پنجاب حکومت نظر انداز کر رہی ہے
حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے ایک بار پھر پنجاب حکومت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ فیصلہ سازی میں پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ہے ۔ مسلم لیگ (ق) اور کابینہ میں اس کے وزرا کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے بامشکل تمام متعلقہ قانون سازوں کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اکٹھا کیا تاہم آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے حق سے متعلق اتحادی جماعتوں کے تحفظات پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا تھا جس کی آئندہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اتحادیوں نے شکایت کی کہ انہوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے سے قبل ان سے کوئی رائے نہیں لی گئی تھی ۔ ق لیگ کے جنرل سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے رواں مالی سال کے لیے وفاقی و پنجاب حکومت کے بجٹ پر بھی پارٹی کے تحفظات کا اظہار کیا۔
پرویز الہٰی کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر گفتگو کے ساتھ حکومت پنجاب کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامل آغا نے کہا کہ اتحادی ہونے کے باوجود بجٹ کے دوران حکومت نے صرف اسمبلی کے سپیکر سے بات کی اور تب انہیں ان کی حمایت کی ضرورت تھی۔
پی ایم ایل (ق) کے رہنما نے کہا کہ پارٹی ابھی صرف پنجاب حکومت کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہی ہے اور اگر ان کے تحفظات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ دیگر سیاسی اختیارات کے استعمال کے لیے آزاد ہونگے۔
