پاک افغان تجارت عالمی قوانین کے مطابق کیوں نہیں ہے؟

ایک دوسرے کے ساتھ طویل سرحد رکھنے والے پاکستان اور افغانستان جب تک باہمی تجارت کو عالمی قوانین کے مطابق بینکنگ سیکٹر کے ذریعے انجام نہیں دیں گے، دونوں ممالک کی معشتیں خون بہاتی رہیں گی۔ریاض وٹو کا تعلق اوکاڑہ سے ہے، وہ ایک بڑے زمین دار ہیں اور پاکستان افغان سرحد پر سمگلنگ سے براہ راست متاثر ہیں، ریاض کا کہنا ہے کہ جیسے ہی افغانستان میں سمگلنگ بڑھتی ہے، کسانوں کے لیے بیج اور فرٹیلائزر مہنگا ہو جاتا ہے لیکن جب سے سرحد پر سختی ہوئی ہے، فرٹیلائزر کی قیمت تقریباً دو ہزار روپے کم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل نئی فصل لگانے کا موسم ہے، جس کے لیے بیج کی ضرورت ہے، گندم کا بیچ چار ہزار روپے کا تھا، جو سمگلنگ رکنے کی وجہ سے اب کم ہو کر تین ہزار روپے تک آ گیا ہے، کریک ڈاؤن سے گندم کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کم ہو کر چار ہزار روپے تک آ گئی اور مکئی کی قیمت واپس دو ہزار دو سو روپے تک آ گئی۔انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ افغان سرحد کھلنے سے فصل کا ریٹ بڑھتا ہے اور فائدہ کسان کو ہوتا ہے، کسان کم قیمت پر اپنی فصل مڈل مین کو بیچتا ہے، مڈل مین اور ذخیرہ اندوز اسے سٹاک کرتے ہیں اور قلت پیدا کر کے افغانستان سمگل کرتے ہیں جس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ کسان پیسہ کما رہا ہے۔دفاعی تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر بریگیڈیئر (ر) غضنفر نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت غیر رجسٹرڈ اور سمگلنگ میں ملوث افغانوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، جس کے مثبت اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وانا سے چمن تک سمگلنگ زیادہ ہوتی ہے۔ میرے خیال میں ٹریڈ روٹ 75 فیصد بند ہونا چاہئے۔ افغان چار ارب ڈالرز کی ضرورت پاکستان سے پوری کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بند کرنے کی ضرورت ہے۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر میاں نعیم جاوید سمجھتے ہیں کہ پاک افغان ٹرانزٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ تقریباً 300 ارب روپے کی سمگلنگ اس کے ذریعے ہوتی ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان سے افغانستان جانے والا اکثر مال افغان سرحد پر ہی فروخت کر دیا جاتا ہے، برآمدات کے نام پر کاغذات پر مہر لگا کر فائلوں کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے۔کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ جب سے ڈالر کی افغانستان سمگلنگ رکی ہے، افغان کرنسی 4.18 سے گر کر 3.77 پر آ گئی ہے، افغان کرنسی تقریباً 10 فیصد گر گئی، اگر کارروائی جاری رہی تو یہ تین روپے تک گر جائے گی۔پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری میجر (ر) جاوید بخاری نے کہا کہ سمگلنگ دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہی ہے، جسے بند ہونا چاہئے، سمگلنگ کے خلاف اقدامات کرنے پر ہم آرمی چیف کے شکر گزار ہیں، لیکن قانونی اور غیر قانونی تجارت میں تفریق کی ضرورت ہے، سمگلنگ کے باعث سرحد بند ہونے سے قانونی کاروبار کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پولٹری کی تجارت کے لیے خیبرپختونخوا حکومت اور افغانستان کے درمیان معاہدے کیے گئے۔پاکستان میں چکن کی کھپت پیداوار کا صرف 40 فیصد ہے، بقیہ افغانستان ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ پاکستانی چکن اور انڈے جلال آباد تک جاتے ہیں، پاکستان میں اس وقت انڈے اور چکن نقصان پر فروخت ہو رہے ہیں کیونکہ رسد زیادہ اور طلب کم ہے۔ اس سے مہنگائی میں کمی ضرور ہوگی لیکن قیمت پولٹری کاروبار کرنے والوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘

Back to top button