پشاور کے 15 ہزار سکھوں کے لیے ایک بھی شمشان گھاٹ نہیں

پشاور میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے لیکن شہر میں ایک بھی شمشان گھاٹ نہ ہونے کے باعث سکھ کمیونٹی کو برادری میں فوتگی کی صورت میں آخری رسومات کے لیے شدید مسائل کا سامنے کرنا پڑتا ہے اور اٹک میں واقع شمشان گھاٹ تک پہنچنے کے لئے سو کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
پشاور میں 1947 سے پہلے تقریباً 200 شمشان گھاٹ تھے جہاں پر سکھ کمیونٹی کے لوگ اپنے پیاروں کا سنسکار کرتے تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد وہ شمشان گھاٹ یا تو حکومت کے قبضے میں چلے گئے یا پھر عام شہریوں نے قبضہ کر لیا۔پشاور میں تقریباً 15 ہزار سکھ دہایوں سے آباد ہیں مگر جب بھی برادری میں کوئی مرتا ہے تو انہیں آخری رسومات ادا کرنے کے لیے 100 کلومیٹر دور اٹک کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ پشاور میں ان کے لیے ایک بھی شمشان گھاٹ نہیں۔
اس حوالے سے پشاور کے رہائشی اور سکھ کمیونٹی کے سماجی کارکن گورپال سنگھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیاروں کو اپنے شہر میں سنسکار کرنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے حالانکہ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی شہر میں دفنائے یا سسکار کیے جائیں۔
خیال رہے کہ گورپال سنگھ نے شمشان گھاٹ نہ ہونے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے جس کی گزشتہ ہونیوالی سماعت میں عدالت نے حکومت کو آٹھ اپریل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔
گورپال نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی دور حکومت میں آٹھ اضلاع میں شمشان گھاٹ بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے تھے لیکن ابھی تک اس کے لیے زمین نہیں خریدی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت سرکاری قیمت پر زمین خردینا چاہتی ہے جو مارکیٹ قمیت سے کم ہوتی ہے اور کوئی بھی شخص سرکاری قیمت پر زمین دینے کو تیار نہیں۔ حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی زمین پر سیکشن 4 نافذ کر کے اسے خرید لے لیکن شمشان گھاٹ کے لیے زمین خریدنے میں حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
شمشان گھاٹ نہ ہونے کی وجہ سے گورپال سنگھ کے مطابق لاش کو اٹک پہنچانے پر بہت زیادہ خرچہ آتا ہے کیونکہ ایک تو لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر اس کے ساتھ لواحقین کے لیے بھی گاڑی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اٹک میں جو ششمان گھاٹ بنا ہے وہ بھی سرکاری نہیں ہے بلکہ سکھ برادری نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا ہے اور اس کا پورا خرچہ بھی برداشت کر رہی ہے جس میں چوکیدار کی تنخواہ سمیت مردہ جلانے کے لیے لکڑی وغیرہ کا خرچہ شامل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ شمشان گھاٹ جناز گاہ کی طرز کی جگہ ہوتی ہے جس میں سکھ اپنے پیاروں کو سنسکار کرتے ہیں یعنی رسم کے مطابق مردہ جلاتے ہیں جس میں جلانے کے لیے ایک خاص جگہ بنی ہوتا ہے جسے کہ شمشان گھاٹ بولا جاتا ہے۔
شمشان گھاٹ میں لکڑی رکھنے کے لیے ایک چھوٹا کمرہ بنایا جاتا ہے۔ لکڑی لاش کو سنسکار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ایک لاش کو جلانے کے لیے تقریباً ایک من لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے جو آج کوئی چھ ہزار روپے میں ملتی ہے۔
گوپال کے مطابق شمشان گھاٹ میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اپنے پیاروں کو سنسکار کر سکتے ہیں کیونکہ سنسکار کرنے کا طریقہ تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button