پاک ترک تجارتی حجم 5ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم کو 80کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 5ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد میں پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے اپنی تقریر کے آغاز میں دو روزہ دورہ پاکستان میں شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کل میری صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات ہوئی اور آج پارلیمنٹ کے مشترکہ سے خطاب کا موقع بھی ملا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نئے کاروباروں کے لیے دروازے کھولنے کے لیے پرامید ہیں، ہم پاکستان اور ترکی کے سیاسی تعلقات کی طرح کاروباری تعلقات میں بھی فروغ کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے درمیان 800ملین ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے جو قابل قبول نہیں، ہماری مشترکہ آبادی 30کروڑ سے زائد ہے لہٰذا ہمیں تجارت کو اس مقام تک لے جانے کی ضرورت ہے جس کے ہم مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے مرحلے میں باہمی تجارت کو بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک لے جائیں گے جس کے بعد اس کو 5ارب ڈالر کے حجم تک وسعت دی جائے گی۔
ترک صدر نے کہا کہ دونوں ملک باہمی مفاد کی حامل مختلف صنعتوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں اور ہمیں اپنے درمیان کسی بھی تجارتی دیوار کو حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اردوان نے کہا کہ ترکی میں پاکستانی سرمائے کی حامل 158کمپنیاں کام کر رہی ہیں، ہم اس طرح کی مزید کمپنیاں دیکھنے خواہشمند ہیں، اس وقت ہامرے پاس ایک ماڈل موجود ہے جس کے تھت ہم چند شرائط کے تحت سرمایہ داروں کو ترک شہریت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجردوں کو سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستانی بھائیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ترک معیشت پر اعتماد رکھیں، ہم دنیا کی 20بہترین معیشتوں میں سے ایک ہیں۔
ترک صدر نے بتایا کہ ہم پر جی ڈی پی کا 72فیصد قرضہ تھا جو ہم 30فیصد تک لے آئے ہیں، معاشی جاسوسی اور خطے کی صورتحال سمیت تمام چیلنجوں کے باوجود ہم ترقی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی نے سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ 30لاکھ سے بڑھا کر 6کروڑ 80لاکھ تک پہنچا دی ہے جس سے اس شعبے میں آمدنی ساڑھے8ارب ڈالر سے بڑھ کر 35ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے پاکستانی حکومت اقدامات کر رہی ہےاور میرے بھائی عمران خان کی زیر قیادت اچھا ماحول فراہم کر رہی ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ آج پاکستانی پارلیمنٹ سے رجب طیب اردوان کے خطاب کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان میں اگلا انتخاب جیت سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے حکومتی بینچز کو بینچز بجاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن آج تک اپوزیشن بینچوں کے اراکین کو ڈیسک بجا کر تقریر کو سراہتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جو مجھے آج دیکھنے کا موقع ملا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے آپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے سبب پاکستان کے عوام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت ترکی سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سب کچھ کرے گی، ہم پاکستان اور ترکی کی کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم خصوصی طور پر ترک کاروباری برادری کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، میں نے کئی مرتبہ بطور سیاح ترکی کا دورہ کیا اور جس طرح ترک سیاحتی صنعت نے ترقی کی تو پاکستان اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اب تک سیاحت پر کام نہیں کیا گیا لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری بے پناہ صلاحیت کی حامل ہے اور حال ہی میں امریکا کے ایک صف اول کے میگزین نے پاکستان کو 2020 میں سیاحت کے لیے صف اول کا مقام قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحتی صنعت کی ترقی کے لیے ہمارے پاس انفرااسٹرکچر کی کمی ہے اور ترکی تاریخی و ساحلی مقامات کی سیاحت میں بہت ترقی کر چکا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ترکی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ہم ترکی سے بہت سیکھ سکتے ہیں جبکہ ہمارے پاس دنیا کی دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے اور ہم اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
وزیر اعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں بھی سرمایہ کار کے بے پناہ مواقع ہیں جن پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، ترکی کی کان کنی کی صنعت ہمارے مقابلے میں انتہائی جدید ہے لہٰذا ہم اس شعبے میں بھی ترکی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں بھی ترکی ہمارے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ ان کی پیداواری صلاحیت پاکستان سے بہت زیادہ ہے، ہمارے پاس دنیا کی بہترین زرخیز زمینیں ہیں لیکن ہم اپنے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے اور ہم اس سلسلے میں بھی چین سے تکنیک سیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکی جس بھی شعبے میں ہماری مدد کرنا چاہے، ہم ان کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں انہیں سہولیات فراہم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت انتہائی کاروبار دوست ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ کاروبار دوست حکومت ثابت ہو گی اور ہم کاروباری کے لیے آسانیوں کی عالمی درجہ بندی میں ایک سال میں 28درجے بہتری حاصل کر چکے ہیں اور کاروباری برداری کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تقریب میں پاکستان اور ترکی کے سرمایہ کار، وفاقی وزرا و مشیران بھی شریک تھے۔
