سینٹ الیکشن PDM اور PTI کے لیے زندگی اور موت کی جنگ کیوں؟

تین مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں سائڈز نے اس الیکشن کو سیاسی زندگی اور موت کی جنگ بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے نتائج حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اس لئے اہمیت رکھتے ہیں کہ اگر حکومت وقت کا پلا بھاری رہتا ہے تو اپوزیشن کی احتجاجی تحریک دم توڑ جائے گی اور اگر اپوزیشن کا پلا بھاری رہتا ہے تو پھر حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کو ایک نیا جوش اور ولولہ مل جائے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر اگر سینٹ الیکشن کے رزلٹ اپوزیشن کی توقعات کے مطابق آئے تو پھر فوری طور پر ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی جسکے بعد دوسرے مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ لہذا حکومت نے سینیٹ الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کو بھی گھسیٹ لیا ہے تاکہ خفیہ رائے شماری کی صورت میں کہیں اپوزیشن فائدہ نہ اٹھا لے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں اپوزیشن کی بہتر کارکردگی دکھانے کے امکانات اس صورت میں روشن ہوجائیں گے جب سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں ہوسکتے اور آئین کے مطابق انہیں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔دوسری جانب حکومت کو امید ہے کہ سپریم کورٹ سینٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سسٹم کے تحت کروانے کے لیے اسے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور فراہم کرے گی۔ تاہم اپوزیشن کے حلقوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح تو کرسکتی ہے لیکن آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی اور اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سسٹم کے تحت کروانا ہیں تو اس کے لئے ایک آئینی ترمیم درکار ہے جو کہ سپریم کورٹ نہیں کر سکتی۔ اپوزیشن حلقوں نے یاد دلایا کہ سینیٹ الیکشن پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے آخری روز چیف جسٹس گلزار احمد نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر آئین میں سینٹ کا الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے طے ہے تو وہ اسے تبدیل نہیں کر سکتے کیوں کہ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا اختیار ہے، سپریم کورٹ کا نہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات پر توجہ مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان 25فروری کو جاتی امرا میں ہونے والی ملاقات کے دوران ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے والی پیش رفت، سینیٹ انتخابات اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت مخالف تحریک پر مشاورت ہوئی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے محفوظ کر لی ہے۔ اسی روز الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیا۔ دونوں جماعتوں کی قیادت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ انہیں ہر صورت اسلام آباد کی سیٹ پر وزیراعظم کے امپورٹڈ امیدوار حفیظ شیخ کو ہروانا ہے اور اپوزیشن کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو جتوانا یے۔
اس معاملے پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب بھی اپوزیشن اکٹھی ہوتی ہے تو اِس کا کچھ نہ کچھ مطلب ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں رہنما آپس میں اتحاد کو مضبوط کرنے اور اختلافات ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔سہیل وڑائچ کے بقول دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تھی اور اب سینیٹ الیکشن ایک اہم سیاسی ہدف بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ این اے 75 سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایک اچھا، انتظامی اور سیاسی فیصلہ ہے۔ جس سے نہ صرف الیکشن کمیشن کی سمت درست ہو گی بلکہ آئندہ سب کو تنبیہہ ہو جائے گی کہ جس الیکشن میں دھاندلی ہوئی اسے الیکشن کمیشن کالعدم بھی قرار دے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس سے متعلق سوال پر سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جو آئین میں لکھا ہے اُسی کو دوبارہ دہرایا ہے۔ان کے بقول جس طرح سے حکومت اور صدرِ پاکستان نے اپنا بوجھ سپریم کورٹ تک منتقل منتقل کیا، اسی طرح سپریم کورٹ نے بھی بڑی خوبصورتی سے اس بوجھ کو دوبارہ پارلیمنٹ تک منتقل کرنے جا رہی ہے۔
دوسری طرف تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی یہ کوشش ہے کہ حکومت پر ایک طرف سیاسی دباؤ برقرار رکھا جائے اور دوسری طرف سینیٹ انتخابات میں کوئی سرپرائز سامنے لے آئیں۔نسیم زہرہ کے مطابق سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار پر خفیہ رائے شماری ہو گی یا سب کے سامنے ہو گی۔ان کے بقول "پی ڈی ایم نے اپنا راستہ کچھ تبدیل کیا ہے۔ وہ بائیکاٹ اور استعفوں سے ہٹ گئے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد اب موجودہ سسٹم کے ذریعے ہی سیاست کو متحرک کیے ہوئے ہے۔نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ "ایک طرف حمزہ شہباز کو ضمانت ملی تو دوسری طرف آصف زردای کے مقدمات بھی کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔ تو کسی حد تک حزبِ اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں کو ریلیف تو مل رہی ہے۔”
دوسری طرف مریم اور بلاول کے درمیان ملاقات کو سینیٹ انتخابات کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے دعوے بھی کیے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا مقصد ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کرنا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حیثیت میں کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے۔
بلاول کے بقول اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی جیت سے ثابت ہو گا کہ پارلیمنٹ بھی پی ڈی ایم کے ساتھ ہے اور حفیظ شیخ سے گیلانی کا مقابلہ ہمارا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت عدم اعتماد کا کھیل نہیں کھیل رہے بلکہ سینیٹ انتخابات پر توجہ مرکوز کیے رکھے ہیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم لانگ مارچ کریں گے اور مل ہی کر یہ فیصلہ کریں گے کہ اس حکومت کو کیسے ہٹانا ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں ‘غیر منتخب’ حکومت نے تین سال میں عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو جمہوریت پسند لوگ چاہتے ہیں۔ آئین میں تبدیلی پارلیمان نے لانی ہے اور ان کی جماعت ‘جعلی حکومت’ کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت سے متعلق ایک سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ آئینی مدت پوری کرنے کا فارمولہ منتخب حکومت پر لاگو ہوتا ہے کسی چنتخب حکومت پر نہیں۔
ان حالات میں اب دیکھنا یہ ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں اپوزیشن اتحاد حکومت کو نیچا دکھاتا ہے یا حکومت اپوزیشن کو نیچا دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔
