پاکستانی عدالتوں میں پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات

عدالتیں رکھ رکھاؤ اور سنجیدہ ماحول کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہوتی ہیں لیکن وہاں بھی سماعتوں کے دوران کچھ ایسے دلچسپ و عجیب واقعات رونما ہوجاتے ہیں جو لوگوں کو مدتوں یاد رہتے ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار وہ چیف جسٹس تھے جو میڈیا پر بہت متحرک دکھائی دیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اے آر وائی کے رپورٹر اور سینیئر صحافی فاروق سمیع نے چیف جسٹس سے بیپر دینے کی درخواست کی تو انہوں نے یہ درخواست قبول کرلی اور آڈیو بیان دے دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ ملک کے چیف جسٹس نے بیپر دے کر اپنا مؤقف ایک نجی چینل کو دیا۔
سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام کی سب جیل ضیاء الدین اسپتال پر چھاپہ مارا اور ان کے کمرے سے شراب برآمد کرلی۔ اس کا کیس بھی درج کروادیا گیا۔ بعد ازاں کیس پکا کرنے کے لیے مذکورہ بوتل کو جانچ کے لیے لیبارٹری بھجوایا گیا لیکن جب لیبارٹری سے رپورٹ موصول ہوئی تو اس میں بوتل میں بھرا ہوا مائع شہید قرار دیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں بارودی مواد کی برآمدگی کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ایک تفتیشی افسر کیس پراپرٹی یعنی جرم میں استعمال ہونے والی اشیا اپنے ساتھ لیے حاضر تھے۔ جج حیدر نقوی صاحب نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی بم پھٹتے دیکھا ہے، یہ کیسے پھٹتا ہے؟تفتیشی افسر نے جواب میں بتا دیا کہ بم ایسے پھٹتا ہے۔ یعنی انہوں نے مذکورہ کیس میں برآمد ہونے والا گرینیڈ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی پن کھینچ لی۔اب صاف ظاہر ہے کہ اس کے بعد تو ایک زوردار دھماکا ہی ہونا تھا جو ہوا۔ جج صاحب نے تو جیسے تیسے اپنی ٹیبل کو ڈھال بناتے ہوئے خود کو بچالیا لیکن تفتیشی افسر کی 2 انگلیاں ضائع ہو گئیں۔کہتے ہیں کہ تفتیشی افسر کو یہ گمان تھا کہ وہ بم ناکارہ ہے اس لیے انہوں نے جج صاحب کے سوال کو حکم کا درجہ دیتے ہوئے اس کی تعمیل میں آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بم کی پن کھینچ دی،
کراچی بد امنی کیس میں اس وقت کے ڈی جی رینجرز جنرل رضوان اختر ججز کی کمرہ عدالت میں آمد کے وقت بیٹھے رہے جبکہ وہاں موجود تمام افراد احترام میں کھڑے ہوگئے۔ بینچ نے اس بات کو نوٹ کرلیا اور جب سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو عدالت نے ڈی جی رینجرز سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’کھڑے ہو جائیں آپ‘۔عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ کو کورٹ کے ڈیکورم کا اندازہ نہیں، کورٹ کا احترام سب پر لازم ہے اور کوئی بھی اس سے ماوریٰ نہیں‘۔
ایک وقت تھا جب کراچی میں اے ٹی ایم سے شہریوں کی رقوم نکال لیے جانے کا ایک سلسلہ چل پڑا تھا۔ پولیس ملزمان کی کھوج میں ایک چینی گینگ تک بھی پہنچی اور ملزمان کو پکڑنے کے علاوہ مذکورہ کارروائیوں میں استعمال ہونے والے آلات بھی برآمد کرلیے، الغرض مقدمہ درج ہوگیا۔پھر مقدمہ چلتے چلتے وہ دن آگیا جب ملزم پر فرد جرم عائد ہونی تھی لیکن چینی باشندے کو اپنی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان ہی نہیں آتی تھی اب بیچارہ کیا سنے، کیا سمجھے اور کیا جواب دے۔اس پر تفتیشی افسر نے عدالت میں اشاروں سے اسے سمجھایا کہ تمہیں اور کچھ نہیں کرنا بس صرف ا اثبات میں سر ہلا دینا ہے۔ خیر وہ چینی ملزم یہ بات تو سمجھ ہی گیا اور ہاں میں سر ہلاتا رہا جس کے بعد اس پر فرد جرم عائد ہوگئی۔ پھر وہ چینی باشندہ جیل اور تفتیشی افسر اپنی جان چھڑا کر گھر کو روانہ ہوگئے۔
