پنجاب حکومت کا فرح گوگی کا بچھایا نیٹ ورک توڑنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح خان گوگی کی جانب سے سول اور پولیس بیوروکریسی میں بچھایا ہوا نیٹ ورک توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سینکڑوں افسران کی لسٹیں تیار کرلی گئی ہیں جنہیں بزدار دور میں اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت خفیہ ایجنسیاں فرح گوگی کے تعاقب میں ہیں اور اس کے ذرائع آمدن اور بزنس پارٹنر کا کھوج لگانے میں مصروف عمل ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے پہلے ہی فرح کو بیرون ملک سے واپس لا کر اس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب فرح گوگی کے دفاع میں اب تک عمران خان کے سوا کوئی شخص سامنے نہیں آیا کیونکہ فرح کو انکی اور بشری بی بی کی فرنٹ پرسن قرار دیا جاتا یے۔
یاد رہے کہ فرح خان کے علاوہ فرحت شہزادی اور دیگر کئی پہچانوں سے جانا جانے والا یہ نام اب کسی شناخت کا محتاج نہیں۔ معروف تحقیقاتی صحافی شکیل انجم کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگی کے نام کا شہرہ سرحدوں کو عبور کر چکا ہے اور اقتدار کے ایوانوں سے قرابت داری کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں اپنی پہجان آپ ہے۔ بتایا جاتا رہا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تحقیقاتی ادارے ان پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے فرح گوگی کے ذریعے منفعت بخش مراتب اور منصب حاصل کیے۔ بتایا جاتا ہے کہ بزدار دور میں پنجاب میں سول اور پولیس بیورو کریسی میں زیادہ تر تعیناتیاں پیسوں کے عوض ہوئیں جو فرح گوگی اور اس کا شوہر احسن جمیل گجر وصول کرتے تھے اور بعد میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ شکیل انجم کے مطابق افسران کی لسٹیں تیار کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی سینکڑوں افسران نے اپنے نام نکلوانے اور معاملات رفع دفع کروانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے ہیں۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ بزدار دور میں یہ سارا گندا دھندہ انتہائی رازداری کے ساتھ گوگی نامی فرنٹ ویمن کے ذریعے کیا جاتا رہا، اس لئے ہدف کے حصول میں دشواری کا سامنا رہا کیونکہ نہ تو وہ شخص سامنے آتا تھا جس نے مطلوبہ رشوت ادا کی ہو اور نہ ہی وہ جسکے ذریعے ادائیگی ہوئی ہو۔ تاہم اب سراغرساں ادارے اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
شکیل انجم کے مطابق ابتدائی مرحلے میں جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں شامل پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کے تبادلوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض فرنٹ مینوں سے کافی معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ بزدار دور میں اچھی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے ویسے تو فرح گوگی سے رابطہ دشوار نہیں تھا لیکن اسکا ایک فرسٹ کزن اسکے اور "درخواست گزار” کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا، اسے اب تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ایجنسیاں اس بارے میں بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کس کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے ان افسروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ کے نوٹیفیکیشنز جاری کرتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے تمام احکامات اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کی بجائے وزیر اعظم سیکرٹیریٹ سے آیا کرتے تھے کیونکہ فرح گوگی زیادہ تر بنی گالہ کے وزیراعظم ہاؤس میں بشریٰ بی بی کے ساتھ قیام پذیر ہوا کرتی تھیں۔ایجنسیاں جن پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں لگی ہوئی ہیں ان میں اکثریت سنٹرل اورجنوبی پنجاب سے ہے۔
