پرویز الہٰی کی خوراک میں کروڑوں کے تیتر اور بٹیر شامل

سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی جگہ وزارت اعلیٰ پر براجمان ہونے والے چوہدری پرویز الہٰی نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے نئے قائد عمران خان کے ویژن کے عین مطابق یہ اعلان کیا تھا کہ وہ سادہ طرز حکمرانی کی نئی مثال قائم کریں گے اور سرکاری خزانے سے کسی فضول خرچی یا عیاشی کی اجازت نہیں دیں گے لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں چاہے وہ وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال ہو یا پھر پرویزالہٰی کے کچن کا سرکاری خرچہ ہو، اردو نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہٰی کے آفس نے ’قانونی کارروائی‘ پوری کرتے ہوئے ایک ٹینڈر منظور کیا ہے جس میں ایوان وزیراعلیٰ میں طرح طرح کے کھانوں کے لیے سات کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں۔

اس کے لیے نو کروڑ 75 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق ان کھانوں میں تیتر، بٹیر اور مختلف اقسام کی دیسی مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کے لیے بھی ایک کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے، عام طور پر تیتر یا بٹیر کے گوشت کو شاہانہ کھانا تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نایاب ہوتا ہے اور گرم ہونے کی وجہ سے قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے، اسی لیے یہ معصوم پرندے عرب شیخوں کی فیورٹ خوراک ہوتے ہیں۔

ایوان وزیراعلیٰ پنجاب کی دستاویزات کے مطابق چیف منسٹر ہائوس میں ہر ماہ کالے تیتر کا 50 کلو گوشت درکار ہے، اس کے علاوہ فارمی تیتر کا 100 کلو درکار ہے اور بٹیر کا 400 کلو گوشت درکار ہے۔ یہی نہیں بلکہ دیسی مرغ سمیت نو اقسام کا چکن اور سالم بکرے سمیت 12 اقسام کے مٹن اور بیف کی سپلائی کا ٹھیکہ بھی مختلف کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ تیتر، بٹیر اور دیسی مرغی بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور بکرے کی یخنی کا بھی شوق فرماتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دو برس پہلے 74 سال کی عمر میں ایک 28 سالہ لڑکی سے دوسری شادی کرلی تھی۔

ایوان وزیراعلیٰ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ایوان وزیراعلیٰ کے لیے گروسری اور دیگر اشیا ہر سال ایسے ہی منگوائی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین سال بھی تیتر اور بٹیر منگوائے گئے اور اس سے پہلے بھی یہ صورت حال تھی، دستاویزات کے مطابق جن سات کمپنیوں کو یہ ٹھیکے دیے گئے ان میں ایم ایس زین، ایم ایس ایونٹ آرگنائزرز، الصدیق، ایم ایس عزیز، ایم ایس علی ٹریڈرز، ایم ایس حنیف اور ایم ایس چاہت ایونٹس شامل ہیں۔

تیتر اور بٹیر اور دیگر شاہانہ کھانے وزیراعلیٰ ہاؤس کے لیے کیوں ضروری ہیں اس حوالے سے جب ترجمان وزیراعلیٰ ہاوس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا، البتہ ایک سابق بیورکریٹ کا کہنا تھا کہ بڑے سرکاری ایوانوں میں خواہ وہ گورنر ہاؤس ہو، وزیراعلیٰ ہاؤس یا پنجاب اسمبلی ہو، ہر جگہ شاہانہ کھابوں کا سلسلہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ سابق بیوروکریٹ نے کہا مجھے تو لگتا ہے یہ رسم بھی انگریز دور سے ہی چلی آ رہی ہے۔ لکڑی کے دبیز فرشوں پر لگے بڑی بڑی کھانے کی میزوں پر جب تیتر اور بٹیر کے گوشت کی ڈونگے رکھے جاتے ہیں تو کس کا دل کرتا ہے کہ وہ ان کی سپلائی بند کروا دے خصوصا جب کھانے والا وزیر اعلیٰ 74 برس کی عمر میں ایک 28 سال کی لڑکی سے دوسری شادی کر چکا ہو۔

Back to top button