فلاحی اداروں کی ایمبولینس سروس کیوں متاثر ہونے لگی؟

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز متاثر ہے، کراچی کے فلاحی اداروں کی ایمبولینس سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، ماضی کے مقابلے میں مریضوں کی تعداد 30 سے 35 فیصد تک کم ہوئی ہے۔کراچی کی ایک بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ کئی مریضوں نے تو علاج کرانا تک ترک دیا ہے کیوںکہ وہ ہسپتال تک پہنچنے کے لیے ایمبولینس کی سہولت استعمال کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایمبولینسوں کے کرائے بڑھنے سے کراچی کے غریب علاقوں کے لوگوں نے علاج کروانا ترک کر دیا ہے، کراچی کے علاقوں لانڈھی، کورنگی، اورنگی، ملیر، بلدیہ ٹاؤن، اتحاد ٹاؤن کی مزدور آبادیوں میں ہسپتال ہیں ہیں۔فیصل ایدھی کے مطابق کراچی میں عام دنوں میں ہم 1500 افراد کو ایمبولینس کی سروس فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے ریٹ بھی مخصوص رکھے ہوئے ہیں، مگر اس کے باجود کچھ عرصے سے ریٹ بڑھ جانے کے باعث ایمبولینس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 30 سے 35 فیصد کمی ہوئی، کیوں کہ وہ افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے پیشنٹ ویلفیئر شعبے کی سربراہ فریدہ مظہر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کچھ مریض جو ڈائیلسز کے لیے ہفتے میں (ایس آئی یو ٹی) دو بار آتے تھے وہ اب ایک بار آ رہے ہیں، ایسے مریضوں کی تعداد بتانا مشکل ہے مگر ایسے بہت سے مریض ہیں۔کراچی میں ایمبولینس سروس کے لیے بڑے فلاحی ادارے سجمھے جانے والے ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا کے پاس شہر میں تقریباً 950 ایمبولینسیں ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے اسسٹنٹ زونل انچارج احمد ایدھی کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس کراچی شہر کے لیے 400 سے زائد ایمبولینسیں، شہر سے باہر جانے کے لیے 20 بڑے سائز کی ایمبولینسیں، دو ایئر ایمبولینسیں جبکہ 12 ریسکیو بوٹ اور چھ میت گاڑیاں ہیں۔اسی طرح چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد حسین کے مطابق ان کی تنظیم کے پاس کراچی شہر کے لیے 500 سے زائد ایمبولینسیں ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی جانب قائم کردہ غیر سرکاری تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق کراچی میں الخدمت فاؤنڈیشن کی 305 ایمبولینسیں کام کر رہی ہیں، سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے قائم ذیلی فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے پاس بھی 100 ایمبولینسیں ہیں، ہلال احمر کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے پاس 14 جب کہ ریسکیو 1122 کے پاس 50 ایمبولینس گاڑیاں ہیں۔انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں احمد ایدھی نے بتایا کہ ایدھی ایمبولینس کے کرائے کا ایک فارمولا ہے، جس کے تحت ایک سے آٹھ کلومیٹر تک 200 روپے، نو سے 18 کلومیٹر کے فاصلے کے لیے 500 روپے جبکہ 18 سے 30 کلومیٹر تک 1000 روپے لیے جاتے ہیں۔چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد حسین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد ایمبولینس چلانے کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے لیکن ان کے بقول سرکاری ہسپتال جانے والے افراد عموماً غریب ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ادارے نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باجود ایمبولینس کے کرائے میں اضافہ نہیں کیا ہے، چھیپا فاؤنڈیشن ایمبولینس پر غریب صارفین کو سبسڈی دیتی ہے، مگر پیٹرول کی قیمت کے اضافے کے بعد سبسڈی کی مد میں فاؤنڈیشن کو ایمبولینس پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔محکمہ صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد محکمہ صحت سندھ کو ایمبولینس سروس کی مد میں بجٹ میں اضافہ کرنا پڑا ہے، ہلال احمر کی ویب سائٹ کے مطابق جیپ ایمبولینس کا کرایہ 22 روپے فی کلومیٹر، ٹیوٹا ہائی ایس اور دل کے امراض کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی ایمبولینس کا ریٹ 30 روپے فی کلومیٹر ہے جبکہ اس کے علاوہ انتظار کی صورت میں ایک گھنٹے کا 100 روپے بطور ’ویٹنگ ٹائم‘ چارج کیے جاتے ہیں۔حکومت کا موقف لینے کے لیے جب وزیراعلیٰ ہاؤس سے رابطہ کیا گیا تو نگران وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت سندھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مریضوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کیا سندھ حکومت کراچی میں کام کرنے والی فلاحی ایمبولینس سروس کو تیل کی مد میں کوئی سبسڈی دی گی تو عبدالرشید چنا نے کہا کہ سندھ حکومت سبسڈی دینے کا بھی سوچ سکتی ہے، مگر چونکہ اس کے لیے مستقل بڑی رقم درکار ہے اور اس وقت نگران حکومت ہے، لہٰذا نئی حکومت کے آنے پر ہی یہ اقدام کیا جا سکتا ہے۔
