پنجابی TLP سے معاہدہ ، کیا بلوچ اور پشتون دشمن ہیں؟
پاکستانی ریاست کی جانب سے تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس سے معاہدہ کرنے کے بعد یہ تاثر عام ہے کہ اگر ٹی ایل پی کا تعلق پنجاب سے نہ ہوتا اور اگر یہ پشتون تحفظ موومنٹ یا بلوچستان لبریشن موومنٹ جیسے کوئی عوامی تحریک ہوتی تو طاقت ور فیصلہ ساز کبھی بھی اس پر اتنے مہربان نہیں ہوتے جتنا کہ پنجاب کی اس جماعت پر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ ریاست نے چھٹی مرتبہ معاہدہ کیا ہے اور یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی شدت پسند پاکستانی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد اسی کے دباؤ میں آتے ہوئے عائد کردہ پابندی ختم کی گئی ہو۔ یہ بھی کوئی اتفاق نہیں کہ تازہ معاہدے میں سب سے اہم کردار پنجاب کی طاقت ور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہے اور اس وقت ملک کا وزیراعظم بھی ایک پنجابی ہے، جبکہ تحریک لبیک بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے جس کا ہیڈکوارٹر صوبائی دارالحکومت لاہور میں واقع ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ میں اس تازہ ترین معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے بچوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب والدین کسی ایک بچے کو کوئی چیز خرید کر دیتے ہیں تو دوسرے بچے فوراً یا تو وہی یا اس جیسی چیز کی فرمائش کرتے ہیں۔ ماں باپ کے سامنے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ والدین جو بھی بہانہ کریں بچوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے: آپ مجھ سے اتنا پیار نہیں کرتے جتنے بھائی یا بہن سے کرتے ہیں۔
بڑے اگر ایسی شکایت کریں تو والدین اسے emotional blackmail کا نام دیتے ہیں لیکن بچے اسے امتیازی سلوک ہی کہتے ہیں اور بعض اوقات اس رویے کو لے کر والدین سے باغی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ریاست بھی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ہماری حکومت نے کئی سالوں سے یہی رویہ اپنایا ہوا ہے کہ ملک کے ایک خطے میں تو ’ملک دشمن عناصر‘ سے مذاکرات ہوتے ہیں، کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو رہا کیا جاتا ہے اور ان پر حکومت کا دست شفقت بار بار دیکھنے میں آتا ہے لیکن بلوچستان جیسے چھوٹے صوبے میں وہی پالیسی نہیں اپنائی جاتی۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں جاری شورش کو اب 20 سال ہونے کو ہیں۔ اس تمام عرصے میں اسلام آباد نے پاکستانی طالبان کے ساتھ کئی مرتبہ مذاکرات کیے اور انہیں تمام ملک دشمن کارروائیوں کے باجود بار بار موقع دیا۔ اب پھر سے یہ اطلاعات ہیں کہ ریاست پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ایک اور امن معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں گرفتار ہونے والے جنگجوؤں کو رہا کر دیا جائے گا۔
لیکن بلوچستان کے قوم پرست عسکریت پسندوں بارے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نرم رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں اور بدستور اس بات پر بضد ہے کہ ’ملک دشمن بلوچ عناصر‘ سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس دوران صوبہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔ پچھلے دنوں حکومت نے ایک جھڑپ میں 14 بلوچ ’شرپسندوں‘ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ تمام ماورائے عدالت ہلاکتیں تھیں جن کا کوئی جواز نہیں تھا اور نہ ہی ایسی کارروائیوں سے صوبے میں امن و امان قائم کیا جاسکتا ہے۔
ماضی میں بلوچستان پر بننے والی کمیٹوں یا امن قائم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف سب سے تیزی سے اور بری طرح ناکام ہوئی۔ البتہ ایسی جارحانہ پالیسی کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب ایک آبادی پر کئی سالوں تک فوج کشی ہو اور وہاں حکومتی مظالم بدستور جاری رہیں وہاں لوگوں کے دل سے حکومت کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ تشدد کے عادی ہو جاتے ہیں اور خون خرابہ روز مرہ کا معمول بن جاتا ہے جو کہ کسی بھی خطے کے امن کی لیے نیک شگون نہیں ہے۔
حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان حال ہی میں جو معاہدہ ہوا اسے اب پوشیدہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ تو پوری قوم کے سامنے ہے۔ یاد رہے کہ ایک درجن سے زائد پولیس والوں کی ہلاکت کے بعد اپریل 2021 میں لبیک کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن اب وفاق نے یہ پابندی پنجاب حکومت کی سفارش پر ختم کر دی ہے اور لبیک کو ملک بھر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا قانونی جواز مل گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پابندی لگانے والوں نے پہلے لبیک کو بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی دہشت گرد‘ قرار دیا تھا لیکن پھر ایک ہفتہ بعد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ حکومت نے یہ سوچنے کی بھی زحمت تک نہیں کی اس اقدام سے ان پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ پر کیا گزرے گی جو انہی مظاہرین کے ہاتھوں جان سے گئے۔
حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے نے ایک بار پھر یہی سوال اٹھایا ہے کہ اگر ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں سے صلح کر سکتی ہے تو پشتون تحفظ موومنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسی قوم پرست تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے؟ اسی لیے چھوٹے صوبوں میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ اگر ٹی ایل پی کا تعلق پنجاب سے نہ ہوتا اور اگر یہ پی ٹی ایم یا بی ایل اے جیسی کوئی عوامی تحریک ہوتی تو شاید پنجابی فوجی اسٹیبلشمنٹ اس پر اتنی مہربان نہ ہوتی جتنا کہ وہ پنجاب کی جماعت پر بار بار ہوئی ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مقتدر حلقوں کو چھوٹے صوبوں میں جاری مظاہروں سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی کہ پنجاب کی شاہراہوں کی بندش سے ہوتی ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ تحریک لبیک کو دی جانے والی مثالی معافی سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ریاست چاہے تو کسی بھی شدت پسند تنظیم اور اسکے قائدین کا کوئی بھی گناہ معاف کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے شاید اس کا تعلق پنجاب سے ہونا ضروری ہے۔
