پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ مار کا نوٹس لے لیا

تمام نجی اسپتالوں کے ریٹس غیرمعینہ مدت کیلئے فکس کردیے گئے، تمام نجی اسپتالوں کو ریٹس آویزاں کر نے کا حکم دے دیا، نجی اسپتال فروری 2020ء والے ریٹس نہیں بڑھا سکتے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ مار کا نوٹس لیتے ہوئے تمام نجی اسپتالوں کے ریٹس غیرمعینہ مدت کیلئے فکس کردیے گئے۔
جس کے تحت نجی اسپتال فروری 2020ء والے ریٹس نہیں بڑھا سکتے۔ایچ ڈی یو، آئی سی یو، ایکٹیمرا انجکشن کے ریٹس بھی آویزاں کیے جائیں۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ نجی اسپتال اپنے تمام ریٹس ویب سائٹ پر بھی جاری کریں۔ واضح رہے نجی اسپتالوں نے کورونا وباء کے پھیلاؤ او ر کیسز میں اضافے کے ساتھ ہی یومیہ فیس 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ 50 تک کردی ، جس پر مریضوں کے لواحقین نے حکومت سے شکایت کی اور میڈیا کے شور مچانے پر ہیلتھ کیئر کمیشن نے ایکشن لیا ، نجی اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے ریٹس وہی وصول کریں تو طے شدہ ہیں۔
اس سے اضافی ریٹ یا کسی بھی میڈیسن کی قیمت اضافی وصول کرنے پر کاروائی کی جائے گی۔ خیال رہے پاکستان اکانومی واچ کے صدراورایف پی سی سی آئی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے انشورنس کے کنوینر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ حکومت پلازمہ مافیا کی لوٹ مار کا نوٹس لے۔بہت سے نجی اسپتال اورلیبارٹریاںاس دھندے میں ملوث ہیں جن کے خلاف کاروائی کی جائے۔
ڈاکٹروں کی اکثریت انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے وہیں انکی صفوں میں موجودکالی بھیڑیں لوٹ مار کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہیلتھ مافیا اورفارما مافیا پہلے ہی ناجائز کمائی کے لئے سرگرم تھیں اور اب پلازمہ مافیا کا ناجائز دھندہ بھی عروج پر پہنچ گیا ہے۔ مافیا کے ایجنٹ بہت سے اسپتالوں میں سرگرم ہیں جو کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والی مریضوں سے پلازمہ حاصل کر کے دیگر مریضوں کو انتہائی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پلازمہ تھراپی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں مگر ابھی تک حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔
