پرویز خٹک کا بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ؟

تحریک انصاف اپنے گڑھ خیبر پختونخوا میں بھی ٹکڑوں میں بٹتی نظر آتی ہیں۔ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور عمران خان کے قریبی ساتھی پرویز خٹک نے بھی پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پرویز خٹک درجنوں PTI رہنماؤں کے ہمراہ جہانگیر ترین سے ہاتھ ملانے والے ہیں۔

 تحریک انصاف کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنےبکی شرط پربتایا کہ پارٹی کے اندرونی حلقے میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے۔ پرویز خٹک سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت انہیں بخوشی قبول کر سکتی ہے۔

اندرونی معاملات سے واقف تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ وفاق میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پارٹی کے کچھ رہنما اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے۔ پارٹی میں اس پر تحفظات بھی تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ بات اس وقت منظر عام پہ آئی جب عمران خان کو پتا چلا کہ کچھ ساتھی تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کو ختم کرنے کے خلاف تھے اور اب اسٹیبلشمنٹ سے مل کر خیبر پختونخوا میں محمود خان کی جگہ عاطف خان کو وزیراعلی بنانے کی مبینہ تیاری مکمل کر چکے ہیں۔عمران خان کے فیصلے کے خلاف جانے والے افراد پرویز خٹک، فواد چوہدری، اسد عمر اور حماد اظہر تھے جنہوں نے مبینہ طور پر یہ تیاری کی تھی اور عاطف خان کو پیشگی مبارکباد بھی دے چکے تھے۔باخبر پارٹی ذرائع کے مطابق جب عمران خان تک یہ بات پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور فوری طور پر اسمبلیاں توڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔ اس سے پرویز خٹک اور عمران خان کے اختلافات کا آغاز ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد پارٹی کے اندر سے بھی آوازیں آنے لگی کہ کون اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہے۔ اس کے بعد سے پرویز خٹک، فواد چوہدری، اسد عمر اور حماد اظہر، عمران خان کی گڈ بک سے نکل گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کی پرویز خٹک اور دیگر رہنماوں سے ناراضی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ حالیہ پنجاب اسمبلی کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم ہو رہی تھی تو فواد چوہدری اور حماد اظہر کو ٹکٹ نہیں دیا گیا، حالانکہ دونوں وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار تھے۔تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد پرویز خٹک کی جانب سے وفادریاں تبدیل کرنے کے حوالے سے باتیں زیر گردش تھیں۔ کچھ عرصہ قبل پرویز خٹک کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو وہ تعزیت کے لیے لاہور ہی میں مقیم تھے لیکن عمران خان نہ تو ان سے تعزیت کے لیے گئے اور نہ ہی انہیں تعزیتی فون کیا، جس کا پرویز خٹک کو دکھ تھا۔

تحریک انصاف کے باخبر رہنماؤں کے مطابق پرویز خٹک کافی عرصے سے پارٹی میں پہلے کی طرح سرگرم نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے وقت اور بعد میں مظاہروں کے دوران بھی پرویز خٹک نظر نہیں آئے، جبکہ 9 مئی کے بعد مکمل روپوش ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پرویز خٹک شاطر اور ہوشیار سیاست دان ہیں۔ وہ فیصلے بھی ہوا کا رُخ دیکھ کر کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ حکومت میں آنے والی جماعت کا حصہ بن سکتے ہیں، جس کے لیے مقتدر حلقوں کی حمایت بھی اسے حاصل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر پرویز خٹک اور عمران خان میں ڈیل ہوگئی تو وہ کہیں نہیں جائیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر پرویز خٹک، جہانگیر ترین سے مل کر خود کو قائد بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم ایک اور ذرائع کا دعوی ہے کہ پرویز خٹک ایک مذہبی سیاسی جماعت سے رابطے میں ہیں، تاہم کچھ معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں پرویز خٹک کسی قوم پرست جماعت کا حصہ بننے کو ترجیح نہیں دیں گے۔ پرویز خٹک کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ 9 مئی کے بعد ان سے رابطہ ختم ہے۔ ان کی رائے ہے کہ اگر انہیں بے حد مجبور کیا گیا تو عمران خان اور پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر سکتے ہیں البتہ الیکشن میں آزاد حیثیت سے جانے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب سینئرصحافی اور اینکر عادل شاہزیب کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا سے جب تک پرویز خٹک نہیں چھوڑ جاتے تب تک عمران خان کی سپورٹ موجود رہے گی۔ پرویز خٹک جہانگیر ترین مختلف لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جہانگیر ترین اگر کوئی سیاسی جماعت بناتے ہیں تو پرویز خٹک ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ اگر وہ پی ٹی آئی چھوڑتے ہیں تو خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے ڈیڑھ سے دو درجن اہم رہنما بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر اگر عمران خان کے حمایتی تھے بھی تو اب نہیں رہے۔ عدلیہ کے پاس بھی آپشن نہیں رہ گیا کہ وہ دائرے سے نکل کر عمران خان کو سپورٹ مہیا کریں۔ عمران خان پچھلے دو مہینے کی زوم میٹنگز میں یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم نے چھوڑنا نہیں ہے، ان میٹنگز کی ویڈیوز بھی سامنے آنے والی ہے۔

سینیئر صحافی مبشر بخاری نے کہا کہ اعجاز چودھری جماعت اسلامی سے نکالے گئے تھے اور اب پی ٹی آئی سے بھی جانے والے ہیں۔ یہ دباؤ وہ سیاسی کارکن برداشت کرتے ہیں جن کی سیاسی تربیت ہوئی ہو۔ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے یہ ہم نے 2002 میں بھی دیکھا اور پھر 2018 میں بھی۔ عمران خان سازش کی بات بہت پہلے سے کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے مگر اب ان کا یہ بیانیہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

رپورٹر حسن ایوب خان نے کہا کہ اطلاعات ہیں چودھری پرویز الہیٰ نے بڑی کوشش کی کہ ان کی معافی تلافی ہو جائے مگر انہیں معافی نہیں ملی۔ اب وہ چاہے پریس کانفرنس بھی کر دیں انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔

خیال رہے کہ 73 سالہ پرویز خٹک نوشہرہ کے منکی شریف میں اس وقت کے نامور گورنمنٹ ٹھیکیدار کے پاں پیدا ہوئے۔ پرویز خٹک اپنی ساسی سفر کا اغاز 1983ممبر ڈسٹرک کونسل نوشہرہ سے کیا تھا اور کامیابیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک تھے۔ پرویز خٹک وزیر آب پاشی اور دو مرتبہ وزیر صنعت و پیداوار بھی رہے۔سال 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے ممبر خیبر پختونخوا منتخب ہوئے اور پی ٹی آئی کے پہلے وزیراعلی بن گئے۔ 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور تحریک انصاف حکومت میں وزیر دفاع کا قلمندان دیا گیا۔پرویز خٹک سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر اور عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے سیاسی فیصلوں میں عمران خان کو مشورہ بھی دیتے تھے۔ اور میٹنگ پر کھل کر مخالفت بھی کرتے تھے

Back to top button