پاک بھارت تقسیم پر مبنی بالی ووڈ کی 5 بہترین فلمیں

برصغیر کے دو بڑے ممالک پاکستان اور بھارت کی 1947 میں تقسیم، فسادات اور اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی کا شمار انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیوں میں ہوتا ہے، لیکن اس موضوع پر بننے والی فلمیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے حوالے سے سامنے آنے والی پہلی مستند فلم ’’گرم ہوا‘‘ تھی، 1973 میں ریلیز ہونے والی ‘گرم ہوا’ اردو کی معروف فکشن نگار عصمت چغتائی کی ایک مختصر کہانی پر مبنی تھی، اس کا سکرین پلے معروف شاعر کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے لکھے تھے جب کہ ایم ایس ستھیو اس کے ڈائریکٹر اور شریک پروڈیوسر بھی تھے، بلراج ساہنی اپنے کرئیر کی یہ شاندار فلم نہیں دیکھ سکے۔ یہ بھی ایک اتفاق تھا جب بلراج ساہنی نے 12 اپریل 1973 کو ‘گرم ہوا’ کی آخری ڈبنگ کی، اگلے ہی دن دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔
اس سلسلے میں بننے والی دوسری فلم ’’تمس‘‘ تھی، جس طرح بلراج ساہنی کو ‘گرم ہوا’ کے لیے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح ان کے بھائی بھیشم ساہنی کا ناول ‘تمس’ ان کا مقبول ترین ناول ہے، جس کے لیے بھیشم ساہنی کو انڈیا کا گرانقدر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا تھا۔’تمس’ کے ہدایت کار گووند نہلانی کے کریئر کی بہترین فلم بھی ہے۔ ‘تمس’ کو 1988 میں قومی یکجہتی پر بننے والی فلم کے لیے بہترین فلم کا نرگس دت ایوارڈ ملا۔
اس کے ساتھ ہی سریکھا سیکری کو ان کی شاندار اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکارہ اور ونراج بھاٹیہ کو موسیقی کے لیے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا، اس فلم میں اوم پوری، امریش پوری، دینا پاٹھک، دیپا ساہی، اترا باؤکر، اے کے ہنگل، منوہر سنگھ، سعید جعفری، افتخار، کے کے رینا، بیری جان اور ہریش پٹیل کے ساتھ مصنف بھیشم ساہنی نے خود بھی اداکاری کی ہے۔
فلم ‘ٹرین ٹو پاکستان’ 1956 میں خوشونت سنگھ کے اسی نام سے شائع ہونے والے مشہور ناول پر مبنی ہے جس کی کہانی ہند-پاک سرحد پر واقع ایک افسانوی گاؤں منو ماجرا پر مرکوز ہے، یہ ایک ایسا پرسکون گاؤں ہے جہاں سکھ اور مسلمان برسوں سے محبت سے رہتے ہیں، دریائے ستلج پر ریلوے لائن بھی ہے۔
درحقیقت جب پامیلا جونیجا نے خوشونت سنگھ کا یہ ناول پہلی بار 1975 میں کولکتہ میں پڑھا تو ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ لیکن ڈرامے میں دلچسپی لینے والی پامیلا کو اس پر فلم بنانے کا خیال صرف اس لیے آیا کہ وہ بچپن سے ہی تقسیم کے بارے میں اپنے والدین سے کہانیاں سنا کرتی تھیں۔ تاہم پامیلا کا یہ خواب 23 سال بعد پورا ہوا جب وہ 40 سال کی تھیں۔ پامیلا راکس نے پانچ سال کومہ میں رہنے کے بعد 2010 میں 52 سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہا لیکن وہ اپنی فلم سے سب کی یادوں میں رہیں۔
2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘پنجر’ تقسیم کے پس منظر پر ہندو مسلم مسائل پر ایک ایسی فلم ہے، جو بتاتی ہے کہ مسائل کو ہم آہنگی سے حل کیا جا سکتا ہے۔فلم میں ہندو مسلم دشمنی کو تقسیم کے وقت دکھایا گیا ہے لیکن فلم کا اختتام ان دونوں کی محبت پر ہوتا ہے۔ ‘پنجر’ نامور پنجابی مصنفہ امرتا پریتم کے اسی نام کے پنجابی ناول پر مبنی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری اور سکرپٹ ڈاکٹر چندر پرکاش دویدی نے کی ہے، فلم کی کہانی ہے، جو بدلے اور نفرت سے شروع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ محبت میں بدل جاتی ہے، پورو کے کردار میں ارمیلا ماٹونڈکر اور رشید کے کردار میں منوج باجپائی نظر آتے ہیں، دوسری جانب منوج کو ‘پنجر’ میں بہترین اداکاری کے لیے جیوری کا خصوصی نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔
تقسیم ہند پر مبنی دیگر فلموں کے برعکس غدر- ایک پریم کتھا’ اس موضوع پر بنائی گئی ایک فارمولا فلم ہے جو انڈیا کے ناظرین کی داد حاصل کرنے کے ارادے سے بنائی گئی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہی۔ ‘غدر’ تقسیم کے سانحے پر مبنی ایک کامیاب اور مقبول فلم ہے، 2001 میں ریلیز ہونے والی ‘غدر’ کو زی ٹیلی فلمز نے پروڈیوس کیا تھا اور اس کی ہدایت کاری انیل شرما نے دی تھی، فلم میں سنی دیول، امیشا پٹیل، امریش پوری اور سریش اوبرائے نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، وہیں، اتم سنگھ کی میوزک ڈائریکشن میں اس فلم کے کئی گانے ہٹ ہوئے اور آج بھی اس کے میمز سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔’غدر’ میں تین مرکزی کرداروں سنی، امیشا اور امریش کی اداکاری ڈرامائی لیکن دلچسپ ہے۔ یہ امیشا پٹیل کی زندگی کی بہترین فلم ہے جس کے لیے امیشا کو خصوصی فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ فلم کی کہانی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک نوجوان تارا سنگھ ایک مسلمان لڑکی سکینہ کو فسادیوں سے بچاتا ہے۔ کبھی تارا اور سکینہ شملہ کے کالج میں اکٹھے پڑھتے تھے۔
تارا اب امینہ کو اس کے گھر بھیجنا چاہتی ہے، پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے والد اشرف علی فسادات میں مارے گئے ہیں، پھر دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ ان کا ایک بچہ بھی ہوتا ہے۔ پھر یہ پتہ چلتا ہے کہ اشرف زندہ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں میئر بن کر سیاست میں چھایا ہوا ہے، آمنہ پھر اپنے والد سے ملنے لاہور جاتی ہے، لیکن اشرف اسے انڈیا واپس نہیں بھیجتا ہے، اور اس کی دوبارہ شادی کرانے کی ترکیب کرتا ہے۔ پھر تارا اور جیت بھی ڈرامائی انداز میں لاہور پہنچ جاتے ہیں، اس کے بعد سنی دیول کی لاتوں اور گھونسوں سے لڑائی کے مناظر اور ہینڈ پمپ اکھاڑ پھینکنے کے مناظر ہیں جو آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔
