پنجاب سے بلامقابلہ انتخاب پر ناراض MPAs ہاتھ ملتے رہ گئے


پنجاب میں تمام گیارہ سینیٹرز کے بلامقابلہ انتخاب کے بعد جنوبی پنجاب کے ناراض ایم پی ایز کا عثمان بزدار مخالف فارورڈ بلاک اور ن لیگ سے بے وفائی کرنے والے لوٹوں کا گروہ نہ گھر کا رہا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا چونکہ اب اگلے ڈھائی برس نہ حکومت کو ان کی مدد کی ضرورت پڑنی ہے اور نہ ہی نون لیگ والوں کو۔
پنجاب سے بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہونے سے حکومت اور اپوزیشن کے ناراض اراکین کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ہے جو دونوں اطراف کی سینیٹ الیکشن میں اپنی حمایت کا یقین دلارہے تھے۔ اس طرح پنجاب میں ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کا دروازہ بھی بند ہوگیا ہے جس سے تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے اراکین اور ن لیگ سے بیوفائی کرنے والے لوٹوں کی سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے۔
پنجاب میں سینٹ کے بلامقابلہ انتخاب کی اندرونی کہانی کے مطابق سپیکر اسمبلی پرویز الہٰی نے اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی نے عطاء اللہ تارڑ کے ذریعے ن لیگی قیادت سے رابطہ کیا، پرویزالہٰی کا سابق صدر آصف زرداری سے بھی فون پر رابطہ ہوا تھا جس میں متناسب نمائندگی کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے اضافی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لئے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ پرویزالہٰی کے رابطے کے بعد پیپلز پارٹی نے پنجاب سے اپنا امیدوار واپس لیا، اور ن لیگی قیادت نے بھی زائد امیدواروں کے کاغذات واپس لے لیے۔ یوں پنجاب میں تمام جماعتوں کے امیدوار اپنی پارٹی کی عددی تعداد کے حساب سے بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے۔
چنانچہ 25 فروری کو الیکشن کمیشن پنجاب نے اعلان کر دیا کہ ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشستوں پر تمام جماعتوں کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ الیکشن کمیشن پنجاب کے مطابق اعظم نذیر تارڑ، سید علی ظفر، ڈاکٹر زرقا، سعدیہ عباسی بھی کامیاب قرار پائی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق عظیم الحق منہاس اور سیف الملکوک کھوکھر نےکاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ساجد میر، عرفان الحق صدیقی، اعجاز چودھری، عون عباس، کامل آغا بھی کامیاب قرار دیئے گئے ہیں۔ سیف اللّٰہ سرور نیازی بھی پنجاب سے بلا مقابلہ سینیٹر کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ مشاہد اللّٰہ مرحوم کے بیٹے افنان اللّٰہ خان بھی سینیٹر کامیاب قرار پائے ہیں۔
بلامقابلہ منتخب ہونے والوں میں پروفیسر ساجد میر مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کے دیرینہ ساتھی ہیں، وہ پانچویں بار سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی سعدیہ عباسی پہلے بھی ایم این اے رہ چکی ہیں، وہ دہری شہریت کے باعث سینیٹ رکنیت سے نااہل قرار پائی تھیں۔ واضح رہے کہ سعدیہ عباسی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ ہیں۔ پروفیسر عرفان صدیقی صحافی سابق صدرپاکستان جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق تارڑ کے پریس سیکرٹری اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے معاون خصوصی بھی رہ چکے ہیں۔ عرفان الحق صدیقی میاں نوازشریف کے قابل اعتماد ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ افنان اللہ سابق وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ کے صاحبزادے ہیں جن کا سینیٹ کے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد انتقال ہوگیا تھا۔
مسلم لیگ ن کے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر منتخب ہونے والے بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ کا تعلق حافظ آباد کے سیاسی گھرانے سے ہے، وہ سابق وفاقی سیکرٹری اخلاق احمد تارڑ کے کزن اور پلاسٹک سرجن معظم نذیر تارڑ کے بھائی اور سابق وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ شریف برادران کے کیسوں کی پیروی بھی کررہے ہیں۔ کمبوہ برادری سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما انجنیئر اعجاز احمد چودھری سابق امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کے داماد ہیں۔ سیف اللہ نیازی تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر ہیں جبکہ بیت المال کے چیئرمین عون عباس بپی پی ٹی آئی کے متحرک عہدیدار اوروزیراعظم عمران خان کے وفادار ساتھی ہیں۔ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہونے والے بیرسٹر سید علی ظفر سابق وزیر اور قانون دان ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں وہ بھی نگران دور میں وزیر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور پیشے کے اعتبار سے کاسمیٹک ڈرماٹالوجسٹ اور پی ٹی آئی شعبہ خواتین کی کی متحرک کارکن ہیں۔ مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا پہلے بھی ق لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوچکے ہیں وہ مسلم لیگ ن کے دور میں ڈپٹی میئر لاہور بھی رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button