سانحہ پمز : جوڈیشل انکوائری کی درخواست، اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ پمز سے متعلق دائر درخواست پر حکومت سے وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ اور اس پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے وفاق کو کیس میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل قاسم اقبال جلالی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ، ڈپٹی اٹارنی جنرل فیصل عرفان اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سانحہ پمز کو انتہائی خوفناک واقعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ 14 بچوں کی جانیں گئی ہیں،یہ بہت خوفناک واقعہ ہے۔
عدالت نے استفسار کیاکہ اب تک اس معاملے میں کیا کارروائی کی گئی اور ذمہ داری کس پر عائد کی گئی ہے،درخواست گزار کے وکیل قاسم اقبال جلالی نے مؤقف اختیار کیاکہ حکومت کی جانب سے قائم کی گئی دونوں کمیٹیوں میں بیوروکریٹس شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ بیوروکریٹس اپنے ہی محکمے کےخلاف کیسے انکوائری کرسکتےہیں اور ایسی انکوائری کیسے قابل قبول ہوگی،کیونکہ انکوائری رپورٹ میں بھی کسی کی ذمہ داری فکس نہیں کی گئی۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ عدالت کس قانون کے تحت جوڈیشل انکوائری کی ہدایت دےسکتی ہے،انکوائری ایکٹ میں کہاں لکھا ہےکہ عدالت اس حوالے سے ہدایت دےسکتی ہے،وکیل نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے واقعے پر کمیشن تشکیل دیےجانے کی مثال دی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ وہ کمیشن عدالت نے نہیں بلکہ حکومت نے تشکیل دیاتھا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہاکہ اگر کسی معاملے میں عدالت کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کا جائزہ لینے کے لیے اپنے کسی جج کو کہہ سکتے ہیں۔
وکیل قاسم اقبال جلالی نے مؤقف اختیار کیاکہ کوئی بھی اپنی کیے کی انکوائری کا جج نہیں ہوسکتا، سانحے کے حوالے سے پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین نہیں کیاگیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایاکہ واقعے کے روز ہی سیکرٹری صحت کو معطل کیاگیا تھا، جب کہ عبوری رپورٹ کی بنیاد پر پمز کے بعض حکام کو بھی معطل کیاگیا ہے،انہوں نے بتایاکہ موجودہ رپورٹ عبوری نوعیت کی ہے اور مکمل رپورٹ 5 روز میں جمع کرائی جائےگی۔
عدالت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے حوالے سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو عہدے سےہٹانے کے ساتھ ان کی سروسز واپس کی جائیں اور ان کےخلاف ذمہ داری کا تعین کیاجائے۔
وکیل نے عدالت کو بتایاکہ پمز کا سالانہ بجٹ تقریباً 20 سے 22 ارب روپے ہے، اس کے باوجود ایک بیڈ پر 4، 4 بچے زیر علاج ہوتے ہیں،سوال یہ ہےکہ بجٹ کہاں خرچ ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ ان کے خیال میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے،جس پر وکیل نے کہاکہ انہیں عہدے سے تو ہٹایاگیا ہے لیکن ان پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی اور انکوائری رپورٹ میں بھی انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایاگیا۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ اگر حکومت کارروائی کررہی ہےتو کیا اس کے باوجود عدالت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی۔
سماعت ملتوی کرنے سےقبل چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے یہ پوچھ لیتے ہیں کہ ابھی تک ہوا کیا ہے۔
عدالت نے حکومت سے سانحہ پمز کے حوالے سے اب تک کی کارروائی، ذمہ داری کے تعین اور وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاق کو تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
