پیٹرولنگ پولیس سٹریٹ کرائم روکنے میں ناکام کیوں ہے؟

لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں سٹریک کرائمز اپنے عروج پر ہیں جبکہ پیٹرولنگ پولیس ان کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔تین ماہ کے دوران اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے موبائل فون، نقدی اور گاڑیاں چھیننے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں بھی جرائم کی تعداد کم نہیں، پشاور اور کوئٹہ میں سٹریٹ کرائمز بڑھ رہے ہیں،ایک شہری عطا الرحمان اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ دفتر میں کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ رواں برس جولائی میں اسلام آباد کے تھانہ نون کی حدود میں موبائل چھیننے کی واردات ہوئی، عطا الرحمان کے مطابق ’تھانہ نون میں ایف آئی آر درج کرانے کے بعد دو ماہ ہونے کو ہیں، انہیں اپنے چھینے گئے موبائل فون کے بارے میں کوئی مثبت اطلاع نہیں ملی۔ڈولفن فورس کے قیام کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ اس کے اہلکار جدید اسلحے سے لیس ہو کر ہیوی موٹرسائیکلوں پر شہر کی مختلف سڑکوں اور گلیوں میں گشت کرتے رہیں گے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بر وقت سرکوبی کی جائے۔ڈولفن فورس کے علاوہ ‘ایگل سکواڈ‘ اور ’پکار۔ ون فائیو‘ کے نام سے بھی خصوصی دستے بنائے جاتے رہے اور یہ کام بھی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جرائم کے تعداد میں خاطر خواہ کمی نہیں دیکھی گئی۔اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز کو جو معلومات دیں ان کے مطابق ’رواں برس کے دوران اسلام آباد پولیس نے 128 سنیچرز گرفتار کیے اور 90 لاکھ سے زائد مالیت کے 71 موٹر سائیکل برآمد کیے۔ ان میں سے 62 موٹر سائیکل ان کے مالکان کے حوالے کیے گئے۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ 8 ماہ میں جرائم کی 60 ہزار وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 69 شہریوں کو قتل کیا گیا۔سندھ پولیس کی جانب سے کراچی میں سٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی وارداتوں پر یکم جنوری سے 31 اگست تک کی رپورٹ جاری کی گئی تھی، آٹھ ماہ کے دوران 69 سے زائد شہری ڈکیتی میں دوران مزاحمت پر قتل ہوئے اور سینکڑوں شہری زخمی ہوئے جبکہ مختلف دیگر واقعات میں 422 شہریوں کی جان گئی۔یکم جنوری سے 31 اگست تک کراچی میں 18 ہزار 810 موبائل فون چھینے گئے۔ شہریوں کی 39 ہزار 215 موٹر سائیکلیں اور ایک ہزار 96 گاڑیاں چوری ہوئیں یا چھینی گئیں جبکہ 13 تاجروں کو بھتے کی پرچیاں دی گئیں اور چھ کو اغوا کیا گیا، پولیس نے اس عرصے میں 356 موبائل فون، دو ہزار 285 کاریں اور موٹر سائیکلیں برآمد کی ہیں۔لاہور میں جرائم کی صورت حال دیگر شہروں سے مختلف نہیں ہے۔ محکمہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 کے پہلے آٹھ مہینوں صوبائی دارالحکومت لاہور میں دو لاکھ سے زائد مقدمات درج کیے گئے جن میں ڈکیتی، چوری، راہزنی، اغوا اور قتل سمیت ہر طرح کے جرائم شامل ہیں۔لاہور کا سٹی ڈویژن جرائم کی رپورٹنگ کے اعتبار سے پہلے نمبر پر رہا ہے جس میں 46 ہزار سے زائد جرائم رپورٹ ہوئے ہیں، دوسری جانب لاہور پولیس کے ترجمان کا موقف ہے کہ شہر میں جرائم میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں بھی سٹریٹ کرائم کی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ موبائل فون سنیچنگ اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔پشاور میں جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے 2021 میں سپیشل فورس ’ابابیل سکواڈ‘ کے نام سے قائم کی گئی تھی جس میں 800 کے قریب اہلکار تعینات کیے گئے مگر ان ابابیل رائیڈرز کی موجودگی بھی سٹریٹ کریمنلز کو قابو نہ کر سکی۔کوئٹہ میں بھی حالیہ مہینوں میں چوری و ڈکیتی سمیت سٹریٹ کرائمز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، پولیس تھانوں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ کے تقریباً 25 سے زائد تھانوں کی حدود میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سات گاڑیاں، 23 موٹر سائیکلیں اور 135 موبائل فون چوری یا چھیننے کے واقعات ہوئے ہیں۔کوئٹہ میں اردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین احمد کو ایک شہری روح اللہ نے بتایا کہ ایگل سکواڈ کے 800 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ موٹر سائیکل پر شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گشت کرنے والے ان اہلکاروں کو پاکستان فوج سے خصوصی تربیت دلائی گئی۔دوسری جانب کوئٹہ پولیس کا موقف ہے کہ گذشتہ ایک مہینے میں درجن کے قریب چوروں اور رہزنوں کو پکڑا گیا ہے، ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبدالحئی بلوچ کہتے ہیں کہ ’کوئٹہ میں سٹریٹ کرائم کی روک تھام کیلئے حکمت عملی بہتر کرنے اور قابل افسران کو تعینات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
