اپنی چھٹی کا الزام امریکہ پر لگانے والا اب فوج پر کیوں حملہ آور؟

معروف خاتون صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی کنفیوژڈ سیاست کا یہ حال ہے کہ کل تک اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار امریکی سازش کو قرار دینے والے سابق وزیر اعظم نے اب اپنی بے دخلی کا الزام فوجی قیادت پر لگاتے ہوئے اسے میر جعفر اور میر صادق سے تشبیہہ دینا شروع کر دی ہے۔ نسیم زہرہ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ لگتی تو یہ کل کی بات ہے پر آٹھ برس پہلے تحریک انصاف نے تقریبا ڈیڑھ سو دن کا دھرنا دیا اور یہ الزام لگایا کہ 2013 کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے جنکی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے۔آخر کار حکومت وقت نے پی ٹی آئی کا مطالبہ تسلیم کر لیا سعر ایک معاہدے کے تحت عدالتی کمیشن بھی بنا دیا گیا جس کی صدارت جسٹس ناصرالملک کر رہے تھے۔ اس کمیشن کی تشکیل نے وقتی طور پر انتہا کی سیاسی کشیدگی کو کم ضرور کیا تھا۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ اب عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش کا نتیجہ قرار دیے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر حکومت وقت نے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جو اس الزام کی تحقیقات کرے گا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے 5 مئی کو اعلان کیا کہ ایک آزاد اور معتبر شخصیت کی سربراہی میں یہ کمیشن فوری طور پر بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ سے اس کے ٹی او آرز یا خدوخال کی منظوری دلوانے کی دیر ہے، یہ کمیشن کام شروع کر دے گا۔ لیکن کمیشن کے حوالے سے بہت سارے سوالات ہیں جن میں سے دو اہم ترین ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ کیا کمیشن کا سربراہ موجودہ سپریم کورٹ کا جج ہوگا جیسے کہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے اور نمبر دو یہ کہ کیا کمیشن ان ٹی او آرز کے مطابق کام کرے گی جن کا اعلان پی ٹی آئی کی حکومت نے 6 اپریل کو کیا تھا۔ ان ٹی او آرز میں امریکہ کے حکومت کی تبدیلی کی سازش میں ملوث ہونے کا تعین، مقامی مبینہ ہینڈلرز کی نشاندہی اور پی ٹی آئی کے منحرف پارلیمانی اراکین کی امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتوں کی تحقیقات جیسی شرائط بھی شامل تھیں۔
یاد رہے کہ عمران کے 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد ہارنے سے دو روز پہلے تب کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کمیشن کا سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طارق خان کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی۔ نسیم زہرہ کے مطابق اس مبینہ سازش کا قصہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اس کیبل سے جوڑا جو پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر اسد مجید خان نے 7 مارچ کو اپنی حکومت کو بھیجا تھا۔ اس میں انہوں نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری ڈونلڈ لو سے اپنی الوداعی ملاقات کا خلاصہ بھیجا تھا جو کہ ان کی اپنی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں امریکی حکام نے ان کے خلاف سخت بیان داغے گئے، مثال کے طور پر یہ کہا گیا تھا کہ اگر عمران تحریک عدم اعتماد میں ہار جائیں گے تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہ بچ گے تو ان کو اکیلا کر دیا جائے گا۔ بقول عمران، امریکی عہدے دار نے انکے روس جانے پر بھی ناراضگی سے مطلع کیا تھا۔ غرض کے اس ٹیلی گرام میں بقول خا صاحب سفارتی سطح پر پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں کھلی مداخلت کی گئی۔ لیکن دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید خان نے تردید کی کہ انہیں امریکی حکام نے ملاقات میں عمران خان یا پاکستان کے حوالے سے کوئی براہ راست دھمکی دی تھی۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اسد مجید خان کی جانب سے لکھا گیا خط پاکستانی حکومت کو 7 مارچ کو موصول ہو گیا تھا لیکن عمران نے اسے 27 مارچ کو پبلک کیا تاکہ تحریک عدم اعتماد کو کاونٹر کیا جا سکے۔
اس کے بعد کے معاملات خاص پیچیدگی اختیار کر گئے جب عمران حکومت نے پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید کی کیبل میں مداخلت کی باتوں کو حکومت میں تبدیلی کی سازش کے ثبوت بنا کر پیش کیا۔ پی ٹی آئی، اس کے حامی اور پاکستان میں بہت سے لوگ جو تاریخی طور پر امریک کے ساتھ تعلقات کو ناانصافی، دوہرے معیار اور دھوکے کی بھرمار مانتے ہیں، وہ سب پی ٹی آئی کی امریکی سازش کے بیان کو صحیح سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے عمران کے حق میں کھڑے ہو گئے ہیں۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت عمران کی سیاست کا اہم محور امریکی سازش اور اس کے نتیجے میں ’امپورٹڈ‘ حکومت کا قیام تھا، لیکن اب عمران خان نے بیرونی سازش کا بیانیہ بدلتے ہوئے اندرونی سازش پر فوکس کر لیا ہے اور اس کے کرداروں کو میر جعفر اور میر صادق کا نام دے دیا ہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے عمران خان بار بار اپنے جلسوں میں میں سراج الدولہ کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اسے شکست اس لیے ہوئی کے اس کے سپہ سالار میر جعفر نے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان امریکی سازش کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہوئے یا فوج کے نیوٹرل ہو جانے کی وجہ سے، کیونکہ وہ اب تک ایک ہی بیان دہرائے چلے جا رہے ہیں کہ نیوٹرل تو صرف جانور ہوتا ہے۔
تاہم نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر امریکی سازش کا الزام پاکستانی سیاست، ریاست اور پاور پلے کا سب سے اہم سوال بن گیا ہے۔ اب گھروں میں، سڑکوں پر، دکانوں میں اور اہم مقامات پر بھی یہی ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ مہنگائی عام شہریوں کی جیبوں اور پیٹ پر بہت بھاری ثابت ہو رہی ہے لیکن لگتا ہے کہ شہروں میں بسنے والوں اور سوشل میڈیا کے ہتھے چڑھے شہروں میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے جذبات یقینی طور پر مبینہ امریکی سازش کے سوال کو اپنا ایک اہم محور بنائے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو فوری طور پر اس الزام کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینا چاہیے۔ عمران خان پہلے ہی صدر پاکستان اور چیف جسٹس سے 29 اپریل کو لکھے ایک خط کے ذریعے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ فوری طور پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ چونکہ چیف جسٹس نے ابھی تک یہ قدم نہیں اٹھایا لہذا لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں کیوں کہ انہیں مایوسی کا سامنا ہے۔ کورٹ سے مایوسی کا معاملہ عمران متعدد بار اٹھا چکے ہیں، خاص طور پر جب سپریم کورٹ نے آئینی معاملات کو دیکھتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف فیصلہ دیا۔ لہذا ضروری ہے کہ عمران کے بیانیے کو کاؤنٹر کرنے کے لیے شہباز حکومت فوری طور پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے۔
