پولیس نے چالان پروسیکیوشن برانچ میں جمع کروادیا

لاہور کے علاقے چوہنگ میں ماں اور بیٹی سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرکے چالان پروسیکیوشن برانچ میں جمع کرادیا ہے۔
پولیس نے چالان میں دو ملزمان عمر فاروق اور منصب کو نامزد کیا ہے جبکہ چالان میں گواہوں کی فہرست بھی شامل کی ہے۔
چالان کا جائزہ لینے کے بعد اسے انسداد دہشت گری عدالت بھجوایا جائے گا جہاں ٹرائل کا آغاز ہوگا۔
سرکار کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو ٹرائل مکمل کرائیں گے جبکہ ملزمان کے خلاف ٹرائل آئندہ ہفتے شروع ہوگا۔
28 اگست کو متاثرہ ماں بیٹی نے مقدمے میں نامزد ملزمان کی شناخت کر لی تھی، شناخت پریڈ مکمل ہونے کے بعد تھانہ چوہنگ کے انسپکٹر محمد سرور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا تھا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ مکمل کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب میڈیکل رپورٹ میں دونوں ماں بیٹی سے گینگ ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ملزمان کے خلاف خاتون کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ کی سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق 35 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور ان کی بیٹی اتوار کی رات 10 بجے بس کے ذریعے وہاڑی سے لاہور پہنچی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آفیسرز کالونی، صدر کنٹونمنٹ بورڈ میں اپنی بہن کے گھر جانے کے لیے ٹھوکر بس ٹرمینل سے سبز کلر کا رکشہ کرایے پر حاصل کیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ رکشہ ڈرائیور جبکہ رکشے میں موجود ایک اور شخص انہیں ایل ڈی اے ایونیو میں سنسان جگہ پر لے گئے جہاں انہوں نے ماں اور بیٹی کا ریپ کردیا۔
متاثرہ خاتون نے کہا تھا کہ گاڑی کی لائٹ دیکھ کر دونوں نے شور مچایا جو ان کے قریب آکر رک گئی جبکہ رکشہ ڈرائیور اور دوسرا ملزم رکشہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان ان کا موبائل اور 5 ہزار نقدی بھی لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی چیخیں سن کر کسی نے پولیس کو کال کی جو کچھ دیر بعد جائے وقوع پر پہنچی۔
واقعے کے اگلے دن ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی شناخت رکشہ ڈرائیور عمر فاروق اور منصب کے نام سے ہوئی تھی۔
