پلاٹ حاصل کرنے والے 185 بیوروکریٹس پہلے فلیٹ بھی لے چکے


اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اعلیٰ بیوروکریٹس کو سرکار کی جانب سے ایک سے زائد پلاٹ کی الاٹمنٹ معطل کیے جانے کے بعد اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ گریڈ 20 سے 22 کے 185 سینیئر ترین افسران نے پلاٹوں سے پہلے اسلام آباد میں خصوصی رعایتی نرخوں پر پُرتعیش 2 منزلہ مکانات بھی حاصل کر رکھے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 13 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں پلاٹوں کی الاٹمنٹس کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے یہ سوال غور کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجا تھا کہ طے کیا جائے کیا بیوروکریٹس اور ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ جائز ہے یا نہیں؟ اس سے پہلے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پچھلے برس یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ سرکاری افسروں، ججوں اور جرنیلوں کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ اسلام آباد میں سرکاری پلاٹ حاصل کرنے والوں کی دستاویز کے مطابق ان میں سے ایک بڑی تعداد یوں خوش قسمت ترین ثابت ہوئی کہ اسے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-14 اور ایف 15 میں دو دو پلاٹس ملے۔
دستاویز کے مطابق 588 بیوروکریٹس میں سے 185 خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کی اراضی پر قائم کردی پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن کی ہاؤسنگ اسکیم میں بھی دو منزلہ گھر الاٹ کیے گئے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں سیکٹر-14 اور سیکتر 15 میں بھی پلاٹس الاٹ کیے گے۔
پی ایچ اے ایف اسکیم کے تحت اعلی بیوروکریٹس کو کوری کی ریونیو اسٹیٹ میں ایک کنال، 13 مرلے اور 7 مرلے کے دو منزلہ مکانات کے ‘سرمئی ڈھانچے’ الاٹ کیے گئے تھے۔ یہ سکیم سی ڈی اے کے ایلیٹ ہاؤسنگ پروجیکٹ پارک انکلیو اور نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ انکلیو کے نزدیک بنائی گئی ہے۔ پی ایچ اے ایف نے روایتی طور پر اپنے اراکین کے لیے کم لاگت کی رہائشی اسکیمیں بنائیں اور یہ پہلا موقع تھا جب اس نے کسی علاقے میں بیوروکریٹس کے لیے بھی اسکیم متعارف کروائی تھی۔
یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ سال 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اسی علاقے میں بااثر بیوروکریٹس کو ’پسندیدہ‘ اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی اور پی ایچ اے ایف کی جانب سے کی جانے والی ’ہیرا پھیری والی قرعہ اندازی‘ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح ایک قرعہ اندازی کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی نے حال ہی میں سینیئر بیوروکریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے وکلا اور جوڈیشل افسران کو پلاٹ الاٹ کیے۔تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے زمین کے متاثرہ مالکان کے علاوہ تمام الاٹمنٹس معطل کردی تھیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے غریب گاؤں والوں کی زمین پر حکمران اشرافیہ کو جگہ دینے کے اقدام کو افسوسناک قرار دیا۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الاٹمنٹ کا جائزہ لیا جائے گا جس میں سول سرونٹس کو ایک سے زیادہ پلاٹ کی الاٹمنٹ آئین کی دفعہ 25 کے تحت غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سال 1996 میں حمید اختر خان نیازی کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے درمیان امتیازی سلوک کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور تعینات افسران کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ ایف جی ای ایچ اے صرف وفاقی حکومت کے ملازمین کو جائے قیام دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین صرف ایک پلاٹ کے حقدار تھے تاہم سال 2006 میں اس وقت کے وزیر اعظم ننے گریڈ 22 کے عہدیداروں کے لیے 2 پلاٹوں کی اجازت دی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی دو پلاٹوں کا دعویٰ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دو نئے سیکٹرز کے لیے ایف جی ای ایچ اے کی قرعہ اندازی کے دوران گریڈ 22 کے 19 بیوروکریٹس کو دو، دو پلاٹ الاٹ کیے گئے جبکہ انہیں پہلے ہی پی ایچ اے ایف اسکیم میں ایک دو منزلہ مکان الاٹ کر دیا گیا تھا، لہٰذا اس طرح ان خوش قسمت بیوروکریٹس نے 3، 3 ہاؤسنگ یونٹس حاصل کرلیے۔

Back to top button