’’ٹک ٹاک‘‘ نوجوانوں کو کیسے جنونی بنا رہا ہے؟

معروف سوشل میڈیا ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنے سحر میں مبتلا کر رہی ہے، ایپ کا استعمال نوجوانوں کو جنونی بنا رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا ایپ کے کاروبار کی ’’ترقی کی رفتار کم ہونے کے خوف سے‘‘ اس مسئلے سے سنجیدگی سے نمٹا نہیں جا رہا۔جنون کی اس کیفیت کے دوران ٹک ٹاک کا استعمال کرنے والے بلاوجہ اور بلاضرورت اپنے آپ کو اس کے استعمال میں مصروف رکھتے ہیں، اس بات کا ثبوت ٹک ٹاک کے سابق ملازمین، ایپ صارفین کے انٹرویوز اور بی بی سی کی جانب سے کیے جانے والے سوشل میڈیا ڈیٹا کے تجزیے سے ملتا ہے۔اس جائزے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ رجحان روزمرہ زندگی کے معاملات میں خلل اور خرابی کا باعث بن رہا ہے، بی بی سی کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ٹک ٹاک کے مخصوص الگوردھم اور ڈیزائن کے باعث لوگ ایسی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جو انھیں عام طور پر نہیں دیکھنی چاہئیں، ٹک ٹاک نے ماضی میں اپنے آپ کو خرابی پیدا کرنے کے رجحان کا باعث بننے کے الزامات کی تردید کی ہے جیسے کہ گزشتہ ماہ لندن کی آکسفورڈ سٹریٹ میں افواہوں کے باعث لوٹ مار کی دھمکیاں سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیرِاعظم رشی سونک سمیت دیگر سیاستدانوں نے اس کا الزام اربوں صارفین والی اس ایپ پر لگایا تھا۔ٹک ٹاک کے سابق کارکنان اور عملہ جنون سے بھری کارروائیوں میں ٹک ٹاک کے کردار کو ’جنگل کی آگ‘ سے تشبیہ دیتے ہیں اور انھیں ’خطرناک‘ بیان کرتے ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ اس ایپ کے استعمال کرنے والوں میں بڑی تعداد جوشیلے نوجوانوں کی ہے اور وہی اس سے سب سے زیادہ متاثر بھی ہوتے ہیں۔ٹک ٹاک کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کا الگوردھم حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے مختلف گروہوں کو اکٹھا کرتا ہے، بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ایک ہی جیسا مواد دکھانے کے سلسلے کو توڑنے کے لیے مختلف قسم کا مواد لوگوں کو متعارف کرواتا ہے تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ نقصان دہ یا غلط معلومات کو ہٹایا جا سکے اور غیر تصدیق شدہ معلومات والی ویڈیوز تک رسائی کو کم کیا جا سکے۔صارفین زیادہ تر اپنے لیے ایلگوردھم کے ذریعے ڈیزائن کردہ ’فار یو پیج‘ پر مواد دیکھتے ہیں۔ یہ منتخب کردہ مختصر ویڈیوز کی ایک فیڈ ہوتی ہے جو ہر فرد کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے الگوردھم کا استعمال کرتی ہے۔ایلگوردھم اس دوران یہ جانچتا ہے کہ اس ویڈیو کے ساتھ صارفین کس طرح انگیج کر رہے ہیں اور پھر اسے اس مناسبت سے کروڑوں صارفین تک پہنچا دیتا ہے جو کسی بھی دوسرے سوشل میڈیا نیٹ ورک سے رفتار اور صارفین کی تعداد کے اعتبار سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔سابق ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں اکثر سوشل میڈیا صارفین صرف مواد کو دیکھتے ہیں ٹک ٹاک صارفین میں ان کے برعکس اپنی ویڈیوز بنانے کا رجحان کافی زیادہ ہے۔کتاب ’ٹک ٹاک بوم‘ کے مصنف کرس سٹوکل واکر نے اپنی کتاب میں 2021 میں ایک اندرونی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹک ٹاک کے لیے صارفین کی مواد بنانے میں حصہ لینا ’اولین ترجیح‘ ہے۔ شرکت کا یہ پہلو جیک شووالٹر جیسے افراد کے لیے خوفناک شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، اولیویا ایک تجربہ کار سوشل ویڈیو میکر تھیں لیکن یہ جنون ایسے افراد کو بھی متاثر کر سکتا ہے جنھوں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کا مواد پوسٹ نہ کیا ہو اور پھر اچانک انھیں بڑی تعداد میں ویوز مل جائیں جب 45 سالہ نکولا بُلی لنکا شائر کے چھوٹے سے گاؤں میں لاپتہ ہو گئی تھیں تو ہیتھر اس پراسرار خبر کے بارے میں ٹک ٹاک پر مواد دیکھتے ہوئے اس جنون کا شکار ہو گئی تھیں۔ ہیتھر نے بتایا کہ جب آپ اس پرایک ہی موضوع سے متعلق ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ٹک ٹاک کے لیے یہ سوچنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔
