پنجاب حکومت کا بین الصوبائی مشروط پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کا بین الصوبائی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا. سپریم کورٹ نے ایک سے دوسرے ضلع جانے کیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے عائد کی گئی کرونا سرٹیفکیٹ کی پابندی کی شرط بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ختم کر دی ہے۔
کورونا وائرس کے باعث ہسپتالوں میں عدم سہولیات کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الاضلاعی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا ہے۔ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ایک ضلع سے دوسرے میں جانے کیلئے کرونا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، پنجاب حکومت یہ پابندی کیسے لگا سکتی ہے؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آرڈیننس 2020ء کے ذریعے پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کس حکم کے تحت یہ پابندی لگائی گئی؟ آرٹیکل 15 وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے بین الصوبائی سفر کے لیے کورونا سرٹیفکیٹ کی پابندی کی پنجاب حکومت کی شرط کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنجاب یا کوئی دوسرا صوبہ آئینی طور پر شہریوں پر ایسی کوئی پابندیاں عائد نہیں کر سکتا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری ایک حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ایک سے دوسرے ضلع جانے کے لیےکرونا مریضوں کا ٹیسٹ منفی ہونا ضروری ہو گا جب کہ صوبے میں دوسرے اضلاع میں جانے کے لیے باقی افراد دفعہ 144 کے نفاذ پر عملدرآمد کریں۔
