پشاور غیرملکی سیاحوں کا پسندیدہ شہر کیسے بن گیا؟

درہ خیبر کے مشرقی سَرے پر واقع برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک پشاور، وسط و جنوبی ایشیا کی اہم اور قدیم ترین گزرگاہوں پر آج بھی شان سے قائم ہے، ماضی میں اس شہر کو کئی ناموں سے پکارا گیا، کبھی اسے ”کسپاپوروس” کہا گیا تو کبھی ”پشکبور”، کبھی پارس پُور و کشان پُور پکارا گیا تو کبھی پَرشاپور لکھا گیا، انہی ناموں سے بگڑتے بگڑتے یہ موجودہ نام پشاور تک پہنچ گیا جو ایک دور میں پھولوں کا شہر کہلایا جاتا تھا۔سکاٹش شہری کرسٹوفر نے جب اپنی دوستوں کو یہ بتایا کہ وہ اس سال سیاحت کے لیے پشاور جا رہی ہیں تو سب حیران رہ گئے، اور انہیں پشاور نہ جانے کا مشورہ دیا، کرسٹوفر مگر رواں برس پشاور کی سیاحت کرنے کا عزم کر چکی تھیں، دوستوں اور عزیزوں کی جانب سے خبردار کیے جانے کے باوجود خطرے کی پرواہ نہیں کی اور سیاحت کے لیے پشاور روانہ ہوگئیں۔کرسٹور پہلی بار پشاور آئی ہیں اور قصہ خوانی کے بازاروں میں اکیلی گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں مگر انہوں نے رَتی برابر بھی خوف محسوس نہیں کیا بلکہ مقامی لوگوں نے ان کو خوش آمدید کہا اور کچھ دکانداروں نے تو مہمان نوازی کے طور پر کھانوں کے پیسے بھی وصول نہیں کیے۔وہ یقیناً پشاور کے حوالے سے ایک مثبت تاثر لے کر جلد واپس اپنے دیس چلی جائیں گی مگر حکومت کی جانب سے غیرملکی سیاحوں کے لیے این او سی کے حصول کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے جس کے باعث سیاحتی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔مقامی ٹور گائیڈ جلیل احمد کے مطابق غیرملکی سیاحوں کو پشاور کے کھابے بہت پسند ہیں اور وہ بالخصوص نمک منڈی کی گوشت کڑاہی کے دلدادہ ہیں۔ برطانیہ، جرمنی ، فرانس ، امریکا اور جاپانی شہری روایتی شنواری کڑاہی کھائے بغیر تو یہاں سے واپسی کا سوچتے بھی نہیں۔ پشاور کے لوگ اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے بھی مشہور ہیں جن کا دوستانہ رویہ غیر ملکیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے، پشاور آنے والے غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد دراصل افغانستان جانا چاہتی ہے، ٹوور گائیڈ جلیل احمد کے مطابق پشاور سے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں افغانستان کا ویزا لگ جاتا ہے، اسی لیے اکثر غیر ملکی سیاح پشاور سے براستہ طورخم بارڈر افغانستان جانے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم کچھ سیاح اسلام آباد سے بھی بیرونِ ملک کا رُخ کرتے ہیں۔ٹور گائیڈ جلیل احمد نے مؤقف اپنایا کہ ’افغان حکومت نے غیرملکی سیاحوں کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جس کی وجہ سے فارنرز کابل میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، جرمن سیاح فیبین کا کہنا ہے کہ میں دنیا کے تمام جنگ زدہ ممالک دیکھ چکا ہوں جن میں لیبیا ، عراق اور یمن شامل ہیں اور میں اب افغانستان دیکھنا چاہتا ہوں، میں افغانستان میں مزار شریف، کابل، نورستان اور بامیان کے آثار قدیمہ دیکھنا چاہتا ہوں۔پشاور کے ایک ہوٹل منیجر کا کہنا تھا کہ پولیس نے فارنرز کو کمرہ دینے سے منع کیا ہوا ے حالاں کہ ان کے پاس تمام سفری دستاویزات موجود ہوتی ہیں مگر ان کو رات کے قیام کی اجازت نہیں ہوتی۔ٹور گائیڈ جلیل احمد نے بتایا کہ ’اسلام آباد سے کلیئرنس کے بعد شہر میں سیاحت کے لئے محکمۂ داخلہ سے این او سی کا حصول لازمی کر دیا گیا جس کا طریقۂ کار بھی بہت پیچیدہ ہے۔خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے ترجمان سعد بن اویس نے اردو نیوز سے گفتگو میں مؤقف اپنایا کہ ’غیرملکی سیاحوں کے لیے این او سی کی شرط پہلے نہیں تھی مگر حالات کی وجہ سے اب اس شرط پر عملدرآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے، سیاحوں کی آسانی کے لئے ایس او پیز بنائے جا رہے ہیں، سیاحوں کو اگر کسی قسم کی کوئی تکلیف ہو تو وہ ٹورازم اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر بھی بات کر سکتے ہیں۔
