا چھوٹے لیکن ان ڈائریکٹرز کا تعلق چونکہ سپانسرڈ خاندانوں یا بڑے کاروباری اداروں سے ہوتا ہے اور وہ بیک وقت مختلف بورڈز میں خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے وہ سپانسرز کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، نہ کہ چھوٹے اور اقلیتی سرمایہ کاروں کے مفاد کا۔’ اس طرح کاروبار پر ملک کے بااثر خاندانوں کی اجارہ داری برقرار رہتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج نصف صدی پرانے ایک انکشاف کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ملک کے پہلے فوجی حکمراں ایوب خان کے دور حکومت کے 10 برس مکمل ہونے پر جب ان کے 10 سالہ عرصہ اقتدار کا جشن ‘اصلاحات اور ترقی کا عظیم عشرہ’ ملک گیر سطح پر منایا گیا تو اس کا اختتام ایک ‘دھماکہ خیز انکشاف’ پر ہوا۔ ایوب حکومت کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہر نے اپنی کتاب ‘ایوب خان: فوجی راج کے پہلے 10 سال’ میں لکھا ہے کہ حکومت کے چیف اکنامسٹ ڈاکٹر محبوب الحق نے انکشاف کیا کہ قومی معیشت اس وقت 22 خاندانوں کی گرفت میں ہے۔ یہ انکشاف قومی زندگی میں ایک دھماکے کی طرح سنا گیا اور سیاسی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے، جن کا نمایاں ترین پہلو یہ تھا کہ یہ معاملہ حکومت مخالف تحریک میں بنیادی ایجنڈے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس یا پائیڈ کی حالیہ تحقیق اسی تسلسل کی کہانی بیان کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان 50 برسوں کے دوران ملک کے کاروباری منظرنامے پر نو مزید خاندانوں کا اضافہ ہوا۔ پائئڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں سٹاک مارکیٹ چھوٹی ہے جس میں آئی پی اوز بھی بہت کم ہیں اور مارکیٹ غیر مستحکم ہے۔
اس تحقیق سے ان تصورات کی تصدیق ہو گئی اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ سٹاک مارکیٹ پر 31 خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 50 برس پہلے ڈاکٹر محبوب الحق نے جن 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا انکشاف کیا تھا، وہی رجحان اب بڑھ کر 31 خاندانوں میں تبدیل ہو چکا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں بیشتر دولت بھی ان ہی کے ہاتھوں میں محدود ہے۔‘
پائیں کی رپورٹ میں اس صورت حال کو اشرافیہ کا ایک محدود ‘کلب’ قرار دیا گیا ہے کیوں کہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ حقیقت میں چند بڑے سرمایہ کاروں کی گرفت میں آ چکی ہے یعنی اس میں نئے لوگوں کے لیے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مصنف گذشتہ نصف صدی کے کاروباری اتار چڑھاؤ اور اس میں رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی ساخت کے جائزے کے بعد اس حیران کن نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں متحرک ملک کی بیشتر کاروباری کمپنیاں اپنے ڈائریکٹرز کے ذریعے باہم منسلک ہیں۔ تحقیق کے مطابق ان کمپنیوں میں خود مختار ڈائریکٹرز کی آسامیاں 220 تھیں جن میں سے صرف دو خود مختار ڈائریکٹرز ایک فرم کے حصے میں آتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 14 فیصد ڈائریکٹرز دو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں، چھ فیصد تین بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جبکہ تین فیصد ڈائریکٹرز چار سے پانچ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بیک وقت کام کرتے ہیں۔
اس رپورٹ میں چار ایسے ممتاز کاروباری اور ٹیکنوکریٹس کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جو بیک وقت 17 کمپنیوں میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ڈائریکٹر شپ کے ذریعے قریبی نیٹ ورک میں منسلک ان اکثریتی کمپنیوں کے مقابلے میں صرف 15 ایسی کمپنیاں سامنے آئیں جو اس نیٹ ورک میں شامل نہ تھیں۔ اسی طرح بعض دیگر اعداد و شمار بھی توجہ طلب ہیں۔ تحقیق کے مطابق صرف 297 ڈائریکٹرز کارپوریٹ منظر رکھتے ہیں، 148 کی تعیناتی حکومت نے کی، 32 ڈائریکٹرز سابق بیوروکریٹ اور 22 فوج کے سابق اعلیٰ افسران ہیں۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان ڈائریکٹرز میں سے اکثریت کا تعلق کراچی سے اور دوسرے نمبر پر لاہور ہے، اس میں خواتین کی نمائندگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ ‘قوانین کی کھلی خلاف ورزی’ ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے درمیان رابطوں کا یہ مضبوط جال اطلاعات کے آزادانہ تبادلے کے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے جس سے اس کاروباری کلب کی معیشت مسلسل فروغ پاتی رہتی ہے۔ اب سوال یہ ے کہ ایسا کیسے ممکن ہو جاتا ہے کہ حکومت کے قوانین کی موجودگی میں چند کاروباری ادارے پورے ملک کے کاروبار کو ایک محدود کلب میں سمیٹ کر رکھ دیں؟ ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اس سوال کے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بیشتر معاشی پالیسیاں طاقتور طبقات کے دباؤ میں بنائی جاتی ہیں اور اس مقصد کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہو تو حکومت اور سرکاری ادارے تمام تر مالی بوجھ عوام پر منتقل کر کے کسی نئی قانون سازی میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ شاہد حسن صدیقی کے مطابق پاکستان کے 22 کروڑ افراد کے معاشی مفادات کے خلاف چند طبقات کا ایک گٹھ جوڑ ہے۔ صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ کلب معیشت کے مختلف شعبوں کے بااثر افراد پر مشتمل ہے جس میں بڑے تاجر، درآمد و برآمد کنندگان، ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ، بعض مذہبی طبقات، اقتصادی ٹیکنوکریٹس اور نجکاری کے نام پر کوڑیوں کے مول قومی اثاثوں پر قبضہ جمانے والے شامل ہیں جنھیں بعض اوقات فیصلوں کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں کی کُمک بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
سٹاک مارکیٹ کے طریقہ کاروبار کے بارے میں ایک سوال پر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اس پر چونکہ چند درجن بڑے بروکرز کی اجارہ داری ہوتی ہے، اس لیے یہ لوگ وقتاً فوقتاً قیمتیں بڑھا کر یا گھٹا کر بحران پیدا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خسارے کا شکار ہو کر چھوٹے سرمایہ کاروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ اقتصادی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں. ڈاکٹر صدیقی کے مطابق 1993 سے اب تک ان طاقت ور طبقات کو ٹیکس ایمینسٹی دی جا چکی ہے جس کی مدد سے یہ لوگ معمولی ٹیکس ادا کر کے کالا دھن اور لوٹی ہوئی دولت کو سفید کر چکے ہیں اور پاکستان میں یہ ایک ایسا معمول بن چکا ہے، جس پر ہر حکومت عمل کرنا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے۔ اسی قسم کے حالات کی روشنی میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں قومی معیشت کی درست تصویر پیش نہیں کرتیں۔ یوں گویا سرمایہ کاری ان مہاجر پرندوں کی شکل اختیار کر چکی ہے جو نسبتاً سازگار حالات میں مختصر وقت کے لیے پاکستان کا رخ کرتی ہے اور جلد ہی اڑ کر باہر چلی جاتی ہے۔
