پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

عدالت نے سابق وزیراعلیٰ اور صدر پی ٹی آئی چودھری پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
پرویز الہٰی کو 2 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزام میں گوجرانوالہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں چوہدری پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی، تفتیشی افسر نے کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو دو مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے، مقدمات کی تفتیش اور رشوت کی رقم برآمد کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
تفتیشی ٹیم نے استدعا کی کہ ملزم پرویز الہٰی کا 14روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے صدر پرویز الہٰی کے خلاف گوجرانوالہ تھانہ اینٹی کرپشن میں 2 مقدمات درج ہیں، دونوں ایف آئی آرز میں گجرات میں سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں کِک بیکس کے الزامات ہیں۔
مقدمہ نمبر 6/23 میں الزام ہے کہ پل بنیاں سے چھتاں والا تک 10 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سڑک تعمیر ہوئی، سڑک تعمیر کا ٹھیکہ دینے کے عوض 50 لاکھ روپے رشوت لی گئی۔مقدمہ نمبر 7/23 میں الزام ہے کہ گجرات پرانا جی ٹی روڈ سے لکھن وال تک 10 ارب روپے کی لاگت سے سڑک تعمیر ہوئی، سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ دینے کے عوض 2 ارب روپے رشوت لی گئی۔مقدمے کے مطابق دونوں ٹھیکوں میں رشوت پرویز الہٰی کے فرنٹ مین سہیل اصغر نے وصول کی۔
